🇵🇰 Sui Gas for all of Pakistan
🇨🇳 Saindak for China
🇨🇦 Reko Diq for Canada
🌐 CPEC for every other province
🇨🇳 Gwadar for China
🇺🇸 Pasni for the USA
But for Balochistan only Genocide
#NobelPeacePrizezFroMahrang
ٹویٹ, پوسٹ کر کے امن نوبل انعام کے لیے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
کی نامزدگی کا حمایت کریں۔
انسانی حقوق کے علمبردار ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی پرامن جدوجہد کو دنیا کے سامنے مزید اجاگر کریں۔
#NobelPeacePrizeForMahrang
Hindu's of #Balochistan ,this is the beauty of Balochistan
Balochistan a place of equality for all,
where every individual’s dignity is protected,
where everyone has the freedom to follow their own faith and way of life.
A secular Balochistan, just and fair,
where humanity itself is the common bond.
💙❤️💚
اب پنجابی میڈیا، صحافی اور خود دانشور بھی پنجابی سامراجیت اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف بولنے لگے ہیں۔
ہم سچ کہتے تھے: جب تک یہ ناانصافیاں اور ظلم پنجاب تک نہیں پہنچیں گے، تب تک لوگوں کو بلوچستان اور بلوچ عوام کے درد کا احساس نہیں ہوگا۔
https://t.co/8HDUXk2L5L
بلوچستان تربت سے ایک کمسن بچے کو محض سوشل میڈیا پر ایک انسانی حقوق کے کارکن کی تقریر شیئر کرنے پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک بچے کے خلاف زیادتی نہیں، بلکہ ایک پورے جابرانہ ریاستی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو اب بچوں کو بھی اپنا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہا۔ یہ عمل نہ صرف اخلاقی اقدار بلکہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے Convention on the Rights of the Child کا دستخط کنندہ ہے، جس کے تحت ہر بچے کو آزادیٔ اظہار کا حق حاصل ہے۔ ایک کمسن بچے کو انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کرنا ان تمام اصولوں کو روندنے کے مترادف ہے۔
ریاستی ادارے اب نو سالہ بچوں تک کو خطرہ سمجھ کر ان پر دہشتگردی جیسے سنگین الزامات لگا رہے ہیں، زرا سوچئے کہ پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی اختلاف اور انسانی حقوق کے لئے بات کرنے والوں کو کس قسم کے مظالم کا سامنا کرنا ہوگا؟ جب ایک بچہ بھی اس معاشرے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے پر دہشتگرد قرار دیا جا سکتا ہے، تو پھر محفوظ کون ہے؟
کراچی میں موبائل کے دکان سے نوجوان دکاندار اغوا ۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق کراچی کے مشہور کاروباری مرکز صدر کے عمّا ٹاور سے سادہ کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش مسلح افراد نے کاروباری نوجوان کاشف یعقوب سکنہ لیاری کو اغوا کر کے لاپتہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ شام چھ بجے کے قریب پیش آیا جب وہ اپنے موبائل کے دکان میں تھے کہ چند لوگ آ کر انہیں وہاں سے اٹھا کر لےگے ،جس کے بعد نوجوان لاپتہ ہے ۔
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
یہ 2025 نہیں 2012 کے ایک مظاہرے کی ویڈیو ہے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹیاں 13 سال قبل بھی اسلام آباد میں اپنے والد کی بازیابی کے لئے فریاد کرہی تھیں ،آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اگر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہو جاتا تو بلوچ مائیں بہنیں اسلام آباد کی سڑکوں پر فریاد کرتی ��ظر نہ آتیں
Security force of #RepublicOfBalochistan arrested foreign Pakistani troops.
During a targeted search operation in Gwadar, the security forces of the Republic of Balochistan successfully apprehended personnel affiliated with the occupational Pakistan operatives.
These individuals, identified as part of foreign-backed criminal elements from neighboring country Pakistan, operating in the state of Balochistan, surrendered to Baloch army. Preliminary investigations and confessions reveal their involvement in systematic corruption, including accepting bribes from local transport operators and drug trafficking networks.
The Republic of Balochistan remains committed to safeguarding its sovereignty and ensuring law and order by dismantling external criminal influence within its borders.
Old video.
#BalochistanIsNotPakistan
بلوچ مائیں اور بچیاں جُرأت و استقامت کی علامت ہیں۔
آج اسلام آباد میں احتجاج کو آٹھ دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی بدسلوکیاں اور جبر بدستور جاری ہے، لیکن وہ نہ ان ماؤں کے حوصلے کو توڑ سکی ہے اور نہ ہی انہیں پسپا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
یہ مائیں سخت بارش، آندھی، طوفان اور جھلسا دینے والی گرمی میں بھی اپنے پرامن احتجاج کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے: ڈاکٹر ماہ رنگ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت، اور دیگر جبری طور پر لاپتہ یا گرفتار افراد کی رہائی۔
ریاست کو چاہیے کہ ان کے آئینی مطالبات کو تسلیم کرے، لیکن افسوس کہ اس کے بجائے ریاست ان باہمت ماؤں کو ہراساں کررہی ہے، اسلام آباد سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور انہیں رہائش گاہوں سے زبردستی بےدخل کیا جا رہا ��ے۔
لیکن یاد رکھیں: یہ بلوچ مائیں ہیں، ان کے حوصلے کو توڑنا آپ کے بس کی بات نہیں۔
#Releasebycleaderes
#StopBalochGenocide
آج اسلام آباد کی شدید بارش میں بلوچ مائیں، معصوم بچیاں اور نوجوان کھلے آسمان تلے سڑک پر بیٹھے رہے۔ یہ وہ تکلیف اور درد ہے جسے صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو خود اس کرب سے گزر رہے ہیں۔
گزشتہ چھ روز سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار قیادت کے لواحقین اور جبری گمشدگی کا شکار افراد کے لواحقین اسلام آباد کے اس سخت اور خراب موسم میں کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن جابر اور ظالم حکمران ان ماؤں کو شیلٹر کیمپ لگانے کی اجازت تک نہیں دے رہے، تاکہ وہ خود کو اس خراب موسم سے محفوظ رکھ سکیں۔
بلوچ مائیں اور بچے اسلام آباد میں وہ درد اور کرب اپنے ��ل میں لیے بیٹھے ہیں، جس کا ریاست کو ذرا برابر بھی اندازہ نہیں۔ ہم انسان دوست اور انسانیت کا درد رکھنے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان ماؤں کی آواز بنیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide