اڑ��ائی منٹ کی اس ویڈیو میں عمر نزیر کشمیری نے ایجنسیوں کے کالے چینل کا نفرت انگیز پراپیگنڈا تباہ کر دیا۔ غور سے سنیے ہمارے کشمیری بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔ باقی ظلم کے شکار ناراض لوگ پاکستان میں بھی سخت شکو�� کرتے رہتے ہیں۔
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر س�� اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
🇵🇰🇺🇸 The cable that toppled a government is finally public.
On March 7, 2022, Pakistan's ambassador in Washington sat down with U.S. assistant secretary of state Donald Lu. The message was short and clear, remove Imran Khan through a no-confidence vote and Washington will look the other way. "All will be forgiven," the ambassador later recalled. Thirty three days later, Khan was gone.
But this didn't start with that meeting. In June 2021, CIA Director William Burns personally flew to Islamabad to meet Khan. Waited a full day. Khan never showed. Said he'd only speak to his counterpart, meaning Biden, who had been dodging Khan's calls since day one. Burns left with nothing. Weeks later Khan went on record with Axios and just said it out loud, "Absolutely not. There is no way we are going to allow any bases, any sort of action from Pakistani territory into Afghanistan." No diplomatic cushioning, no ambiguity.
Washington had its answer. Pakistan's military had seen enough of their own prime minister.
In July 2021, behind Khan's back, the military quietly put a former CIA Islamabad station chief on retainer as a lobbyist in Washington. The generals were already cutting their own deal.
Then came the moment that sealed it. On February 24, 2022, the exact day Russian tanks rolled into Ukraine, Khan was in Moscow shaking hands with Putin on a long scheduled visit. Biden's national security advisor Sullivan had personally called Islamabad days before urging them to cancel. Khan didn't budge. Pakistan then abstained on the UN vote condemning the invasion. Washington was done.
Weeks later came the Lu meeting. The cable. And then Khan was out.
What followed was a gut punch. Artillery shells started flowing to Ukraine secretly through U.S. defense contractors. American support for Pakistan's IMF lifeline was explicitly tied to keeping that weapons pipeline running. Pakistan got its $3 billion bailout in July 2023. In February 2024 the military brazenly rigged the elections and the U.S. and EU sat on their hands and said nothing.
And Khan? Buried under a never ending conveyor belt of charges, corruption, contempt, national security, one case collapsing only for another to appear. He has been behind bars for nearly 3 years now. His wife still in prison. His party outlawed, stripped of its electoral symbol, barred from even fielding candidates under its own name.
The cypher was always real. They called it fake, jailed the man who leaked it, and hoped everyone would move on. They didn't.
Source: Drop Site News
🚨 انمول پنکی کا انکشاف
مجھ سے زبردستی بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ آپ کہیں کہ آپ بنی گالا میں سامان دے کر آتی رہی ہو
یہ بے شرم فیصلہ ساز اس قدر گر چکے ہیں کہ اب دوبارہ سے عمران خا�� کے خلاف اس قسم کی گھناؤنی سازشیں کررہے ہیں
اگر آپ میڈیسن کھائے بغیر صرف تین دن میں کمر درد، بلڈ پریشر، شوگر، سینے کا درد، معدے کا مسئلہ اور سانس کی تکلیف دور کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر کی ان ہدایات پر عمل کریں۔
اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے
اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھلیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے ایسےپروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روعب جماتا ہے
جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں ہونگےعرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے
جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینئرز ضرورت ہے
I understand @ImranKhanPTI son's frustration. While Pakistani government's efforts at facilitating negotiations to end the war between #USA/#Israel and #Iran is commendable, we should not forget its terrible and unjust treatment of @ImranKhanPTI, his family and his supporters.#Pakistan
https://t.co/uZAXNf6mY8
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember
YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES
We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE!
@ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
آؤ دنیا کو بتا دیں
عمران خان کی تین سالہ دور حکومت اور کارکردگی
1۔احساس کفالت پروگرام
2۔لنگر خانے
3۔شیلٹر ہوم کا قیام
4۔راشن کارڈ
5۔کسان کارڈ
6۔صحت انصاف کارڈ
7۔احساس سکالر شپ پروگرام
8۔انصاف آفٹر نون سکول
9۔انصاف معذور و بزرگ کارڈ
10۔مزدور کارڈ
11۔روشن ڈیجیٹل پروگرام
12۔خدمت ای مراکز کا قیام
13۔نیب کو با اختیار بنانا
14۔راست پروگرام
15۔سیرت یونیورسٹی کا قیام
16۔ٹورازم کا فروغ
17۔بلین سونامی ٹری کا آغاز
18۔ ٹیکس ریفارمز
19۔کرکٹ سے ہی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین
20۔پاکستان میں کرکٹ کی بحالی
21۔ پی ایس ایل کی کامیابی
22۔ای ٹرانسفر و پنشن کا قیام
23۔بھاشا، ۔مہمند اور واسو ڈیم پر کام کا آغاز
24۔اپنا گھر سکیم کا قیام
25۔بلا سود قرضے کی سکیم
26۔21 نئی یونیورسٹیوں پر کام کا آغاز
27۔اور 23 نئے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں پر کام
28۔پاکستان سٹیزن پورٹل کا قیام
29۔رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی کا قیام
30۔ہر فورم پر حرمت رسولؐ پر آواز اٹھانا
31۔پی آئی اے، پی ٹی وی اور این ایچ اے کو منافع بخش ادارہ بنانا
32۔زمینوں کی ڈیجیٹلائزیش
33۔دنیا کی 11ویں بڑی آئل ریفائنری کا قیام
34۔خیبر پی کے میں یتیم خانے اور اولڈ ہوم کا قیام
35- کرونا میں سری لنکا کے مسلمانوں کو مرنے کے بعد جلائے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور رکوایا
36۔کشمیر اور فلسطین کی آواز اٹھائی
37۔سکولوں میں صبح درود شریف اور قرآن پاک کی تعلیم کا آغاز
38۔قرآن کی تعلیم کے بغیر ڈگری دینے کا قانون ختم کرنا
39۔یکسان نظام تعلیم لاگو کرنے کی کوشش
40۔ریکوڈک منصوبے بر کام
41۔سعودی عرب سے مزدوروں کی رہائی
42۔پوری دنیا کی حاکمیت صرف اللہ کے پاس ہے اس چیز کو پوری دنیا میں باور کرانا
43۔قوم کے اندر خوداری پیدا کرنا
44. ملک کی گرتی معشیت کو دوبارہ پاؤں پہ کھڑا کرنا
45. تجارتی خسارے کا خاتمہ
زرع مبادلہ کے ذخائر میں _اضافہ
46. غیر ملکی قرضوں کی واپسی
47. سی پیک اتھارٹی کا قیام
48. گوادر پورٹ کو فنکشنل کرنا
49. انفراسٹرکچر نواز کے پانچ سالہ دور سے ڈبل اور کم لاگت پہ کرنا
50. ملکی خزانے کو 9 ارب ڈالر سے 22 ارب ڈالر تک لے جانا
51. اسلامو فوبیہ کی قرارداد یو این سے منظور کروانا
52. کشمیر کا کیس پوری دنیا میں لڑنا
53. پاکستان کا کیس یو این میں اچھے طریقے سے پیش کرنا
54. امریکہ کو اڈے نا دینا ایبسلوٹلی ناٹ
55. بند صنعتوں کو دوبارہ چلانا
56. رشیا کے ساتھ ملکی مفاد تجارتی معاہدہ کی کوشش
57. چوروں سے 397 ارب روپے کی ریکوری
58. کار کے کمپنی کیساتھ مذاکرات کر کے جرمانہ معاف کروانا
59. ایل این جی کے دوبارہ سستے معاہدے کرنا
60. احساس پروگرام کی شفافیت اور بلا تفریق تقسیم
61ْْْ اپنے دور حکومت میں او آئ سی اجلاس دو بار
اسلام آباد بلانا اور 57 اسلامی مما��ک کی سربراہی پاکستان کو دلانا
62۔کرونا وائرس میں بہترین حکمت عملی
63 سکھوں کے دل میں پاکستان کی عزت کرانا كرتار پور باڈر کھول کر
*عمران خان پاکستان اور قوم کی ترقی دیکھ کہ سب تمہارے خلاف ہو گئے میں پہلے سے بھی زیادہ جذبے کے ساتھ عمران خان کے ساتھ ہوں کیونکہ عمران خان تم عزم شجاعت بہادری اور خودداری کی علامت ہو پاکستان میں تم واقعی مسلم امہ کے لیڈر ہو ہار،جیت, اٹھنا گرنا، یہ وقتی باتیں ہیں یہ دنیا داری ہے تم دنیا کی عظیم فکر کے وارث ہو اصل جیت ہی فکر اور نظریہ کی جیت ہوتی ہے اور وہ تم جیت چکے ہو تم نے قوم کو یہ بتا دیا ہے کہ یہ نظام کتنا گندا نظام ہے۔
@MaidahMuhammad
Imran Khan has been kept in solitary confinement for six months under brutal conditions, while Bushra Bibi is being held the same way. Their freedom is being deliberately blocked by the Chief Justice of the Islamabad High Court, who refuses to fix their bail hearings.
Imran Khan has made it clear that the judiciary is no longer independent, it is acting like a tool of the government. Judges assigned to his cases are not delivering justice; they are ensuring hearings never happen. The reality is simple: the moment this case is heard, its weak and baseless nature will be exposed, and bail will become unavoidable. That is exactly why it is being stalled. Imran Khan and Bushra Bibi continued imprisonment is due to Judge Dogar, who is openly facilitating a government that came to power by stealing Imran Khan’s mandate.
Through Salman Safdar, Imran Khan has sent a message, his wife is being pushed to the edge by prolonged isolation. He has said he can endure this ظلم himself, but she is being broken to force him into submission. The pressure is deliberate, calculated, and inhumane. He said clearly “no deal, no surrender! It is liberty or death.”