کیا پنجاب الیکٹرک بس منصوبہ شفاف ہے؟
پنجاب حکومت کے الیکٹرک بس پراجیکٹ کیلئے تمام بسیں چین کی Yutong اور Higher کمپنی سے لی گئی ہیں۔ کل 1,100 میں سے 780 بسیں 9 میٹر جبکہ 320 بسیں 12 میٹر لمبی ہیں
12 میٹر بس کی قیمت 250,000 سے 350,000 امریکی ڈالر (تقریباً 7 کروڑ سے 9 کروڑ 70 لاکھ روپے) ۔ جبکہ 9 میٹر بس 150,000 سے 220,000 امریکی ڈالر ( تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ سے 6 کروڑ روپے) ہے
پنجاب حکومت نے 1,100 بسوں کی خرداری کیلئے مجموعی طور پر 94 ارب روپے مختص کئے
اگر ہم گاڑیوں کی قیمت زیادہ سے زیادہ تصور کر لیں یعنی 12 میٹر بس کی قیمت 9 کروڑ 70 لاکھ اور 9 میٹر بس کی 6 کروڑ تو بھی ان کی کل قیمت 78 ارب سے زیادہ نہیں بنتی۔ یعنی 16 ارب روپے کا فرق ہے
حالانکہ bulk میں لی گئی 9 میٹر بس کی قیمت ساڑھے 4 کروڑ اور 12 میٹر بس کی قیمت ساڑھے 8 کروڑ سے زائد نہیں۔ اس طرح خریداری کا فرق 32 ارب روپے تک چلا جائے گا
یاد رہے اس لاگت میں گاڑی کی قیمت کے ساتھ ساتھ ہائی پاور ڈی سی فاسٹ چارجرز کی قیمت بھی شامل ہے۔
18 سے 32 ارب روپے کا فرق ایک خطیر رقم ہے۔ منصوبے کو مکمل شفاف تب ہی مانا جا سکتا ہے جب حکومت پنجاب ان سوالات کے واضح جوابات دے:
1. کیا 94 ارب روپے میں چارجنگ انفراسٹرکچر اور سول ورکس کی تفصیلات شامل ہیں؟ اگر ہاں، تو ان کا الگ سے کتنا بجٹ ہے؟
2. کیا یہ بسیں ڈیوٹی فری امپورٹ کی جا رہی ہیں یا ان پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے؟
3. مینوفیکچررز کے ساتھ مینٹیننس کا معاہدہ کن شرائط پر ہوا ہے؟
4. زیادہ بہتر ہے کہ بسوں کو کمپنیوں سے خریداری کا معاہدہ پبلک کیا جائے کیونکہ یہ پبلک فنڈ سے پبلک کیلئے منصوبہ ہے کوئی سیکیورٹی پروجیکٹ نہیں ۔
پنجاب انفارمیشن کمیشن کے تحت کوئی بھی شہری حکومت کو درخواست دے کر اس عوامی منصوبے کے معاہدے کی تفصیلات مانگ سکتا ہے اور قانوناً حکومت اس کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کی پابند ہے۔
ذیشان نے ن لیگی وزیر کے سامنے صرف ایک سچی بات کرنے کی گستاخی کی — کہ اس کی تنخواہ 40,000 روپے مقرر ہے جبکہ اسے صرف 19,000 روپے دیے جا رہے ہیں۔ اسی سچ کے عوض اس کی نوکری چھین لی گئی۔ اس نے اپنے بچوں کی خاطر بحالی کی التجا کی، مگر انکار کر دیا گیا، اور آخرکار اس نے اسی دفتر میں خود کو آگ لگا لی جس نے اسے نکالا تھا۔
نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، نہ کوئی ہسپتال گیا، نہ اس کے بچوں کے لیے کوئی امداد۔ بچوں کا باپ تو واپس نہیں آ سکتا لیکن ن لیگ ترجیحات ضرور عوام کے سامنے آ گئی ہے #سُتھرا_پنجاب کہاں ہے؟ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کہاں ہیں؟ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کہاں ہے؟ خاموشی۔ بے حسی !!
#JusticeForZeeshan
پاکستانیوں,
رات کو اے سی چلانے کا سستا طریقہ!!
رات کو اے سی چلانے کا سستا طریقہ
"کیا آپ کا اے سی بھی رات کو چلنے کے بعد آپ کے ہوش اڑا دیتا ہے جب مہینے کا بل آتا ہے؟ رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک اے سی ضرور چلائیں، لیکن بل آدھا آئے گا! آج میں آپ کو بتاؤں گا اے سی کی وہ سیکرٹ سیٹنگز اور صحیح روم سائز کا حساب، جو آپ کے یونٹس کو بہت کم کر دے گا۔ ویڈیو کو ابھی سیو کر لیں، یہ بہت کام آنے والی ہے!"
حصہ 1: بل بچانے والی اے سی سیٹنگز (رات 10 سے صبح 5)
"سب سے پہلے بات کرتے ہیں سیٹنگز کی، کیونکہ رات کو سوتے وقت آپ کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور باہر کا ٹمپریچر بھی گرتا ہے۔ اس لیے یہ 3 سیٹنگز لازمی کریں:"
1۔ آٹو ٹمپریچر (26°C پر سیٹ کریں):
"بہت سے لوگ 18 یا 20 پر اے سی چلا دیتے ہیں، جو کمپریسر پر بہت لوڈ ڈالتا ہے۔ اے سی کو 26°C پر چلائیں۔ یہ سب سے بہترین ٹمپریچر ہے اور اس پر کمپریسر سب سے کم بجلی کھینچتا ہے۔"
2۔ سلیپ موڈ (Sleep Mode) کا استعمال:
"اپنے ریموٹ پر موجود Sleep Mode کا بٹن لازمی دبائیں۔ یہ موڈ کیا کرتا ہے؟ ہر ایک گھنٹے بعد یہ ٹمپریچر کو 1 ڈگری بڑھا دیتا ہے۔ یعنی اگر آپ نے 26 پر اے سی چھوڑا، تو کچھ گھنٹوں بعد یہ خود بخود 27 اور پھر 28 کر دے گا۔ آپ کی نیند بھی خراب نہیں ہوگی اور صبح 5 بجے تک یونٹس کی بھاری بچت ہوگی۔"
3۔ فین اسپیڈ کو 'آٹو' پر رکھیں:
"فین اسپیڈ کو فل یا لو رکھنے کی بجائے Auto پر سیٹ کریں۔ جب کمرہ ٹھنڈا ہو جائے گا، تو پنکھا خود بخود سلو ہو جائے گا اور بجلی بچائے گا۔"
حصہ 2: روم سائز اور اے سی کی کیپیسٹی (1 ٹن بمقابلہ 1.5 ٹن)
"دوستو، اے سی جتنا مرضی اچھا ہو، اگر وہ کمرے کے سائز کے مطابق نہیں ہے تو بل ہمیشہ زیادہ آئے گا۔ اپنے کمرے کا سائز اس حساب سے چیک کریں:"
1 ٹن کا اے سی (1 Ton AC)
کمرے کا سائز: 100 سے 120 اسکوائر فٹ (Sq. Ft) تک۔
آسان الفاظ میں: اگر آپ کا کمرہ 10x10 یا 10x12 فٹ کا ہے، تو 1 ٹن کا اے سی بالکل پرفیکٹ ہے۔ اس سے بڑے کمرے میں 1 ٹن لگائیں گے تو وہ مسلسل چلتا رہے گا، کمرہ ٹھنڈا نہیں ہوگا اور بل ڈبل آئے گا۔
1.5 ٹن کا اے سی (1.5 Ton AC)
کمرے کا سائز: 130 سے 180 اسکوائر فٹ (Sq. Ft) تک۔
آسان الفاظ میں: اگر آپ کا کمرہ 12x12، 12x14 یا 12x15 فٹ کا ہے، تو آپ کو 1.5 ٹن کا اے سی ہی لگانا چاہیے۔ یہ کمرے کو جلدی ٹھنڈا کرے گا اور انورٹر اپنی اسپیڈ سلو کر کے بجلی بچانا شروع کر دے گا۔
حصہ 3: پرو ٹپ (بونس ایڈوائس)
ایک آخری اور سب سے ضروری ٹپ! اے سی چلانے سے پہلے کمرے کا چھت والا پنکھا تھوڑی دیر فل اسپیڈ پر چلائیں تاکہ کمرے کی گرم ہوا نکل جائے۔ اور جب اے سی آن کر دیں، تو پنکھے کو بالکل سلو (اسپیڈ 1 یا 2) پر چلائیں تاکہ اے سی کی ٹھنڈک پورے کمرے میں برابر پھیلتی رہے۔"
"ان سیٹنگز کو آج رات ہی ٹرائے کریں اور اگلے مہینے اپنے بل میں فرق دیکھیں!
یہ باکو اسلئے گئے تھے، وہ بھی پرائیویٹ جہاز پر؟
ملک و قوم کی خاطر لمبے سفر اور اتنا ودھیا نالج اکٹھا کرنا ہر سیاسی جماعت کے نصیب میں کہاں۔۔۔۔عظمی آپی کی سچی کھری باتیں، بہت انجوائے کیا کیوں نہ کرتے غریب عوام کے خون پسینے پر جو عیاشی کرنے گے تھے کتنے فخر سے بول رہی ہے 🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️
پٹواری عقل سے بلکل پیدل کوئی اور ہی مخلوق ہیں۔ 😂😂😂
فرماتے ہیں کہ بھارت میں اتنا سستا پیٹرول ہے اور پاکستان میں مہنگا، لہٰذا بھارت غریب ملک ہے اور ہم امیر ملک ہیں۔
My ears, my ears! 🤦🤦
قوم کو بھکاری کیوں بنا رہے ؟
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہم آٹھ سو ارب روپے غریب خواتین میں بانٹتے یہ تقریباً تین ارب ڈالر کے آس پاس بنتے ہیں ہم کم کم پندرہ سال سے تو بانٹ رہے مگر اس سے کتنی غربت کم ہوئی ؟پچھلے دس سال میں پاکستان میں غربت بڑھ گئی ہے
آپ کو پتہ پاکستان کے ونڈ کوریڈور خاص طور پر گھاروجھمپیر/کٹی بندر ونڈ کوریڈور کی پن بجلی کی صلاحیت تقریباً 50,000 میگاواٹ (50 GW) ہے یہ سٹڈی کا ڈیٹا ہے ہوائی بات نہی ہے اگر پاکستان یہ 800ارب صرف ایک سال ونڈ ٹربائن پر لگائے تو ہم 800ونڈ ٹربائن لگا سکتے ایک ونڈ ٹربائن ایک ارب کی آتی ہے اور یہ آٹھ سو ٹربائن 24 ہزار میگاواٹ بجلی بنائے گی یہ مفت بجلی ہے یہ پاکستان کی ساری بجلی کی ضرورت ختم کر دے گی یہ تین ہزار ارب تو کپیسٹی پیمنٹ بچائے گی
اس رقم سے اگر عورتوں کو انڈسٹری لگا دیں ان کو مفت بجلی دیں پاکستان اربوں ڈالر زرمبادلہ کما سکتا ہے مگر ہمارے پالیسی ساز کبھی یہ نہی کریں گے وہ آٹھ سو ارب مفت میں بانٹ دیتے جس سے غربت اور بڑھ رہی ساتھ ساتھ قرضے بھی کیونکہ ہم قرض لے کر یہ بانٹ رہے
تصویر میں نظر آنے والی خاتون کلثوم شہباز شریف کی پانچویں بیوی ہے،
کلثوم صاحبہ کی رنگین زندگی کے بارے میں بڑی دلچسپ کہانی ہے
کلثوم صاحبہ نے 1999 میں ایک ایس ایس پی سے شادی کی تھی
ہوا کُچھ یوں کہ سال تھا 2012، اور شہباز شریف پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ تھا، ایک نجی محفل میں ایس ایس پی اپنی بیگم کلثوم کو شہباز شریف کے سامنے لے آیا، اور شہباز شریف کا کلثوم پر دل آگیا
کلثوم 2012 میں تین بچوں کی ماں تھی، لیکن شہباز شریف کی محبت اس قدر طاقتور تھی کہ تین بچوں کی ماں نے زبردستی ایس ایس پی سے طلاق کا مطالبہ کردیا
ایس ایس پی نے پہلے تو مزاحمت کی لیکن پھر پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے پیغام گیا کہ "میں شہباز شریف بات کررہا ہوں اور کلثوم صرف میری ہے، اگر میری نہ ہوسکی تو ایس ایس پی صاحب، آپ کی نوکری بھی جائیگی اور ساتھ ساتھ آپ بھی خالقِ حقیقی کے پاس چلے جائیں گے کیونکہ میرے پاس عابد باکسر جیسے ہزاروں ہیں جو پلک جھپکتے ہی پار لگا دیتے ہیں"
یہ سن کر ایس ایس پی نے کہا کہ "سر جی، کلثوم تو میں آپ کو دے دیتا ہوں مگر میرا بھی تو سوچیں"
اور پھر کلثوم کو طارق عباس قریشی نے طلاق دے دی اور بدلے میں آج تک ایس ایس پی کی نوکری قائم ہے، آج وہی ایس ایس پی ایسٹبلشمنٹ ڈویژن میں اکیسویں گریڈ کا افسر ہے
کلثوم کو 2012 میں طلاق ہونے کے بعد کلثوم نے خفیہ طور پر اپنے محبوب شہباز شریف سے نکاح کرلیا، اس نکاح کو پرائیویٹ رکھنے کیلئے شہباز شریف کلثوم کو لندن لے گیا اور آج بھی تین بچوں کے ہمراہ کلثوم لندن میں عیش کررہی ہے
عاشق کی عاشقی بھی پوری ہوگئی، اور نوکر کی نوکری بھی آج تک قائم ہے۔
یہ انکل غصہ میں شہباز شریف کی پین کو لندن کیوں دے رہے ہیں. لوگ کہہ رہے پٹرول مہنگا ہو گیا لیکن پٹواری کہتے انکی باجییوں کا کاروبار تو ٹھیک چل رہا ہے اب کس کی بات مانے ؟
اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے!!
دجالی میڈیا پر اربوں روپے سے بنایا گیا بیانیہ سوشل میڈیا پر اس کلپ نے اڑا دیا!!🔥🔥
پاکستانی موجودہ ریجیم کو بدترین ریجیم مانتے ہیں!
آئی پی پیز کی ادائیگیاں2000 ارب روپے سالانہ سے بھی بڑھ چکی ہیں اور آنیوالے سالوں میں بہت تیزی سے بڑھیں گیں اور یہ سارا بوجھ عوام اٹھائے گی۔
اشرافیہ کو چالیس گنا اضافی منافع دینے کا انتظام کیا گیا! گوہر اعجاز۔
جب آئی پی پیز کے معاہدے کیے جا رہے تھے اور اس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں فریق شامل تھے، اُس وقت یہ احساس نہیں تھا کہ آگے چل کر یہ فیصلے کتنے سنگین مسائل پیدا کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے اس وقت بھرپور مؤقف اپنایا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدے شفاف نہیں، ریٹس غیر معمولی طور پر زیادہ رکھے جا رہے ہیں، اور سوورین گارنٹیز مستقبل میں معیشت کے لیے بڑا بوجھ بن جائیں گی۔
اس کے باوجود ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے ان معاہدوں پر دستخط کیے! نجم سیٹھی۔
کسی نے کمال بنایا ہے❤️
مجھے یاد ہے, 2019/20 جب کرونا میں, عمران خان نے عوام کو کتنا ریلیف دیا تھا,
لوڈ شیڈنگ 75 سال بعد ختم ہوچکا تھا, ڈرون اٹیک اور بم دھماکے ختم ہوکر امن قائم تھا، GDP تاریخ کی بلند ترین 6 فیصد پہنچ گیا تھا,
لیکن اسوقت کی میڈیا نے مہنگائی کا ایک بیانیہ بنایا تھا, کیوںکہ میڈیا کے لیفافے عوام پر خرچ ہوتے رہے!!
جعلی نظام کا اہم ترین آفیشل گواہ!!
کمشنر روالپنڈی نے خود کہا تھا, یہ گواہی موجودہ ریجیم پر آرٹیکل 6 لگنے کے لیے کافی ہے!!!
جعلی حکومت اور جعلی نظام کے دن گنے جا چکے ہیں!