"میثاق مکہ"
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی امریکی سامراج کے خلاف لازوال مزاحمت کے نتیجے میں منافقت پر مبنی علاقائی سلامتی کی امریکی چھتری تباہ و برباد ہو گئی۔ نتیجتاً جو خلا پیدا ہو رہا ہے اسے پر کرنے کے لئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان میثاقِ مکہ کے عنوان سے دفاعی معاہدہ امریکی سامراج کی نام نہاد علاقائی سیکورٹی کا حقیقی متبادل بن سکتا ہے بشرطیکہ آنے والے وقت میں ایران کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے۔ ایران کی شمولیت کے بغیر علاقائی سلامتی کا کوئی بھی معاہدہ امریکی سامراج کے حق میں استعمال ہونے کا خدشہ ہمیشہ موجود رہے گا۔
گزشتہ کئی دنوں سے آزاد کشمیر میں عوام اپنے (جزوی)حقوق کے لئے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکمران طبقے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، بلکہ الٹا پُرامن مظاہرین پر بہیمانہ تشدد کیا گیا جس میں متعدد افراد زخمی و جان بحق ہوئے۔ یہ سارا عمل جہاں انتہائی قابل مذمت ہے وہیں حکمران طبقے کی بے حسی، سفاکی، کٹھور پن اور طاقت کے زعم کا مظہر ہے۔ ہم حکمران طبقے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے، سفاکی اور بے حسی کو ترک کرے، مظلوم عوام کے جذبات و احساسات کو سمجھے اور فی الفور سیاسی عمل کے ذریعہ آزاد کشمیر میں پیدا شدہ بحران کا پرامن حل نکالے۔ اور یاد رکھے! جبر و تشدد کا مزید کوئی بھی عمل وقتی کامیاب تو ہو سکتا ہے لیکن عوام کی وسیع پرتوں میں پیدا ہونے والے جذبات و احساسات کو تا دیر دبانا ناممکن ہو جائے گا۔