سکول کا موجودہ نظام آپ کے بچے کو آج کے بجائے 1998 کی دنیا کے لیے تیار کر رہا ہے حالانکہ ہم 2026 میں رہ رہے ہیں۔
آپ کا بچہ صبح 4 بجے اٹھتا ہے۔
یونیفارم پہنتا ہے۔
دن کے تقریباً 10 گھنٹے کلاس روم میں گزار دیتا ہے۔
بلیک بورڈ سے نوٹس کاپی کرتا ہے۔
ایسی چیزیں رٹتا ہے جو اکثر جمعہ تک بھول بھی جاتا ہے۔
گھر آ کر ہوم ورک میں پھر وہی باتیں دہراتا ہے۔
اور ہم اسے تعلیم کہتے ہیں۔
1998 میں یہ بات سمجھ آتی تھی۔
دنیا کو ملازمین کی ضرورت تھی۔
ایسے لوگ جو ہدایات پر عمل کریں۔
ایسے لوگ جو رٹا لگائیں اور دہرا دیں۔
ایسے لوگ جو سوال نہ کریں۔
نظام نے بالکل ویسے ہی لوگ پیدا کیے۔
لیکن یہ 2026 ہے۔
دنیا کو اب ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو صرف یاد کر سکیں۔
گوگل کے پاس ہر معلومات موجود ہے۔
اے ائی چند سیکنڈ میں کسی بھی کتاب کا خلاصہ کر سکتا ہے۔
آپ کے بچے کے لیے پرانی تاریخیں اور رٹے ہوئے سوالات اب اتنے اہم نہیں ہیں جتنے پہلے تھے۔
اب دنیا کو جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ مختلف ہیں۔
تنقیدی سوچ (Critical thinking)
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت
تخلیقی سوچ
مؤثر بات چیت (Communication)
ڈیجیٹل مہارتیں
آپ کے بچے کا سکول یہ سب کچھ نہیں سکھاتا۔
وہ بچے کو سکھاتا ہے کہ 8 گھنٹے خاموش بیٹھو۔
استاد پر سوال نہ اٹھاؤ۔
جو بلیک بورڈ پر ہے اسے کاپی کرو۔
امتحان پاس کرو اور اگلے دن سب بھول جاؤ۔
یہ تعلیم نہیں ہے۔
یہ اطاعت (obedience) کی تربیت ہے۔
میں نے بھی اسی سسٹم سے تعلیم حاصل کی۔
میں پاس ہوا۔
مجھے سرٹیفکیٹ ملا۔
اور جب میں حقیقی دنیا میں آیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے کچھ بھی عملی طور پر نہیں آتا۔
میں پروپوزل نہیں لکھ سکتا تھا۔
میں پیسے کا انتظام نہیں کر سکتا تھا۔
میں کچھ بھی بیچ نہیں سکتا تھا۔
میں کانٹینٹ نہیں بنا سکتا تھا۔
میں ویب سائٹ نہیں بنا سکتا تھا۔
یہاں تک کہ ایک صحیح ای میل بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔
لیکن مجھے پاکستان کی تاریخ کے کچھ باب، پرانے واقعات اور درسی کتابوں کے لمبے لمبے اسباق تفصیل سے یاد تھے۔
مسئلہ نظام کا نہیں ہے۔
اس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔
ایسے طلبہ تیار کرنا جو ایک ایسے نظام کے لیے ہوں جو صرف امتحان اور ڈگری پر چلتا ہے، نہ کہ حقیقی زندگی کی مہارتوں پر۔
آپ کا بچہ آج اسی نظام میں بیٹھا ہے۔
وہی چیزیں سیکھ رہا ہے۔
مگر دنیا جو بہت پہلے بدل چکی ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بچے کو سکول سے نکال دیں۔
لیکن یہ کہہ رہا ہوں کہ سکول کافی نہیں ہے۔
سکول کے بعد اصل سیکھنا شروع ہوتا ہے۔
انہیں Canva دکھائیں۔
ویڈیو ایڈیٹنگ کیسے ہوتی ہے یہ سکھائیں۔
ویب سائٹ کیسے بنتی ہے یہ دکھائیں۔
انہیں AI ٹولز سے متعارف کروائیں۔
انہیں کچھ بنانے دیں۔
کچھ بھی۔
ایک پوسٹر۔
ایک چھوٹی ویڈیو۔
ایک سادہ ویب پیج۔
انہیں یہ احساس دلائیں کہ یاد کرنے کے کیساتھ کچھ تخلیق کرنا بھی معنی رکھتا ہے۔
2030 میں کامیاب وہ بچے نہیں ہوں گے جن کے نمبر سب سے زیادہ ہوں۔
بلکہ وہ ہوں گے جو سوچ سکتے ہیں۔
تخلیق کر سکتے ہیں۔
مسائل حل کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں۔
والدین کا کام یہ ہے کہ اس وہ خلا پُر کریں جو سکول کا نظام پورا نہیں کرتا۔
اپنے بچے کے مستقبل کو اس نظام کے سپرد نہ کریں جو آپ کے اپنے سکول کے دور سے آج تک اپڈیٹ نہیں ہوا۔
نصاب کاغذوں پر بدل گیا ہے۔
لیکن کلاس روم نہیں بدلے۔
منقول
اگر دکاندار آپ کو لیپ ٹاپ چیک کرنے کے لیے صرف چند گھنٹے یا 24 گھنٹے کا وقت دے تو اتنے کم وقت میں اسے کیسے اچھی طرح چیک کیا جائے؟
اس ویڈیو میں لیپ ٹاپ چیک کرنے کا ایک آسان اور مکمل طریقہ بتایا گیا ہے، جس کی مدد سے خریدنے سے پہلے اس کے اہم حصے اور ممکنہ مسائل چیک کیے جا سکتے ہیں۔
لیپ ٹاپ خریدنے کا ارادہ ہے تو یہ ویڈیو پہلے ضرور دیکھیں، تاکہ بعد میں کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان میں زندگی گزارنے کے 15 طریقے
پاکستان میں زندگی گزارنا ایک فن ہے، اور یہاں وہی شخص سکون سے رہتا ہے جو حالات سے لڑنے کی بجائے انہیں ”ہینڈل“ کرنا سیکھ لے۔ یہ وہ 15 زمینی حقائق ہیں جنہیں اگر آپ حکمت اور سمجھداری کی ”میٹھی گولی“ سمجھ کر نگل لیں، تو آپ کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔
1-ظاہر پر یقین
یہاں لوگ کتاب کو اس کے سرورق سے جج کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت، لباس اور گفتگو کا انداز آپ کی آدھی کامیابی ہے۔ اگر آپ خود کو اچھے طریقے سے پیش کریں گے (Well-dressed)، تو دکان ہو یا دفتر، آپ کو عزت اور راستہ دونوں ملیں گے۔ اسے دکھاوا نہ سمجھیں، اسے ”پریزنٹیشن“ سمجھیں۔
2-تعلقات ایک سرمایہ ہیں
اسے سفارش کہہ کر مسترد نہ کریں، اسے ”تعلقاتِ عامہ“ (PR) سمجھیں۔ مشکل وقت میں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ لوگوں سے خلوص سے ملیں اور تعلق بنائیں، کیونکہ پاکستان میں ایک فون کال وہ کام کروا سکتی ہے جو مہینوں کی خواری نہیں کروا سکتی۔
3-اپنی خوشی کی حفاظت
نظر لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ اپنی کامیابی، اپنی تنخواہ اور اپنے مستقبل کے پلانز کو راز رکھیں۔ خوشی کا شور مچانے کے بجائے اسے خاموشی سے منائیں، کیونکہ خاموشی میں سکون ہے اور شور میں حسد۔
4-اپنی مدد آپ
کسی مسیحا یا حکومت کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈیں۔ یہاں سسٹم تھوڑا سست ہے، اس لیے جو شخص اپنی ذمہ داری خود اٹھا لیتا ہے اور متبادل انتظام (جیسے جنریٹر، سولر، پرائیویٹ میڈیکل) کر لیتا ہے، وہ ڈپریشن سے بچ جاتا ہے۔
5-زبان کی مٹھاس
پاکستان میں لہجے کی سختی کام بگاڑ دیتی ہے اور زبان کی مٹھاس پہاڑ جیسا مسئلہ حل کروا دیتی ہے۔ ”بھائی جان“ اور ”محترم“ کہہ کر بات کرنے سے آپ کا کام جلدی ہو جاتا ہے۔ یہاں غصے کی بجائے عاجزی زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔
6-انگریزی بطور ہنر
انگریزی سے مرعوب ہونے کی بجائے اسے ایک ”ٹول“ یا اوزار سمجھ کر سیکھ لیں۔ یہ بین الاقوامی زبان ہے اور ترقی کی چابی ہے۔ اگر آپ کو اچھی انگریزی آتی ہے تو آپ کی بات زیادہ وزن دار سمجھی جاتی ہے، اسے اپنی پروفیشنل لائف کا حصہ بنائیں۔
7-صحت سب سے پہلے
سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کے پیشِ نظر دانشمندی اسی میں ہے کہ بیماری کا انتظار نہ کیا جائے۔ اپنی خوراک اور ورزش پر دھیان دیں تاکہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ یہاں پرہیز علاج سے واقعی بہت بہتر ہے۔
8-بحث سے گریز
سڑک پر یا سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے ذہنی دباؤ کے۔ یہاں ہر شخص اپنی رائے میں حق بجانب ہے۔ مسکرا کر گزر جانا یا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں“ کہہ کر بات ختم کر دینا ذہنی سکون کی ضمانت ہے۔
9-مالی منصوبہ بندی
مہنگائی ایک حقیقت ہے، اس پر کڑھنے کی بجائے اپنی آمدنی بڑھانے پر توجہ دیں۔ بچت کو کیش کی صورت میں رکھنے کے بجائے کسی ایسی چیز (سونا/پلاٹ) میں رکھیں جس کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھے۔ یہ معاشی سمجھداری ہے۔
10-امید لیکن تیاری کے ساتھ
اچھے کی امید رکھیں لیکن برے حالات کے لیے تیار رہیں۔ اپنے پاس ہمیشہ ایک ”پلان بی“ رکھیں۔ چاہے وہ آمدنی کا دوسرا ذریعہ ہو یا ایمرجنسی فنڈ، یہ آپ کو راتوں کو پرسکون نیند دے گا۔
11-رشتہ داروں سے فاصلہ اور محبت
رشتہ داروں سے محبت ضرور کریں لیکن اپنے مالی اور نجی معاملات میں ایک حد (Boundary) قائم رکھیں۔ دوریوں میں عزت برقرار رہتی ہے۔ میل جول اتنا رکھیں جتنا دونوں طرف سے خوش اسلوبی سے نبھایا جا سکے۔
12-قانون اور احتیاط
قانون کو توڑنے کی بجائے اس کے احترام کو اپنی طاقت بنائیں۔ ہیلمٹ پہننا، لائسنس ساتھ رکھنا اور ٹیکس دینا آپ کو پولیس یا اداروں کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ قانون پر عمل کرنا دراصل خود کو محفوظ کرنا ہے۔
13-ہنر کی قدر
صرف ڈگری پر انحصار کرنے کی بجائے کوئی ایسا ہنر سیکھیں جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو۔ ڈگری آپ کو انٹرویو تک لے جائے گی، لیکن آپ کا ہنر (Skill) آپ کو کرسی پر بٹھائے گا اور ترقی دے گا۔
14-وقت کی قدر
اگرچہ یہاں وقت کی پابندی کم ہوتی ہے، لیکن اگر آپ وقت کے پابند بن جائیں تو آپ دوسروں سے ممتاز (Stand out) ہو جائیں گے۔ جو شخص دوسروں کے وقت کی عزت کرتا ہے، لوگ اس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
15-شکر گزاری
اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں جو نعمتیں (خاندان، کھانا، آزادی) میسر ہیں، ان پر شکر ادا کریں۔ شکوہ کرنے سے نعمتیں کم لگتی ہیں، شکر کرنے سے ان میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ مثبت رویہ ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
محرک کا مشورہ
پاکستان گلاب کے پھول کی طرح ہے، اس میں کانٹے (مسائل) ضرور ہیں لیکن اس کی خوشبو (اپنائیت اور مواقع) بھی لاجواب ہے۔ کانٹوں سے دامن بچائیں اور خوشبو سے لطف اٹھائیں۔ یہاں جینا مشکل نہیں، بس تھوڑا ”اسمارٹ“ ہونا پڑتا ہے۔
جاوید_تیمور
"پیٹرول پر ریلیف کا مرحلہ بڑا ہی آسان ہے، ذرا سنیے: اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل نمبر سے RG لکھ کر سپیس دیں۔ پھر اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر سپیس دیں۔ پھر بغیر سپیس کے نمبر پلیٹ لکھنے کے بعد سپیس دیں۔ پھر صوبے کا نام (پہلا حرف) جہاں آپ کی گاڑی رجسٹرڈ ہے لکھ کر سپیس دیں۔ پھر وہیکل رجسٹریشن کی تاریخ بمعہ مہینہ اور سال لکھیں۔ چاروں تفصیلات سپیسز کے ساتھ ایک ہی میسج میں لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس کریں۔ رجسٹریشن کے بعد پیٹرول ریلیف حاصل کرنے کے لیے پیٹرول پمپ پر جانے سے پہلے TOK لکھ کر پھر 9771 پر بھیج دیں۔ موصول ہونے والے میسج پر گاڑی کی رجسٹریشن، پیٹرول کی مقدار اور ٹوکن استعمال کرنے کی مدت درج ہوگی۔ پھر یہ والا ٹوکن پیٹرول پمپ پر دکھانے سے آپ کو پیٹرول رعایت والی قیمت پر مل جائے گا"۔ مریم ظفر
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
زندگی کا ایک تلخ مگر گہرا سچ یہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ تکلیف دوسروں کے رویّوں سے نہیں، بلکہ ان رویّوں کے بارے میں اپنی توقعات سے ہوتی ہے۔
ہم اکثر اپنے خلوص کو دوسروں کے لیے پیمانہ بنا لیتے ہیں اور پھر یہ توقع کرتے ہیں کہ دنیا بھی ہمیں اسی میزان پر تولے گی۔ ہم جس طرح کسی کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے خاموش درد کو سمجھ لے گا؛ ہم جس وفا کو نبھاتے ہیں، گمان کرتے ہیں کہ سامنے والا بھی اسے اسی شدت سے نبھائے گا۔ مگر انسان اپنی فطرت، تربیت، تجربات اور ظرف کا اسیر ہوتا ہے۔
آپ کے گھر میں جسے احترام کہا گیا، ممکن ہے کسی اور کے گھر میں اسے کمزوری سمجھا گیا ہو۔ آپ کے لیے جسے وفاداری کا اصول سکھایا گیا، ممکن ہے کسی اور نے تعلقات کو ہمیشہ ضرورت اور مفاد کی نظر سے دیکھا ہو۔ آپ نے جن اقدار کو زندگی کا حصہ سمجھ کر اپنایا، ضروری نہیں کہ وہ دوسرے شخص کی شخصیت میں کبھی داخل ہی ہوئی ہوں۔
اسی لیے ہر شخص سے اپنے جیسا ہونے کی توقع، دراصل خود کو بار بار مایوسی کے حوالے کرنا ہے۔
سکون تب آتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر دل کی ساخت ایک جیسی نہیں ہوتی، ہر شخص کا ظرف یکساں نہیں ہوتا، اور ہر رشتہ ہماری دی ہوئی محبت کا ویسا ہی جواب دینے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔
لوگوں کو بدلنے کی خواہش چھوڑ کر انہیں سمجھنے کی کوشش کیجیے، اور جہاں سمجھنا بھی ممکن نہ ہو وہاں قبول کرکے آگے بڑھ جائیے۔
کیونکہ زندگی کا اصل سکون اس میں نہیں کہ دنیا آپ کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرے جیسا آپ دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں؛
بلکہ اس شعور میں ہے کہ آپ اپنی نیکی کا معیار دوسروں کے رویّے کو نہیں، اپنے کردار کو بنائیں۔
آپ اچھے اس لیے نہ رہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ اچھے رہیں گے؛
بلکہ اس لیے کہ اچھا ہونا آپ کی فطرت ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان دوسروں سے توقعات کم نہیں کرتا، بلکہ اپنی خوشی کی ذمہ داری دوسروں کے ہاتھوں سے واپس لے لیتا ہے۔
ChatGPT
کو یہ کہنا بند کریں: "میری تصویر ایڈٹ کرو
چیٹ جی بی ٹی کو یہ کہنا بند کریں: "بیک گراؤنڈ ہٹا دو
چیٹ جی بی ٹی کو یہ کہنا بند کریں: "اس تصویر کو بہتر بنا دو
غلط پرامٹ = غلط نتیجہ۔
اس کے بجائے یہ 10 کمانڈز استعمال کریں اور آپ خود جادو دیکھیں گے:👇
بس روانہ ہونے ہی والی تھی کہ ایک خاتون بھاگتی ہوئی چھلانگ لگاکر بس میں سوار ہوئی اور ایک مرد کے برابر نشست پر بیٹھی اسکے پرس نے ساتھ بیٹھے مرد کو چوٹ پہنچائی
مرد خاموش رہا، اس مرد کو خاموش دیکھ کر عورت نے سوال کیا کہ تم میرے پرس سے چوٹ پہنچنے کے باوجود خاموش کیوں رہے؟
مرد مسکرایا اور گویا ہوا :
"ایک معمولی سے چیز کے لیے مجھے برہم ہونے کے لیے کوئی ضرورت نہیں تھی جبکہ ہمارا ایکدوسرے کے ساتھ سفر نہایت مختصر ہے ، کیونکہ میں اگلے اسٹاپ پر اترنے والا ہوں"
اس جواب نے عورت کو بےچین کردیا اس نے اس مرد سے معافی طلب کی اور جو الفاظ سوچے وہ سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہیں
ہم میں سے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ دنیا میں ہمارا وقت بہت مختصر ہے، اس مختصر وقت کو بےجا بحت و تکرار ، حسد، کدورت اور دیگر رنجشوں سے تاریک نہیں کرنا چاہیے اور یہ خراب رویے وقت اور توانائی کی بربادی کا سبب ہوتے ہیں۔
کیا کسی نے اپکی دل شکنی کی ہے؟ پرسکون رہیے سفر بہت مختصر ہے💛
کیا کسی نے آپکو دھوکا دیا، ذلیل کیا ہے؟
ریلیکس رہیں ، دباؤ کا شکار نہ ہوں
سفر بہت مختصر ہے
کیا کسی نے بلاسبب آپکی بےعزتی کی ہے؟
پرسکون رہیے اور نظرانداز کیجیے
سفر بہت مختصر ہے
کیا کسی نے آپ پر ناپسندیدہ تبصرہ کیا ہے؟
ہرسکون رہیے، نظرانداز اور معاف کیجیے ، انکو اپنی دعا میں یاد رکھیں، اور بغیر صلہ کے ان سے محبت کیجیے
سفر بہت مختصر ہے
ہر وہ تکلیف جو کسی دوسرے سے آپکو ملی، درحقیقت وہ اس وقت ہی تکلیف بنتی ہے جب آپ اسکے بارے میں سوچتے ہیں
یاد رکھیے ہمارا ایکدوسرے کے ساتھ سفر بہت مختصر ہے
کوئی اس سفر کی طوالت سے واقف نہیں، کل کسی نے نہیں دیکھا، کوئی نہیں جانتا کہ وہ اپنے اسٹاپ پر کب پہنچ جائیگا
ہمارا سفر بہت مختصر ہے
آئیں اپنے خاندان اور دوستوں کی تعریف کریں۔ ان سے ہنسی مذاق کیجیے، انکا احترام کیجیے، محبت کرنے والے اور درگزر کرنے والے بنیں
کیونکہ سفر بہت مختصر ہے
مسکراہٹ بانٹیں ، اپنا سفر اتنی ہی خوبصورتی سے اختیار کریں جیسا آپ اسکو خوبصورت دیکھنا چاہتے ہیں
*"ھمارا سفر بہت مختصر ہے❤️
محبت سے اپنے دلوں کو روشن کرو،
کیونکہ جب دل محبت کرنا سیکھتے ہیں تو اُن میں روشنی اتر آتی ہے۔
اور جن سے محبت کرتے ہو، اُنہیں سلام کہا کرو،
کیونکہ محبوب کی زبان سے نکلا ہوا سلام، محب کے لیے شفا بن جاتا ہے۔
لوگ اُس وقت مردہ ہوتے ہیں جب اُن کے دل نفرت سے بھر جائیں،
اور اہلِ محبت اپنی محبت کے سبب ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
جنرل حمید گل کی ہر بات سے میں اتفاق نہیں کرتا لیکن یہاں پر یہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
یمن ایک پھندہ ہے اور جو فوج اس میں پھنس گئی پھر وہ اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکے گی۔۔ مصر کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا پہلے۔ پھر اسرائیل نے بہت تسلی سے مصر کو کچل کر رکھ دیا تھا
1/2
یہ لڑکا ایک سیاح ہے جو دنیا گھومتا ہے۔ جب اسرائیلی ٹی وی اینکر نے اس کا پسندیدہ ملک پوچھا، تو اس کے منہ سے بے ساختہ 'پاکستان' نکلا۔ پھر آگے کیا ہوا، آپ خود ملاحظہ کریں!
کیا اپ جانتے ہیں دس سے بارہ لاکھ میں ہونے والا IVF پراسیز جس کے تحت بے اولاد جوڑے اللہ کے حکم سے اپنی اولاد حاصل کرتے ہیں وہ پاکستان میں اک ہسپتال اسی ہزار روپے میں کر رہا ہے ۔
اولاد اللہ کی طرف سے ہوتی ہے یہ بات ہر مسلمان کے دل میں پتھر پر لکیر کی طرح کندہ ہے مگر جن جوڑوں کے گھر برسوں سے یہ نعمت نہیں آئی وہ جانتے ہیں کہ انتظار کی راتیں کتنی طویل ہوتی ہیں اور امید کا دیا کتنی بار بجھتے بجھتے دوبارہ جلتا ہے ۔
IVF دراصل کوئی معجزہ یا تخلیق کا متبادل نہیں بلکہ محض ان طبی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بچے کی پیدائش کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں شریعت میں اس عمل کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔
کیونکہ اس میں میاں بیوی کے اپنے مادہ تولید کو استعمال کیا جاتا ہے اور رحم مادر میں وہی امانت رکھی جاتی ہے جو اللہ نے پہلے ہی ان کے نصیب میں لکھ رکھی ہے پاکستان میں نوجوان جوڑوں میں اس کی کامیابی کی شرح ساٹھ سے ستر فیصد تک بتائی جاتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل نہ صرف شرعاً جائز بلکہ میڈیکل طور پر بھی قابل بھروسہ ہے۔
اسی میدان میں ایک نام ڈاکٹر محمد اعجاز انجم کا لیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پچیس برس امریکہ میں ڈاکٹری کر چکے ہیں اور IVF گائناکالوجی کے ماہر ہیں ۔ اور اسی فیلڈ میں امریکہ میں بہترین کام کر چکے ہیں ۔
ان کا اپنا بیان ہے کہ امریکہ میں ان کے پاس دولت بھی تھی اور بہترین زندگی بھی مگر دل میں ایک خیال بار بار آتا رہا کہ پاکستان کے غریب بے اولاد جوڑے جو دس سے بارہ لاکھ روپے کے اخراجات کے سامنے بے بس ہیں وہ یہ نعمت کیسے پائیں گے انہی کے بقول اسی خیال نے انہیں واپس پاکستان کھینچ لیا اور انہوں نے آزاد کشمیر پشاور سوات اور لاہور میں سنٹرز قائم کیے جہاں وہی طریقہ کار جو لاکھوں میں ہوتا ہے کہیں کم قیمت میں پیش کیا جانے لگا۔
ڈاکٹر صاحب کا دعویٰ ہے کہ اصل لاگت اتنی زیادہ نہیں جتنی مریضوں سے وصول کی جاتی ہے اور یہی بات جب انہوں نے کھل کر کہی تو ان کے بقول میڈیکل کمیونٹی کے ایک حصے نے اسے اپنے کاروبار کے لیے خطرہ سمجھا انہوں نے ان پر الزام لگانا شروع کر دیا ۔
پاکستان میں ای وی ایف ڈاکٹروں نے آپس میں مل کر ایک ریٹ طے کر رکھا ہے اور اس سے کم پر علاج نہ کرنے کی ضد ہے ڈاکٹر اعجاز انجم کے مطابق ان کے اس مؤقف کے بعد ان کے ہسپتالوں پر چھاپے پڑے مہنگی مشینری ضبط کی گئی اور انہیں ہر طرح سے تنگ کیا گیا۔
ڈاکٹر اعجاز انجم صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ان مشکلات کے باوجود اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور پورے پاکستان میں سستے IVF سنٹرز کھولنے کے ارادے پر قائم ہیں۔
اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو یہ واقعی کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ بانجھ پن کا دکھ صرف وہی جانتا ہے جو برسوں سے اولاد کی دعا مانگ رہا ہو اور پیسے کی کمی کے باعث علاج کا سوچ بھی نہ سکتا ہو ایسے میں ۔
اگر کوئی شخص اپنی آسائشیں چھوڑ کر واپس آئے اور غریبوں کے لیے کم قیمت پر یہی سہولت دینے کی کوشش کرے تو یہ قابل قدر بات ہے مگر ساتھ ہی ایک سچے صحافتی اور دینی اصول کی بھی یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی بھی طبی فیصلے سے پہلے خود تحقیق ضرور کریں ہسپتال کا طریقہ کار عملے کی قابلیت اور مریضوں کے تجربات خود دیکھیں دل مطمئن ہو تو ہی آگے بڑھیں ۔
کیونکہ اولاد کی خواہش جتنی مقدس ہے اتنی ہی احتیاط اس کے حصول کے راستے میں بھی ضروری ہے آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ پاک تمام بے اولاد جوڑوں کو نیک اولاد سے نوازے اور جو لوگ سچے دل سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں انہیں ثابت قدمی اور حفاظت عطا فرمائے۔
اس انفارمیشن کو اگے تک بھجیں تاکہ بے اولاد جوڑے جو برسوں سے صرف اس انتظار میں ہیں کہ انکے پاس پیسے نہی ہیں ان تک مسیج پہنچ سکے ۔ اور اس مہنگای اور لوٹ مار کے دور میں ڈاکٹر اعجاز صاحب کا اس ملک میں انا کسی نعمت سے کم نہی ہے ۔
اے اللہ میں کمزور بندہ ہوں اکثر تھک جاتا ہوں مگر مایوس کبھی نہیں ہوتا میں بہت ہی ناتواں ہوں مجھے تھام کر رکھیے گا کبھی خود سے دور نہ ہونے دیجئے گا آپ تو سب جانتے ہیں بس مجھے قلبی اور ذہنی سکون عطا فرما دیجئے ۔
کبھی کبھی تنہا بیٹھ کر رب کو یاد کریں اور دل سے کہا کریں الله مجھے آپ سے بے حد محبت ہے میں دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہو کر آپ کو نہیں کھونا چاہتا یا اللہ مجھے ایسا بنا دے کہ میرا ذکر آسمانوں میں ہو مجھے لوگ بیشک نہ جانتے ہوں مگر آپ اور آپ کے فرشتے مجھے جانتے ہوں۔