بچوں کا تماشہ:
ہم نے اکثر اپنے ارد گرد ایسے مہان بڑے دیکھے ہیں جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی تنگ کر کے مزہ لیتے ہیں۔
ان کو بلا وجہ چھیڑتے ہیں۔
ان کے ہاتھ سے ان کا کھلونا یا کھانے کی چیز چھین لیتے ہیں۔
ان کے گال کھینچتے ہیں۔
ان کو چڑاتے ہیں۔
اشتعال دلاتے ہیں۔
ان کو اتنا تنگ کرتے ہیں کہ وہ غصے میں رونا شروع کر دیتے ہیں۔
جب بچے چینختے ہیں تو ان زومبیز کو خوشی ہوتی ہے بچوں کو اشتعال دلانا ان کی تفریح ہوتی ہے۔
اس طرح کے معاملات میں کبھی لحاظ نا دیکھائیں بچے کا بھی بلڈ پریشر ہوتا ھے اس کا بلڈ پریشر بڑھانے کی اجازت کسی کو نا دیں۔
اسی کے ساتھ ہی کچھ بے ہدایت فنکار ایسے ہوتے ہیں جو سال دو سال کے نا سمجھ بچوں کو باقائدہ گالیاں سیکھاتے ہیں۔ اکثر کہتے ہیں فلاں بڑے کو گالی دو، اپنے باپ کو گالی دو، فلاں بڑے کے منہ پہ تھپڑ مارو فلاں کو کھلا یا بْجا دو۔ اور پھر لالچ دیتے ہیں کہ میں پسے دوں گا یا آئس کریم کھلاوں گا وغیرہ
ایسوں کو اچھا لگے یا برا سیدھے صاف دو ٹوک الفاظ میں منع کر دیں۔
کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محفل لگا کے آپ کے بچوں کا تماشہ لگواتے ہیں، ڈانس کرواتے پیں یا کسی بڑے کی نقل کرواتے ہیں۔
اکثر والدین پیچ و خم کھا رہے ہوتے ہیں لیکن لحاظ مروت میں کچھ نہیں بولتے۔
محترم والدین! اس طرح کے تمام معاملات میں کوئی لحاظ مروت نہیں ڈٹ جائیں کسی کو کبھی اجازت نا دیں کہ وہ آپ کے بچے کے جذبات سے کھیلے یا ان کی تربیت خراب کرئے یا ان کا تماشہ لگائے۔
خود بھی کبھی اس طرح کی محفلوں جن میں بچوں کا تماشہ لگایا جا رہا ہو اس کا حصہ مت بنیں۔