بلاول جیسے لوگوں کو ملک حوالے کرنا اور عمران خان جیسے عظیم لیڈر کو قید کرنا اپ کے سامنے ہے تو پھر سمجھ کو پاکستانیو!!! محب وطن کون ہے ؟؟؟
#NeelamMuneer#ducky
شریفوں کی بیٹی کے سامنے بکری بنا اسٹیبلشی لونڈا اکرام اللہ خان نیازی کی بیٹی کو چیلنج کر رہا ہے ! مطلب کیا پوچھو گے اُس سے 17 سیٹوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت کیسے لی ؟ اپنے بیٹے کو دس سال کی سزا کیوں دی ؟ ملک پر 90 ہزار کا قرضہ کیوں چڑھایا ؟ دُر او تیرے تے منصوریا
علیمہ خان نے دو واضح مطالبے کر دیئے۔
مراد سعید اب باہر آ جائیں اور لیڈ کریں
اور خیبر پختونخواہ سے اب بھرپور احتجاجی شروع کی جائے جو ملک بھر کو ساتھ لیکر چلے ۔
علیمہ خان کا متحرک ہونا بہت سوں کے دل پر خاردار تار کی طرح ہے ۔ اور ان میں اپنے بھی شامل ہیں اور دشمن بھی۔ اللہ انکی حفاظت کرے
کچھ عرصہ قبل پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کو خصوصی دعوت پر پاکستان بلایا گیا۔ انکو ریٹرن ٹکٹس بھی دیے گئے ، ان کو ائیرپورٹس پر خصوصی پروٹوکول ملا ، ان کے لیے لاہور میں شاندار تقریبات ہوئیں۔ نہایت پڑھے لکھے ، خوشحال اور جہاندیدہ لوگ اس پر پگھل گئے اور اب اپنی تقریبات میں عمران خان کا چہرہ چھپا رہے ہیں۔ ان حالات میں یئیں یئیں ملک کے یئیں یئیں صحافیوں و تبصرہ پاڑوں پر کیسا افسوس۔
اس ملک میں جب کوئی قانون ہی نہیں تو عدالت کیسے ہوگی
غلاموں کی دنیا میں عدالتیں محض مہرے ہوتی ہیں اور اس نظام کے سبھی مہرے قابل نفرت اور قابل مواخذہ ہیں جن کی وجہ سے اہل وطن کا عرصہ ء حیات دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے
اس نظام کو بدلے بغیر آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں خواہ کچھ بھی کر لیں
اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ تصویر اصلی ہے یا AI سے بنائی گئی ہے
مگر۔۔۔
قوم کی اپنے محبوب لیڈر سے والہانہ محبت و عقیدت کوئی اور ہی داستاں سنا رہی ہے۔۔
زور زبردستی حکومت کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنے انجام کی فکر کریں، لوگ انکی قبریں بھی اکھاڑ پھینکیں گے اور یہ وقت بہت قریب ہے
حب الوطنی کا لبادہ اوڑھے چند بکے ہوئے اور بدکردار چہرے کیا واقعی اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ چھبیس کروڑ عوام، بھیڑ بکریوں کی طرح، اس جبر اور قبضے سے آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتے؟
آئین پامال کر دیا گیا، ریاستی اداروں کو مفلوج کر دیا گیا، محبِ وطن شہریوں کو قتل کر دیا گیا یا جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ایسے میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے دعوے کرنے والی بین الاقوامی برادری آخر خاموش کیوں ہے؟
کیا موجودہ حکمرانوں سے سوال کرنے والا کوئی نہیں؟ کیا انصاف، آئین اور جمہوریت صرف اشرافیہ کی سہولت کاری کی ٹرمز بن کر رہ گئی ہیں ؟
عوام ووٹ دیتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ اسمبلی میں جوکر تماشہ کرتے ہیں اداکاری کرتے ہیں اور اٹھ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں ۔ جب تک عوام کی رائے بالادست نہیں ہوگی، جمہوریت صرف ایک رسم اور انتخابات محض ایک تماشا رہیں گے۔
#پاکستان_کو_جینے_دو
پاکستان میں جو آٹھ ہزار کما رہا ہے وہ غربت کی لائن سے باہر ہے ۔ اسی آٹھ ہزار کمانے والے کا بجلی کا بل دس ہزار ہو اور کھانے کے لالے بھی پڑھ جائیں وہ پھر بھی امیر ترین انسان ہے ۔
#پاکستان_کو_جینے_دو
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں۔
#ImranKhanUnjustlyJailed
عمران خان نے اس سوئی ہوئی قوم میں شعور کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ راستہ یقیناً کٹھن ہے، کیونکہ رکاوٹیں نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔ لیکن مجھے یہ شعور ایک ایسے بیج کی مانند دکھائی دیتا ہے جو آہستہ آہستہ پروان چڑھ کر ایک تناور درخت بنے گا۔
شعور کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کے آتے ہی نظام یکسر بدل جائے گا۔ بلکہ شعور وہ پہلی کرن ہے جو ظلم، جبر اور استحصالی نظام کے خلاف مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔ یہی بیداری ایک دن قوم کو ان قابض قوتوں سے نجات دلانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جو عوام کو فکری اور عملی غلامی میں رکھنا چاہتی ہیں۔
ابھی وقت تماشہ دیکھنے کا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اب زرداری سب پر بھاری پڑتا ہے یا وردی والا بابو بادشاہت کا تاج لے اُڑتا ہے۔ پھر ڈاکو حسینہ بھاگ کھڑی ہوتی ہے یا ملکہ بننے کے خواب سجاتی ہے۔
مقابلہ سخت ہے — ایک طرف مفاد پرست سیاست، دوسری طرف عسکریت۔