سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“فارم 47 کی حکومت تو صرف ایک کٹھ پتلی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی کے بغیر ناشتہ بھی نہیں کر سکتے- یہ حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ اس کے دل میں چور ہے۔ نو مئی اور 26 نومبر کے سانحات کا حساب لیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا، اغواء کیا گیا، زخمی کیا گیا اور بے جا مقدمات قائم کر کے ملٹری حراست میں دیا گیا۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں سیکیورٹی فورسز اپنے ہی شہریوں پر سیدھے فائر نہیں کھولتیں مگر ہمارے کارکنان کے ساتھ یہ ظلم بھی کیا گیا۔ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام نا گزیر ہے اور کمیشن نہ بنانا حکومت کے جھوٹا ہونے کی نشانی ہے۔ یہ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کرتے تھے کہ ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں مگر حقیقت یہ ہے کے جب ہم ملک کی خاطر مذاکرات کے لیے آئے تو یہ کمیشن کا مطالبہ سنتے ہی دم دبا کر بھاگ گئے کیونکہ انکی نیت میں کھوٹ ہے۔
میرے خلاف جھوٹے مقدمات چلانے کے لیے پراسیکیوشن کو 50 کروڑ کی رقم ادا کی گئی اس کے علاوہ بھی ججز اور وکلاء پر حکومت کا پیسہ لگتا ہے یہ وہ پیسہ ہے جو عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کی صورت میں بھرتی ہے جسے سیاسی انتقام لینے کے لیے ضائع کیا جا رہا ہے۔ اسی عدم استحکام کی بدولت 2 سالوں میں 18 لاکھ لوگ یہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ہمارا نوجوان بے روزگاری اور لا قانونیت سے مایوس ہو کر باہر جا رہا ہے مگر کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔
پاکستان کی تمام ایجنسیوں کو تحریک انصاف کو کچلنے کے کام پر لگایا گیا ہے تا کہ 8 فروری کو اس ملک کی عوام کے مینڈیٹ پر جو شب خون مارا گیا وہ سامنے نہ آسکے اگر ایجنسیوں کو سیاست کے بجائے اپنا کام کرنے پر لگایا جاتا تو آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر نہ اٹھا رہا ہوتا۔
یحیٰی خان پارٹ 2 اور کٹھ پتلی حکومت مجھ پر جھوٹے مقدمات کا جواز بنا کر مجھے جیل میں رکھے ہوئے ہے۔القادر کا مقدمہ بھی بھونڈا ہے اور توشہ خانہ کا مقدمہ بھی۔
میں موجودہ چئیرمین نیب اور جج ناصر جاوید جس کی کارکردگی سپریم کورٹ کے فیصلے میں سب کے سامنے ہے کے خلاف اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کروں گا۔ نیب کا مقصد پاکستانی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نکلوانا ہے نہ کہ سیاسی انتقام کی غرض سے اسٹیبلشمنٹ کا آلہء کار بننا۔
ہائی کورٹ کی نئی تقرری، جج راجہ منہاس کو توشہ خانہ 2 کی اپیل کا کیس تھما دیا گیا جس پر مجھے شدید تحفظات ہیں۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو ارشد منہاس کا سگا بھائی نو مئی کے مقدمات اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں میرے خلاف وکیل اور پراسیکیوٹر ہے۔ راجہ منہاس ایک ایسی ترمیم ( 26 ویں آئینی ترمیم ) کی بابت جج بنے ہیں جس ترمیم کو ہم سرے سے مانتے ہی نہیں۔ یہ کٹھ پتلی ، نا مکمل اور جعلی پارلیمان کی جانب سے منظور کی گئی ایک غیر آئینی اور غیر قانونی ترمیم ہے، اس ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر رکھا ہے لہذا ان کو ہمارا کوئی بھی کیس اصول کے مطابق سننا نہیں چاہیے۔ توشہ خانہ کے معاملے پر ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج صاحبان اپنا فیصلہ دے چکے ہیں جس میں 6 ایک دوسرے سے منسلک معاملات تھے۔ ان سینئر جج صاحبان کے فیصلے کے بعد سب سے جونئیر جج کا اس کیس کو سننا نہیں بنتا۔ راجہ منہاس کی تقرری ایڈہاک بنیادوں پر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہوئی ہے اور چونکہ ان صاحب کو مستقل نوکری اس حکومت کی مرضی سے ملے گی جسے ہر حال میں مجھے پابند سلاسل رکھنا ہے لہذا یہاں مفادات کے ٹکراؤ کا نقطہ بھی سامنے آ جاتا ہے جس کی بنیاد پر راجہ منہاس کو توشہ خانہ کیس سے اصولاً اور اخلاقاً الگ ہو جانا چاہیے۔
القادر کے معاملے میں لندن کی عدالت کا فیصلہ بھی سامنے آ چکا ہے جس سے واضح ہے کہ یہ رقم حکومت نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آنی تھی۔ اسی لندن کی عدالت کے فیصلے سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہ کوئی منی لانڈرنگ یا کسی جرم کا پیسہ ثابت نہیں ہوا تھا۔ 21 اپریل 2020 کو القادر کے معاملے پر نیب نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جو چئیرمین نیب، ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر نیب اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب پر مشتمل تھی۔ انھوں نے اس انکوائری کی تحقیقات کر کے اس مقدمے کو بند کر دیا کہ اس مقدمے میں کچھ بھی ایسا موجود نہیں کہ اسے چلایا جا سکے۔ القادر کی دوبارہ انکوائری کا آغاز بدنیتی پر کیا گیا۔ اس میں بھی یہ ثابت ہوا کہ مجھے یا میری اہلیہ کو اس رقم یا منصوبے سے ایک ٹکے کا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے موجودہ چئیرمین نیب نے اپنے عہدے سے بددیانتی کرتے ہوئے اس کیس کو جاری رکھا۔
1/2
Former Prime Minister Imran Khan's Media Talk in Adiala Jail - January 29, 2025
"In civilized societies, defamation is penalized with fines; it is considered a civil liability. However, in Pakistan, the draconian PECA law was passed, increasing the punishment for defamation to five years. For the first time in world history, individuals are being penalized for insulting government institutions. In developed countries, including the UK, defamation is punished with fines because the world is progressing based on democratic values and freedom of expression. But in Pakistan, such undemocratic laws are being enacted to strangle democratic values, suppress freedom of expression, and suffocate press freedom. The purpose of all this is to ensure that no one dares to speak out against the stolen mandate of February 8th (2024), the violation of citizens' privacy, the false-flag operation of May 9th (2023), or the massacre of November 26th (2024).
This puppet government has achieved nothing except violating the fundamental rights of citizens through illegal amendments. The 26th Constitutional Amendment has weakened the judiciary. Despite the presence of senior judges in the Islamabad High Court, attempts are being made to appoint a Chief Justice from outside, who is expected to be Qazi Faez Isa Part 2. We strongly condemn such judicial appointments.
The appointment of the Chief Election Commissioner should also be based on merit; otherwise, figures like Sikandar Sultan Raja emerge—those who serve the establishment instead of the people. He deserves to be tried under Article 6 because he facilitated the government of Form 47 [Election fraud and stolen mandate] by stealing the people's mandate in broad daylight.
February 8th will be observed as a ‘Black Day’ nationwide. On that day, the public mandate was betrayed. First, elections were postponed, then the May 9 narrative was fabricated to crush PTI. Despite this, the people came out in droves to vote for PTI, but the results were shamelessly and ruthlessly altered, plunging the country into darkness. Now, to cover up the robbery of February 8, laws like PECA and the 26th Amendment are being passed. A lie always needs a hundred more lies to sustain itself.
The government staged a sham dialogue, but it only exposed their true faces. They will neither allow the formation of a judicial commission, nor allow investigations into May 9th or November 26th because they fear that the truth will come out. Because the truth is that they are themselves involved in these incidents. A dishonest person never plays with a neutral umpire. In any case, they have no real power; whatever they do is at the behest of the Establishment.
The Quran repeatedly emphasizes 'Amr Bil Ma'ruf Wa Nahi Anil Munkar'—standing for what is right and resisting evil. The very foundation of democracy lies in morality. God has described the hallmark of a hypocrite as standing with the wrongdoers. Such people face humiliation both in this world and in the hereafter. There is no cure for shamelessness and dishonor. La ilaha illallah (There is no God, but One) instills dignity in a person. A dishonorable person begs before others instead of relying on God. A nation stands and thrives on self-respect. Otherwise, it remains dependent on handouts. A society can only progress through justice and rule of law. Justice is delivered only by those who uphold morality. The state of Medina was built on these principles, and Muslims ruled the world because of them. If we want to set our direction right, we must focus on teaching ethics, uphold fundamental human rights, and value human life. Otherwise, our future will remain bleak. In the state of Medina, even a Jew [a minority] won a case against the Caliph of the time, Ali (RA). These principles of justice are the true traditions of an Islamic society, which we have forgotten. 1/2
انتہائی افسوسناک دل کو شدید تکلیف پہنچی
ایک گھناونی حرکت ہے اس بورڈ کو اس طرح سے اتارنا سراسر بےوقوفی اور غلط حرکت ہے
مسلم لیگ ن کی قسمت میں لعنت لکھی جاچکی ہے