پہاڑوں کی ایک کہاوت ہے کہ برف کبھی بھی صرف برف نہیں ہوتی، وہ سوئی ہوئی آگ ہے۔ جب وقت آتا ہے تو وہ تودے کی صورت میں سب کچھ بہا لے جاتی ہے۔
انسان سمجھتا ہے کہ وہ پہاڑ کو کاٹ کر سڑک بنا سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہاڑ نے بس وقتی طور پر اسے گزرنے دیا ہوتا ہے۔ اصل فیصلہ فطرت کا ہے۔
ہم پل، ڈیم، عمارتیں اور شہر بناتے ہیں، لیکن زمین کا صبر جب ٹوٹتا ہے تو زلزلہ لمحوں میں ہماری ساری محنت کو مٹی کر دیتا ہے۔
یہ سب یاد دلاتا ہے کہ ہم مالک نہیں، بس مسافر ہیں۔
قدرت کی طاقت کے سامنے انسان کی اوقات لمحاتی ہے۔
خدا کا عذاب کہنے سے پہلے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم نے
@GFarooqi پتہ نہیں یہ کون سا کھیل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف کالم لکھے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ضمانتیں دی جا رہی ہیں۔ آپ بھی سوچئے کہ آپ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اگر آپ کا سلسلہ ختم ہو گیا تو جلد ہی منظر سے اوجھل ہو جائیں گے۔ آپ کو چاہیے کہ صحافت کریں، سیاست نہ کریں
ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔
ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔
لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔
بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔
معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟
یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔
سوال یہ ہے:
سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟
کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟
کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟
اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔
سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔
یہ نظام کب بدلے گا؟
کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟
یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟
@@KarachiPolice_@SouthDig
“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
سالار کاکڑ نے بلکل ٹھیک کہا تھا لیڈرشپ عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھانے سے کتراتے ہیں تو ہمارے لئے کیا آواز اٹھائیں گے۔
سالار کاکڑ کی کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں اس لئے آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ سالار کاکڑ کی رہائی کے لئے ضرور کریں 💔 https://t.co/V7gGZ3hclv
کم لوگ ہونا کوئی نقصان نہیں، بلکہ سچے لوگ ہونا اصل کامیابی ہے۔ اس لیے اگر آپ بھی زندگی میں پختگی کی اس منزل پر پہنچ چکے ہیں اور آپ کے ارد گرد لوگوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سچائی اور خودداری کے راستے پر گامزن ہیں
Our worker from Gujrat Usman Jaura saved this lady from direct firing of the bloodthirsty brutal Rangers & Punjab police. In the face of the violence unleashed on us, we saw the spirit of commitment & the passion of our workers like Usman.
"میں شہادت دیتا ہوں کہ میرے حلقے کے دو لوگ اور ایک مردان کا ٹوٹل تین لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو احتجاج میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے، رات کے اندھیرے میں بجلی بند کر کے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور اوپر سے حکومت سینہ زوری کر رہی ہے کہ کوئی مرا نہیں، پھر آپ ہسپتالوں کا ریکارڈ دیں، ڈاکٹروں کو بات کرنے دیں۔" شاہد خاقان عباسی
#گولی_کیوں_چلائی
#اسلام_آباد_قتل_عام