انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اُس پر ایک نگراں مقرّر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لئے) تیار! اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان!) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔
﴿سورۃ ق، ۱۸-۱۹﴾
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
تو کیا وہ "قرآن پر غور وفکر" نہیں کرتے؟
یا اُن کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟
سورۃ محمد، 47:24
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی مہربانی سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دِکھائے؟ یقینا اس میں ہر اُس شخص کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر کا پکا، اعلیٰ درجے کا شکرگذار ہو۔
﴿سورۃ لقمان، ۳۱﴾
زمانے کی قسم، انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اِیمان لائیں، اور نیک عمل کریں، اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔
﴿سورۃ العصر﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
وہی ہے جس کے حکم سے صبح کو پوپھٹتی ہے، اور اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے، اور سورج اور چاند کو ایک حساب کا پابند! یہ سب کچھ اُس ذات کی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، علم بھی کامل۔
﴿سورۃ الانعام، ۹۶﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“.
(صحیح بخاری ، ۷۲۸۰)
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اُس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا۔یقین جانو یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔
﴿سورۃ الحدید، ۲۲﴾
حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک تنگ راستے میں سجدہ ریز ہیں۔ چنانچہ وہ ایک طرف ہٹ گئے اور آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ گئے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے سجدے سے سر مبارک اٹھایا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اے عمر! تم نے بہت اچھا کیا کہ جب مجھے سجدے میں دیکھا تو ایک طرف ہٹ گئے۔ بے شک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے دس درجات بلند فرما دیتا ہے۔‘‘
الأدب المفرد، امام بخاری، حدیث: 642۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو ان میں قتل عام ہوجاتا ہے، جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ، ۱۷۸۳)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بیشک الله نے مجھے حکم دیا ہے، الله نے مجھ پر وحی فرمائی ہے کہ تم سب تواضع اور انکساری اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرے.
مسلم 7210
(ابوداؤد 4895؛ ماجہ 4179؛ مشکوٰۃ 4898)
تواضع اور انکساری = Being humble
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو ان میں قتل عام ہوجاتا ہے، جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ، ۱۷۸۳)