"مچھ جیل: اساتذہ کی فوری رہائی اور انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ"
HRCPakistan مچھ جیل کی کال کوٹھریوں میں مقید سرکاری ملازمین بالخصوص پروفیسر قدوس کاکڑ اوران کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
انسانیت سوز حالات: شدید برفانی سردی اور منفی درجہ حرارت میں ملازمین کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بیمار ملازمین کی جان کو لاحق خطرات پر ریاست خاموش تماشائی نہ بنے۔
جائز مطالبات: قلم کے سپاہیوں کو محض تنخواہوں میں فرق (DRA) مانگنے پر قید کرنا اور ان کی تذلیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
ہمارا مطالبہ: حکومتِ وقت انتقامی کارروائی بند کرے، تمام اضلاع میں قید ملازمین کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالے۔
HRCPakistan اس معاملے کی عالمی سطح پر نگرانی کر رہی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ملازمین کی حرمت کو پامال ہونے سے بچایا جائے۔
#ReleaseTeachers #MachhJail #RespectTeachers #Balochistan #HRCPakistan
@GovtofPakistan@dpr_gob@HamidMirPAK@javerias
عید ان لوگوں کیلئے ہے جن کے پیارے انکے ساتھ ہیں ہم جیسے ریاستی جبر کے شکار لوگ کیا عید منائیں گے کہ جو سالوں سے یہ تک نہیں جانتے کہ انکے پیارے کہاں اور کس حال میں ہیں لیکن ہاں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم کرنے والی ریاست خود اسلامی جمہوریہ پاکستان ہونے کا دعوہ کرتی ہے
Don’t have words to express my gratitude for this Award, which is dedicated to all those fighting against oppression, tyranny and criminalisation of dissent in Pakistan, in particular two symbols of Baloch and Pashtun resistance, Dr. Mahrang Baloch & Ali Wazir, who remain unjustly and unlawfully incarcerated till date.
I am so deeply honoured and so incredibly fortunate & blessed to have received the Award from Nobel Laureate Maria Ressa who is an inspiration to millions across the globe.
I take this opportunity to reiterate my commitment to fighting alongside all of you for the protection of the right to freedom of expression in Pakistan.
Thank you all for your kind words, congratulations & prayers.
None of us are free till all of us are free
✊✌️&❤️ always
Finland studied U.S. schools in the 1970s. They loved our focus on play, the whole child, and teacher/ school control. So they built their system on it. We replaced it with tests. They kept the soul of education. We sold ours for standardized testing.
ریاست پاکستان کا بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن مظاہرین پر تشدد دراصل سچ کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش ہے۔ آنسو گیس، بندوق کی گولیاں اور گرفتاریوں سے نہ تو جبری گمشدگیوں کا درد کم ہوگا اور نہ ہی احتجاجی تحریک رک سکے گی۔
گزشتہ رات، بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے خضدار میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور بلوچ خاتون عاصمہ بلوچ کو اغوا کر لیا۔
ایک طرف جہاں فوج اور خفیہ ادارے شہریوں کے قتل عام اور جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں، وہیں دوسری طرف ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کو بے خوفی کے ساتھ اجازت دی گئی ہے کہ وہ جب چاہیں، جسے چاہیں اغوا یا قتل کر دیں۔
عاصمہ بلوچ کا اغوا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ عاصمہ کے اہل خانہ نے خضدار میں مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے ہیں، جن میں مقامی افراد بھی شامل ہیں۔ میں خضدار کے عوام سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس ظالمانہ عمل کے خلاف آواز بلند کریں اور عاصمہ کے اہل خانہ کے احتجاج میں شریک ہو کر ان کی حمایت کریں۔
ضلع گوادر میں منشیات مافیا کے سامنے پولیس بے بس ہے۔جبکہ ضلعی انتظامیہ کی دلچسپی صرف کنٹانی کے بھتہ تک محدود ہے۔باسط کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔#JusticeForBasitDaad