@ArifAlvi صدر صاحب ، آپ کھلم کھلا ظلم، نا انصافی ، بددیانتی ،جھوٹ، بدعنوانی، عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ آخر کیوں برداشت کر رہے ہیں ، کیا آپ کو اس مظلوم ماں کی سسکیاں نہیں سنائی دی رہی ہے ، جو عوام کے ووٹوں سے جیت کر بھی سرکار نے ہار کا نتیجہ اخذ کیا ہے ۔
حق بات کرنے اور کہنے سے ڈرتا کیوں ہے۔ ؟؟
@soldierspeaks گندے،غلیظ اور بدبودار نالے کا نجس کیڑا کہاں چھپا ہوا ہے ، جو کہتا تھا ۔کہ اگر سائفر سچ ثابت ہوا تو میں صحافت چھوڑ دونگا۔ جو پی ٹی آئی کے حکومت میں ایک چیز 10 روپے مہنگا ہونے پر پورا پورا دن گلی محلوں کے آوارہ کتوں کی طرح بھونکتا رہتا تھا ۔ منافقوں کا سردار ،شیطان کا باپ
سلیم صافی
قوم کی جانب سے انتخابات میں تاریخی مقابلے، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو عام انتخابات 2024 میں بے مثال کامیابی میسرآئی،کے بعد چیئرمین عمران خان کا(مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ) فاتحانہ خطاب
مولانا رومیؒ ایک حکایت لکھتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کے دور میں اک شکاری نے نر کبوتر کا شکار کیا جس پر مادہ کبوتر نے انصاف کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہو کر شکاری کے خلاف شکایت کی۔ سلیمان علیہ السلام نے شکاری کو بلایا اور پوچھا کہ نر کبوتر کو تم نے کیوں مارا ہے؟
جواب میں شکاری نے کہا اے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کبوتر حلال ہے، اور ہمیں حلال شکار کی ا��ازت ہے تب میں نے یہ شکار کیا، اس میں غلط کیا ہے۔
شکاری کی بات سننے کے بعد کبوتر نے سلیمان علیہ السلام سے عرض کی، اے اللہ کے پیغمبرعلیہ السلام مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ اس نے میرے نر کبوتر کا شکار کیا، بلکہ اعتراض اس کی دھوکے بازی پر ہے کہ یہ شکاری کے لباس کے بجائے عام لباس میں آیا، اگر یہ شکاری کے لباس میں آتا تو ہم اپنی حفاظت کر سکتے تھے، لہذا اس نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا اس لیے اسے سزا ہونی چاہیے۔
ٹھیک اسی طرح ہمیں بھی اس پیلی پگڑی والے مولوی کے کردار پر کوئی اعتراض نہیں، بیشک یہ چوروں کا دفاع کرتا رہے، بیشک یہ وزارتوں کے لیے در در بھٹکتا رہے، بیشک یہ اسلام مخالف بل��ں کی حمایت کرتا رہے، ہمیں اگر اعتراض ہے تو اس کے اس دہرے معیار پر کہ یہ سب اگر اس نے کرنا ہے تو مذہب کے لبادے میں نہ کرے، اسلام کا نام استعمال کر کے نہ کرے، اسلام کے نام پر، مساجد و مدارس کے دفاع کے نام پر قوم کے ساتھ دھوکہ نہ کرے😡!
تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔
1--پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے.
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔
یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
2--دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔
خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
عالم "علم" بانٹتا ہے۔
پرامن انسان "امن و سکون" بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
مثبت اور تعمیری انسان موٹیویشن دیتا ہے
اسی طرح سیاہ دل و متعصب انسان "تعصب و نفرت" بانٹتا ہے
3--تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لئے کہ
کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں معاشرے میں" ظلم و بےراہروی" میں اضافہ ہوتا ہے۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔۔اللہ پاک ہم سب کواچھی زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائیں...
منقول
@RoymukhtarRoy ہاکستان میں امریکہ کے ملازم اور سعودیہ میں آلِ سعود کے۔
اپنے اوپر چڑواھا چڑھاتے ہیں اسلام کا اور غزوہ ہند کا ، حقیقت میں یہ آلہ کار ہیں طاغوتی قوتوں کے۔
اے سود و زیاں گننے والو! کس نے ہے پکارا کیا جانو؟
ان راہوں میں فردوس بریں، ان گلیوں میں جنت کے مکیں
ان تیکھے الجھے رستوں میں۔ ہیں کون صف آرا کیا جانو؟
سمجھے ہیں جسے گلزار سبھی، اک آگ ہے عصر حاضر کی
تمہید سے تم گزرے ہی نہیں، اب قصہ سارا کیا جانو؟
تم شہرِ اماں کے رہنے والے، درد ہمارا کیا جانو
ساحل کی ہوا، تم موج صبا! طوفان کا دھارا کیا جانو؟
آغاز سفر ایمان و یقیں، انجام عمل اک شام حسیں
بن دیکھے حسن کی منزل کو، یہ رستہ پیارا کیا جانو؟
رستہ ہی یہاں خود منزل ہے، ٹھوکر ہی یہاں اک حاصل ہے
@AitzazAhsanP رات کے گیارہ بجے عدالتیں کھولنا سب بتا دیتا ہے۔کہ خان کتنا پاپولر تھا۔ہیں۔اور رہیں گے۔
اگر پاکستان کے عوام امیر ہوتی تو دنیا دیکھ لیتی کہ دولت کے زور پر بھی نیا پاکستان بنتا
۔
کاش کہ یہ پوسٹ تمام لوگ پڑھئیں اور اسے آگے بھی پھیلائیں
یہ یاد ركھيے دنیا میں سب سے زیادہ اموات كولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک سے ہوتی ہیں.
آپ خود اپنے ہی گھر میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا وزن اور كولیسٹرول بڑھا ہوا ھے.
امریکہ کی بڑی بڑی كمپنياں دنیا میں دل کے مریضوں کو اربوں کی دوا
(heart patients)فروخت کر رہی ہی��
لیکن اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر کہے گا angioplasty (اےنجيوپلاسٹي) كرواؤ .اس آپریشن میں ڈاکٹر دل کی نالی میں ایک spring ڈالتے ہیں جسے stent کہتے ہیں.یہ stent امریکہ میں بنتا ہے اور اس کا cost of production صرف 3 ڈالر (روپیہ150یا180) ہے.
اسی stent کو پاک و ہند میں لاکر 3یا5 لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے اور آپ کو لوٹا جاتا ہے.ڈاکٹروں کو ان روپوں کا commission ملتا ہے ، اسی لیے وہ آپ سے بار بار کہتا ہے کہ angioplasty كرواؤ .
Cholestrol، BP ya heart attack
آنے کی اہم وجہ ہے، Angioplasty آپریشن. یہ کبھی کسی کا کامیاب نہیں ہوتا.كيونکے ڈاکٹر جو spring دل کی نالی میں رکھتا ہے وہ بالکل pen کی spring کی طرح ہوتی ہے.
کچھ ہی مہينوں میں اس spring دونوں سائیڈوں پر آگے اور پیچھے blockage (cholestrol اور fat) جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے.اس کے بعد پھر آتا ہے دوسرا heart attack (ہارٹ اٹیک)
ڈاکٹر کہتا هے دوبارہ angioplasty كرواؤ .آپ لاكھوں روپے لٹاتے ھیں اور آپ کی زندگی اسی میں نکل جاتی ھے
اب پڑھیں اس آئرود کا علاج
ادرک (ginger juice) -
اس خون کو پتلا کرتا ھے.
یہ درد کو قدرتی طریقے سے 90٪ تک کم کرتا هے.
لہسن (garlic juice)
اس میں موجود allicin عنصر cholesterol اور BP کو کم کرتا ھے.
وہ دل کے بلوکج کو کھولتا ھے.
لیموں (lemon juice)
اس میں موجود antioxidants، vitamin C اور potassium خون کو صاف کرتے ہیں.
یہ بیماری کے خلاف مزاحمت (immunity) بڑھاتے ہیں.
ایپل سائڈر سرکہ (apple cider vinegar)
اس میں 90 قسم کے عناصر ہیں جو جسم کے سارے اعصاب کو کھولتے ھیں، پیٹ صاف کرتے ہیں اور تھکاوٹ کو مٹاتے ہیں.
ان مقامی اشیاء (یعنی چیزوں) کو
اس طرح استعمال میں لایئں
1-ایک کپ لیموں کا رس لیں.
2-ایک کپ ادرک کا رس لیں.
3-ایک کپ لہسن کا رس لیں.
4 ایک کپ ایپل apple سرکہ
ان چاروں کو ملا کر دھيمي آنچ پر گرم کریں جب 3 کپ رہ جائے تو اسے ٹھنڈا کر لیں.
اب آپ
اس میں 3 کپ شہد ملا لیں .
روز اس دوا کے 3 چمچ صبح خالی پیٹ لیں جس سے سارے
ساری بلوکج ختم ہو جائیں گی . یعنی شریانیں کھل جائینگی . إن شاء اللہ .
آپ سب سے درخواست ہے کہ اس میسج کو زیادہ سے زیادہ نشر کریں تاکہ سب اس دوا سے اپنا علاج کر سکیں . جزاکم اللہ خیرا .
ذرا سوچیں کہ شام کے
7:25 بجے ھیں اور آپ گھر جا رہے ھیں وہ بھی بالکل اکیلے .
ایسے میں اچانک آپ کے سینے میں تیز درد ہوتا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے ھوتا ہوا آپ
جبڑوں تک پہنچ جاتا ہے .
آپ اپنے گھر سے سب سے قریب ہسپتال سے 5 میل دور ہیں اور اتفاق سے آپ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ وهاں تک پہنچ پائیں گے یا نہیں .
آپ نے سی پی آر میں تربیت لی ہے مگر وہاں بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ اس کو خود پر استعمال کس طرح کرنا ہے .
ایسے میں دل کے دورے سے بچنے
کے لئے یہ اقدامات کریں
چونکہ زیادہ تر لوگ دل کے دورے کے وقت اکیلے ہوتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے انہیں سانس لینے میں تکلیف
ہوتی ہے. وہ بے ہوش ہونے لگتے ہیں اور ان کے پاس صرف 10 سیکنڈ ہوتے ہیں
.
ایسی حالت میں مبتلا شخص زور زور سے کھانس کر خود کو عام رکھ سکتا ہے.
ایک زور کی سانس
لینی چاہئے ہر کھانسی سے پہلے
اور کھانسی اتنی تیز ہو کہ
سینے سے تھوک نکلے .
جب تک مدد نہ آئے یہ
عمل دو سیکنڈ کے وقفے سے دہرایا
جائے تاکہ دھڑکن عام
ہو جائے.
زور کی سانسیں پھیپھڑوں میں
آکسیجن پیدا کرتی ہے
اور زور کی کھانسی کی وجہ
دل سكڑتا ہے جس سے
خون سنچالن باقاعدگی سے
چلتا ہے.
جہاں تک ممکن ہو اس پیغام کو سب تک پہنچائیں . ایک دل کے ڈاکٹر نے تو یہاں تک کہا کہ اگر ہر شخص یہ پیغام 10 لوگوں کو بھیجے تو ایک جان بچائی جا سکتی ہے.
آپ سب سے درخواست ہے
چٹكلے تصویریں بھیجنے کی بجائے
یہ پیغام سب کو بھیجیں
❤❤❤❤❤
عمران خان دور میں پیٹرول دو روپے بڑھتا تھا تو ایک طبقہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتا تھا کے میرے ملک کا غریب مرگیا۔
آج غریب 40 ہزار کا بل دیکھ کر خودکشی کررہا ہے مگر وہ طبقہ حرام کے لقمے پر پل رہا ہے اس لئے مکمل خاموش ہے احتجاج نہیں کررہا۔
@Sh_am_92 رات گیارہ بجے عمران خان کی آخری بات ،""کوئی رہ تو نہیں گیا ""
اسوقت اگر یہ غافل قوم جاگ جاتی ، تو ترکی کیطرح قائم حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں اور 25 کروڑ پر اپنے ضمیر بیچنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے ،تو آج پاکستان کی غریب عوام کو یہ برے دن نہ دیکھنے پڑتے ۔
کیا یہ سچ ھے؟
اگر سچ ھے تو وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ھے
اور اگر جھوٹ ھے تو اسکی تردید کون کرےگا ؟
“پاکستان کو دی جانے والی ملٹری ایڈ ہمارے لئے بوجھ نہیں ہے
کیونکہ یہ بطور رشوت پاکستان آرمی کو دی جاتی ہے تاکہ وہاں کہ جرنیل ہماری مرضی کے مطابق کام کریں”
بروس رائیڈل، امریکی دفاعی تجزیہ کار
میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا
جام میں گ��ول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزا آ گیا
چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزا آ گیا
نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزم رنداں میں ساغر کھنکنے لگا
میکدے پہ برسنے لگیں مستیاں جب گھٹا گھر کے آئی مزا آ گیا
بے حجابانہ وہ سامنے آ گئے اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
آنکھ ان کی لڑی یوں مری آنکھ سے دیکھ کر یہ لڑائی مزا آ گیا
آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر
اس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جھکائی مزا آ گیا
شیخ صاحب کا ایمان بک ہی گیا دیکھ کر حسن ساقی پگھل ہی گیا
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے لٹ گئی پارسائی مزا آ گیا
اے فناؔ شکر ہے آج باد فنا اس نے رکھ لی مرے پیار کہ آبرو
اپنے ہاتھوں سے اس نے مری قبر پہ چادر گل چڑھائی مزا آ گیا
فنا بلند شہری