This viral video from Pakistani social media is not merely a reflection of the insecurity and pettiness of the country’s military regime and its Sharif-Zardari backers. It is also a microcosm of the state of fundamental rights for the country's ordinary citizens.
An environment of repression in which people are helpless in the face of power, brute force trumps the rule of law, and expressing support for the country’s largest and most popular political party can lead to jail cannot produce progress.
The resistance will continue, the will of the people shall prevail, and Imran Khan will take his rightful place as Pakistan's legitimate, democratically elected Prime Minister.
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ
“ہم لاڑکانہ میں موجودہیں اور ہر طرف عمران خان کا نام ہے ۔لاڑکانہ عمران خان کا ہے پوری سندھ دھرتی عمران خان کے انتظار میں ہے۔ اس دھرتی کو تبدیلی چاہئے یہ دھرتی ظلم سے تنگ ہے، یہ دھرتی جرم سے تنگ ہے” ۔
سلمان اکرم راجہ
"بس میری ایک ہی آرزو ہے کہ کپتان سے ملاقات ہو جائے۔ میں آج بھی وفاداری کے اسی مقام پر ڈٹا ہوا ہوں جہاں کل کھڑا تھا؛ جس نظریے کا علم تھاما تھا، آج بھی اسی پر قائم ہوں۔ میں عمران خان کے ساتھ تھا، ہوں اور ان شاء اللہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہوں گا۔"
— شاہ محمود قریشی
نیٹ کھلنے پر یہ مناظر دیکھ کر بھی اگر ہم اپنی زندگی میں مشغول ہو گئے اس ظلم کے خلاف نا بول سکے وہی گندگی سیاست کے رواس شروع ہو گئے تو ہمیں ذندہ رہنے کا کوئی حق نہیں
انہوں نے عمران خان کو Isolate کر دیا ہے عمران خان کو یہ چاہتے ہیں کہ مکمل Isolation میں ڈال دیا جائے عمران خان فیملی کے ذریعے قوم کے ساتھ جو communication کرتے ہیں وہ یہ بھی مکمل ختم کرنا چاہتے ہیں قوم سب دیکھ رہی ہے۔
خدیجہ شاہ
جماعت اسلامی نے 314 سے پیٹرول 346 تک بڑھا کر دھرنا ختم کر دیا، شکریہ حافظ نعیم الرحمن۔ اظہر خان آصف زئی
#pakistan@AasifzaiAzhar
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
تمام لوگ شفقت بھائی کے لیے آواز اُٹھائیں۔۔۔۔
یہ حال کرتے ہیں لوگوں کا ٹارچر کر کے ۔۔۔۔
@shafqatmm1 بھائی ہم۔سب آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔
#ReleaseShafqatMasood
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اُٹھا لو
”اُٹھانے والوں ” سے کچھ جدا ہے اِسے اُٹھا لو
وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اُٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے اِسے اُٹھا لو
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں
مگر ��ہ اپنی ہی بولتا ہے اِسے اٹھا لو
جنہیں ” اُٹھانے ” پہ ہم نے بخشے مقام و خلعت
یہ اُن سیانوں پہ ہنس رہا ہے اسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے کہ امن ِ عامہ کا مسئلہ کیوں
یہ امن ِ عامہ کا مسئلہ ہے اِسے اٹھا لو
اِسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اُتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے اِسے اٹھا لو
سوال کرتا ہے یہ دوانہ ہماری حد پر
یہ اپنی حد سے گزر گیا ہے اسے اٹھا لو
فرہاد احمد