شاه رخ خان کی فلم کا تین منٹ اکتیس سیکنڈ کا یہ کلپ آپکے لیۓ بُہت قیمتی ہے!!!
اس وقت مُلک میں الیکشن ھونے والے ہیں اپنی نسلوں کی بقاء اور مُلک کی ترقی کی خاطر ووٹ کا استمال بُہت سوچ سمجھ کر کیجیۓ گا خاندانی سیاست کا سلسلہ بند ھوناچاہیۓ!!!
ووٹ کو عزت دو!!!!
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسا انوکھا سکول بھی ہے جہاں داخلہ لینے کے لیے آپ کو امتحان میں ٹاپ کرنے کی نہیں بلکہ دو سے تین بار فیل ہونے کی ضرورت ہے۔
فلم تھری ایڈیٹس اسی شخص کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام "سونم جی" ہے اور اس تعلیمی ادارے کا نام "Students Educational and Cultural Moments of #LADAKH"
سونم نے سوچا کہ جو 25 فیصد بچے فیل ہو جاتے ہیں ان کے لیے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہی کوئی تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ اس ادارے میں مختلف سکولوں سے " نالائق " کہہ کر دھتکار دیے جانے والے بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس سکول کو یہ بچے خود ہی چلاتے ہیں۔ ہر دو مہینے بعد الیکشن ہوتے ہیں اور باقاعدہ ان بچوں میں سے ہی ایک کو منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے ماتحت ایک ٹیم تشکیل دے کر ذمے داریاں سونپ کر " لیڈر" کا کردار ادا کرتا ہے۔
لداخ #India کا ایک ایسا علاقہ جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہوتا ہے وہیں اس سکول کے اندر 15 ڈگری درجہ حرارت ہوتا ہے۔ یہ پورا سکول سولر سسٹم پر چلتا ہے۔ کوئی بچہ سولر سسٹم کی لیڈر شپ قبول کرتا ہے کوئی جانوروں کی کوئی کھیتوں کی اس طرح ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں کام سونپ دیے جاتے ہیں۔ یہاں ہر بچے کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بچے نت نئی ایجادات کرتے ہیں مختلف میدانوں میں اپنا آپ منواتے ہیں اور پھر ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
یہ شخص کہتا ہے لداخ جیسے علاقے میں جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہے وہاں ایک بچے کو "ایف" فار فین کیسے اور کیوں پڑھایا جائے ؟ اسے یہاں پہاڑی علاقے کی مناسبت سے یہاں کے ماحول کے مطابق ہی چیزیں سمجھ آسکتی ہیں۔ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں ؟ روز مرہ زندگی میں کتنے موضوعات ہیں جن کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہمارے نصاب میں شامل ہیں ؟ خود اندازہ لگا لیجیے ہم اتنے پیچھے کیوں ہیں ؟
نفسا نفسی کی اس دنیا میں جہاں ہر شخص اور ادارہ ٹاپ کرنے اور ٹاپر پیدا کرنے میں مصروف ہے وہیں ایسے عظیم لوگ بھی موجود ہیں جو کچھ ایسا کر رہے ہیں جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔
ایسا شخص جس کی توجہ کا مرکز وہ پچانوے فیصد بچے تھے جو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اپنے نظریات اور انقلابی سوچ کے ساتھ اپنے حصے کی کوشش کرنے والےاس شخص نے #India کے سرکاری سکولوں میں بچوں کو وہی معیار وہی تعلیم پہنچا دی جو صرف پانچ فیصد #American طرز سکولوں میں مہیا کی جاتی تھی۔
اور ہمارے ہاں ؟ سرکاری سکولوں میں اگر نظام تعلیم کو بہتر بنایا گیا تو پرائیویٹ سکولوں میں اپنے اربوں روپے انویسٹ کرنے والے طاقت ور لوگوں کا دیوالیہ ہو جائے گا۔
ہر بچہ اپنے آپ میں ایک پوری کائنات ہے۔ اس کے اندر مختلف صلاحتیں موجود ہوتی ہیں ہر بچہ قدرتی طور پر کسی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت ، صلاحیت اور ٹیلنٹ کو دریافت کرنے اور پالش کرنے اہم کردار والدین اور ٹیچرز کا ہوتا ہے یہ تبھی ممکن ہے جب تعلیمی ادارے تجارتی منڈیوں میں تبدیل نہ ہوں ۔
ہمارے ہاں بھی ایسا ممکن ہے۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں یہاں بھی امید زندہ ہے۔ ہم آج بھی اپنے بچوں کو " نوکری حاصل کر کے نوکر بننے کی سوچ سے آزاد کر دیں تو وہ مستقبل میں نوکریاں دینے والے بن سکتے ہیں۔ اپنا ٹیلنٹ دریافت کر سکتے ہیں۔
#ابو_عبيدة #Lahore #Cheating
#ImranRiazKhan #Taliban
#SheikhRasheed #Dubai #Cabada
#Balochistan #AlShifaHospital #IsraelIsATerrorist #Islamabad
مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعة الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔
ہر لیکچر کے آخر میں کانفرنس کے شرکا علماء سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے
جو بچپن سے میرے دل میں تھے
اور عالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے
ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دے رہے تھے۔
ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا
جس کی بنیاد پر میرے علاقے کے مولانا نے محمود صاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔
میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے
اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کا جواب دیا۔
اب میری بھی ہمت بڑھی
میں نے پوچھا
جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے
جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے
تو میں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔
پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے
قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں
ایک مُحکمات
اور دوسرے مُتشابہات۔
ضروری ہے کہ مُتشابہات کو مُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے
جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے
ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات و مُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا
اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔
اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ *جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے*
*اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے*۔
*جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے*۔
انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے
جس کا مطلب ہے کہ *انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے*۔
میں نے پھر بودا سا سوال کیا کہ
میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔
کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا
پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ
*اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں*۔
میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ
یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں
اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔
اس پر پروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی
*اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اُس پرچلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ چاہے اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت*
کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے
اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں
میرے یا کسی بھی مولوی کے محتاج کیوں ہوتے ہو۔
قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔
میں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ
ایمان اور استدلال یعنی ریزن (reason) الگ الگ چیزیں ہیں
اور ریزنگ بھٹکا دیتی ہے۔
اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی
اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ
*اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔*
*بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔*
*میرے سامنے سےجیسے اندھیرے چھٹ گئے۔*
میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میرا خدا تو بالکل ویسا ہے
جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔
کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔
ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔
کچھ عرصہ بعد ایک نو مسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔
وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔
اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی اُٹھان
اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔
یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔
آج شیعہ کروڑوں میں ہیں
اور کروڑوں ہی سنّی
کہیں مالکی ہیں
کہیں حنبلی اور کہیں شافعی۔
ہر فرقے میں مزید تقسیم اور فرقے در فرقے ہیں۔
افسوس کہ ایسے لوگ کہیں مُشکل سے نظر آتے ہیں
جو وہابی ہوں نہ دیو بندی،
بریلوی ہوں نہ اہل حدیث
جن کا دین صرف اسلام ہو۔
جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔
سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ *عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے* ۔
اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ
کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے
کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکروں میں بٹ چُکے ہیں۔
شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔
جاری ہے
قران حکیم کے 100 مختصر پیغامات
1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو
2 غصے کو قابو میں رکھو
3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘
4 تکبر نہ کرو‘
5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو
6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘
7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو
8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘
9 والدین کی خدمت کیا کرو‘
10 منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘
11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
12 حساب لکھ لیا کرو‘
13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘
14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
15 سود نہ کھاؤ‘
16 رشوت نہ لو‘
17 وعدہ نہ توڑو‘
18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘
19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘
20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘
21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو
23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں,
24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
25یتیموں کی حفاظت کرو‘
26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو,
27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘
28 بدگمانی سے بچو‘
29 غیبت نہ کرو‘
30 جاسوسی نہ کرو‘
31 خیرات کیا کرو‘
32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
34 فضول خرچی نہ کیا کرو‘
35 خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
36 مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
43 مذہب میں کوئی سختی نہیں
44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘
47 جنسی بدکاری سے بچو‘
48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو,
49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
50 نفاق سے بچو‘
51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے,
53 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو
54 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
55 بخیل نہ بنو‘
56 حسد نہ کرو,
57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
59 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘
60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
62 صحیح راستے پر رہو‘
63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
65 مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
67 جواء نہ کھیلو‘
68 ہیرا پھیری نہ کرو‘
69 چغلی نہ کھاؤ،
70 کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
73 طہارت قائم رکھو‘
74 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
79 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
80 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
83 زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
84 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو,
86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
87 صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘
88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘
89 عورتیں غیر محرم کے سامنے اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
90 اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
91 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
95 مذہب میں رہبانیت نہیں‘
96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
98 خود کو لالچ سے بچاؤ‘
99 اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے
100 ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔
اللہﷻ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
80% انسانیت کا پیغام ہے اور
%20 عبادات کا سوچئیے سوچنا جرم نہیں !!
دعا میں یاد رکھنا۔