@realrazidada ان غریب بے روزگاروں کی روزی کیوں چین رہی ہیں حکومت کو چاہیے کسی سرکاری سکول میں شام کے وقت انکو ٹیوشن کی اجازت دی جائے سرکاری عمارت کچھ تو ان بے سہاروں کے کام ائے
چونکہ بند بجلی گھروں کا خرچہ بھی حکومت نے دینا ہے اس لیے شہباز شریف حکومت کا اعلان ہے
بجلی استعمال کریں نا کریں بل آپ کو پورا دینا ہو گا اب بات استعمال شدہ یونٹ کی نہی رہ گئ ہے
مظہر عباس پاکستان کے ان چند ایک صحافیوں میں سے ہیں جن کے موقف میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آئی
اس میں کوئی شک نہیں مظہر عباس PTI کے ناقدین میں سے ایک تھے لیکن اگر آج PTI زیر عتاب ہے تو ان کے موقف میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں آئی ان کا جمہوریت پر جو کل موقف تھا آج بھی وہی ہے یہ آج بھی غلط کو غلط اور صیح کو صیح کہتے ہیں
چار سال سے بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کا آج بھی سرچارج بلوں میں لگا ہوا ہے، اور جس پر ہر سال ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس پر پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں چئیرمین نیسپاک نے جو بریفنگ دی وہ "چیٹ جی بی ٹی" سے لکھوائی گئی تھی اور جس پر جناب پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کروڑوں روپے میں تنخواہیں لے کر پندرہ ارب روپے کے پراجیکٹ کو سوا چھ سو ارب روپے میں مکمل کروانے والے نیسپاک کے حرام خوروں کا بھی کبھی احتساب ہو گا؟؟؟
پلاننگ کمیشن میں بیٹھے غدار، جنہوں نے بھارت کی سہولت کاری کرتے ہوئے اس منصوبے میں چار سالتاخیر کی، ان پر بات کرنے سے مسلم لیگ ن کو آگ لگ جاتی ہے۔
جب اس پراجیکٹ کی قوم کو ضرورت پڑی تو یہ بند پڑا ہے اور کوئی اس کا جواب دینے کو تیار نہیں۔
@Jinn_XY@muzamil_45 Ur sarcastic remarks are, ofcourse , insulting to d people of d province. A few people are involved in smuggling, a whole nation can't be held accountable. Nexus of law enforcing agencies, d babus and holy cows, and smugglers should be kept in mind while accusing a whole nation
@HamidMirPAK Trump is angry with Iran and not with others, u may hv forgotten d fact that others had already agreed to comply with his order since last year when they joined his peace board.d recent attacks r just to intimidate d others and to show his muscles, others hv made their minds.
@irfijournalist بیورو کریٹ کرپشن میں شامل ہوتے ہیں۔وزیر کیسے خود کرپشن کرسکتا ہے۔کاغذی کاروائی تو بیوروکریسی کے آفس سے دستخط ہو کے نکلتی ہے۔کس بیوروکریٹ نے غلط کام کرنے سے انکار کیا ہے۔کونسا ٹینڈر بغیر محکمانہ کاروائی کے جاری ہوتاہے۔تو بھی بڑا چوتیا ہے