Today I lost not only a father. But a guiding light. A teacher. He taught me the difference between the good and the bad. To fight for injustice with conviction. He was a beacon of hope for our nation and land. Rest in peace my Baba. Please pray for his soul.
مستونگ: لکپاس کے مقام پر لانگ مارچ، دھرنے پر خودکش حملے کی کوشش، دھماکے میں خودکش حملہ آور مارا گیا۔
مشکوک شخص کی تلاشی لینے کی کوشش کی گئی تو اس نے فرار ہونے کی کوشش لیکن گرگیا، فرار ہونے میں ناکامی پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
دھماکے میں حملہ آور کے پیچھے بھاگنے والے دو افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم دیگر دھرنا شرکاء اور سردار اختر جان مینگل محفوظ ہیں۔
#Mastung | #TBPNews
ہم اس وقت لکپاس پر موجود ہیں جہاں تمام داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ سے لانگ مارچ میں شریک افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔ میری سینئر قیادت پر بھی براہ راست شیلنگ اور فائرنگ ہو رہی ہے۔
ہم کوئٹہ کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ لکپاس کے دوسری جانب پہنچیں، اور مستونگ کے عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنی طرف سے لکپاس پر جمع ہوں۔ یہ بات واضح ہے: ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھیں گے، چاہے ہمیں لکپاس کے نیچے ایک نئی سرنگ ہی کیوں نہ کھودنی پڑے۔
ہم مضبوط ہیں، ہم اپنے مقصد سے پُرعزم ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ہم پُرامن ہیں۔ کوئی طاقت، کوئی جبر، ہمارے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتا، نہ ہمیں ہمارے راستے سے ہٹا سکتا ہے۔
ہم شدید تشویش اور غم و غصے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لکپاس ٹنل پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکنوں پر ریاستی فورسز کی جانب سے شیلنگ کی گئی، اور 250 سے زائد کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ریاستی جبر پُرامن اور آئینی احتجاج کو کچلنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری تحریک مکمل طور پر پُرامن ہے، اور ہمارے مطالبات نہایت جائز اور انسانی بنیادوں پر ہیں۔ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو، جنہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، فی الفور رہا کیا جائے۔ ان کی رہائی کے بغیر کوئی مذاکرات، کوئی یقین دہانی، اور کوئی وعدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
کارکنوں پر حملے، گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم ظلم کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ ہمارا اتحاد، ہمارا عزم، اور ہماری قربانیاں اس جدوجہد کو اس کی منزل تک ضرور پہنچائیں گی۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے، بصورتِ دیگر حالات کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔
تم کتنے لوگوں کو گرفتار کرو گے؟ ہر غیرت مند بلوچ اور پشتون اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت اور آزادی کے لیے باہر نکلے گا۔ تم ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے۔
ہم تمہاری شیلنگ اور تمہاری گولیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم حق پر ہیں، اور جو قوم اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت اور غیرت کے لیے کھڑی ہو، اُسے کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔
Join us at 10 Pm tonight to discuss BNP’s long march, protests against Enforced Disappearance and the Political crisis. @sakhtarmengal
https://t.co/QpGHAtJ0UJ
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء سمی دین بلوچ کون ہیں؟
سمی دین بلوچ کو آج کراچی میں پولیس نے تشدد کے بعد حراست میں لیا، ان کے ہمراہ بی وائی سی رہنماء لالا وہاب بلوچ سمیت متعدد افراد زیرحراست ہیں۔
سمی دین گذشتہ 15 سالوں سے اپنے والد ڈاکٹر محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کیخلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔ آپ نے کوئٹہ تا اسلام اور تربت تا اسلام آباد لانگ مارچ کیا جبکہ آپ کو 'فرنٹ لائن ڈیفینڈر ایوارڈ' سے نوازا جاچکا ہے۔
#SammiDeen #Karachi #BYC | #TBPNews
قلات: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی احتجاجی ریلی اور مظاہرہ
احتجاجی مظاہرہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر کے گرفتاریوں کیخلاف کی گئی۔
کوئٹہ: آج پانچویں روز مظاہروں کا سلسلہ جاری، پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی جبکہ لاٹھی چارج سے متعدد دیگر مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات
#Quetta#BYC#MahrangBaloch | #TBPNews
BYC Central Leader Sammi Deen and Deputy Organizer Lala Wahab Arrested as Police Crack Down on Protest in Karachi
Police Seal Karachi Press Club, Arrest Dozens of Women at BYC Protest
Today, the Baloch Yakjehti Committee (BYC) had scheduled a protest in Karachi against state brutality and enforced disappearances. In response, police sealed the Karachi Press Club to prevent the demonstration from taking place. Despite this, protesters, including a large number of women, gathered to voice their demands.
As the protest began, police launched a crackdown, arresting dozens of women, including BYC Central Committee leader Sammi Deen and Deputy Organizer Lala Wahab. This blatant act of repression highlights the state’s continued efforts to silence the oppressed.
#StopBalochGenocide
Puppet PPP govt have a history in killing and abducting innocent Baloch and Pashtuns whenever they get chance! They are the ones who always tells establishment that we are ready to do anything for you if we are selected for govt ….
آج پھر بلوچستان رو رہا ہے۔
کوئٹہ کی سڑک پر ایک 12 سالہ بچہ مارا گیا۔
نہ کوئی ہتھیار، نہ کوئی خطرہ—صرف ایک معصوم چہرہ، جس کی ماں نے صبح اسے جوتے پہنا کر بھیجا تھا، اور شام کو اس کی لاش واپس ملی۔
اور تم سب؟
جیسے ہمیشہ، خاموش۔
جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔
تمہیں کب پرواہ تھی؟
تم نے کب بلوچستان کو اپنا سمجھا؟
ہم تو ہمیشہ تمہارے لیے ایک غیر، ایک سوتیلا سوال رہے ہیں—جس کا جواب تم نے ہمیشہ گولیوں سے دیا ہے۔
جب ہمارے بچے مارے جاتے ہیں، تم صرف خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہو۔
نہ دکھ، نہ شرم، نہ افسوس۔
تمہیں صرف تب درد محسوس ہوتا ہے جب درد تمہارے گھر کی دہلیز پر آتا ہے۔
فلسطین کے لیے تمہاری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور یہاں؟
تمہاری اپنی زمین پر، تمہاری اپنی مٹی میں، تمہارا اپنا بچہ مارا گیا—اور تم چپ ہو۔
کیونکہ تم نے کبھی ہمیں “اپنا” مانا ہی نہیں۔
ہم بس اتنا پوچھنا چاہتے ہیں:
کیا ہمارا خون سستا ہے؟
کیا ہمارے بچوں کی جانیں کم قیمتی ہیں؟
کیا ہم صرف اس لیے مارے جائیں گے کہ ہم آواز اٹھاتے ہیں؟
اب بہت ہو چکا ہے۔
میں اور میری پارٹی ان ماؤں کے ساتھ ہیں جن کے بچے واپس نہیں آئے۔
ہم ان سڑکوں پر بیٹھے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جنگ اب خاموشی کی نہیں—یہ جنگ آواز کی ہے۔
ہم انصاف مانگتے ہیں، نہیں ملے گا تو چھینیں گے۔
اور یہ لاشیں تم سب کی بے حسی کی گواہی بن کر تاریخ میں لکھی جائیں گی