لاہور دہشتگردی عدالت میں شہداء کے لواحقین اور وکلاء* *پہ تشدد کا معاملہ‼️*
ہر جبر آزمانے کے بعد جب جھکا نہ سکے تو اب نئے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں شہداء کے ورثا کو سول کپڑوں میں ملبوث اہلکاران اور پولیس گھروں سے زبردستی اٹھا کر، بچوں اور خواتین سمیت لا کر، زبردستی بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ وہ کہیں: "ہمارے بھائیوں کو کرین پارٹی نے خود شہید کیا"۔
پولیس خالی اسٹام پہ دستخط کروا کر رہی ہے اور پیسوں کا لالچ دے رہی ہے ۔
حتیٰ کہ لواحقین نے پرائیویٹ وکلاء کو ارینج کیا تھا ان کے وکلاء کو بھی سول کپڑوں میں ملبوث اہلکاران اور پولیس کی جانب سے جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وکلاء کو عدالت سے باہر نکال کر زبردستی بیان دلوائے جانا کسی قانون آئین کے تحت نہیں ہے۔۔
ظلم و جبر جتنا بڑھے گا، اتنا ہی مٹنے کے قریب جائے گا۔
اسی کے ساتھ شہید کے لواحقین کو گجرات سے گرفتار کر لیا گیا گرفتار ہونے والوں میں شہید کا دو سال کا بیٹا بھی شامل ہے۔😡
طاقت کے نشے میں مست اہلِ اقتدار اور عسکری عناصر اس حد تک نہ جائیں کہ پھر بھاگنے کے لیے اللہ کے غضب سے تمہیں کوئی جائے پناہ بھی نہ ملے۔
وہ مظلوم ترین شہداء، جن کے ورثا کو اس طرح یرغمال بنا کر بیانات دلوائے جا رہے ہیں، یہ وطن کے لاقانونیت کی جانب گامزن ہونے کا ایک اور واضح اشارہ ہے۔
تمام ادارے آئین اور قانون کی پامالی کے لیے موثر کردار ادا کریں جبر نہ کریں۔۔۔
*”باپ کو شہید کردیا اور ننھے بچوں کو اغواء کرلیا گیا“*
ظلم و ستم کی دل دہلا دینے والی داستان‼️
کراڑیوالہ ضلع گجرات سے تحریک کے کارکن فتح محمد صاحب جو 10 ماہ قبل مریدکے میں شہید ہو گئے تھے۔
اُن کی بیوہ نے خفیہ ایجنسیوں اور پنجاب پولیس کے دباؤ کے باوجود عدالت میں یہ من گھڑت بیان دینے سے انکار کردیا کہ ”میرے شوہر کو تحریک کی قیادت نے شہید کیا ہے“
تو آج اُن کے گھر سے پانچ بچوں اور ایک بھتیجے کو خفیہ ایجنسی نے اغواء کرلیا، جن میں سولہ سالہ بیٹی سے لے کر ڈیڑھ برس کا ننھا دودھ پیتا بچہ تک شامل ہیں۔
#شالابزدلاں_کدی_نیندنہ_آوے
@ShakirAwan88 پاکستان کی بنیاد پر انگلی اٹھانے والے تم اپنی اوقات یاد رکھو یہ ملک 'لا الہ الا اللہ' کی گونج میں پیدا ہوا تھا قائدِ اعظم کے فرمودات جھٹلانے والے سن لی، یہ نظریہ تمہارے جیسے کتوں کے بھونکنے سے نہیں مٹے گا۔ تمہارا یہ غلیظ بیانیہ تمہاری ملک دشمنی کا ثبوت ہے
@fawadchaudhry
”باپ کو شہید کردیا اور ننھے بچوں کو اغواء کرلیا گیا“
ظلم و ستم کی دل دہلا دینے والی داستان‼️
کراڑیوالہ ضلع گجرات سے تحریک لبیک کے کارکن فتح محمد صاحب جو 10 ماہ قبل مریدکے میں شہید ہو گئے تھے۔
اُن کی بیوہ نے خفیہ ایجنسیوں اور پنجاب پولیس کے دباؤ کے باوجود عدالت میں یہ من گھڑت بیان دینے سے انکار کردیا کہ ”میرے شوہر کو تحریک کی قیادت نے شہید کیا ہے“
تو آج اُن کے گھر سے پانچ بچوں اور ایک بھتیجے کو خفیہ ایجنسی نے اغواء کرلیا، جن میں سولہ سالہ بیٹی سے لے کر ڈیڑھ برس کا ننھا دودھ پیتا بچہ تک شامل ہیں۔
آج 312 دن ہو چکے ہیں ان ظالم اور جابر حکمرانوں نے سعد حسین رضوی کو اغوا کر رکھا ہے اس ریاستی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کو بند کرو ظالموں کب تک یہ ظلم جاری رکھو گے؟ شرم کرو! ہمارے قائد کو فی الفور منظرِ عام پر لایا جائے اور ہر قسم کی غیر آئینی رکاوٹیں فوری ختم کی جائیں