بریکنگ نیوز 💥💥
"پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کیا ہوا ہے"
مشہور پروفیسر ہود بھائی
پاکستانی سیکولر لبرل اب BLA کی حمایت میں کھل کر باہر ا گئے
اس کے خلاف اج کی سپیس جس میں احمد حسن العربی کے ساتھ قیصر احمد راجہ رات 11 بجے
دنیا بھر میں کرسمس کے تہوار پر مسیحی برادری ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کرتی ہے بیشتر رقم کرسمس ٹری بنانے پرخرچ ہوجاتی جو کسی کے کام نہیں آتی عیدالاضحی پر ٹوٹل ایک سو ارب ڈالر کے لگ بھگ خرچ ہوتے ہیں اربوں لوگوں کے پیٹ میں کھانا جاتا ہے لیکن ملحد کو اعتراض صرف قربانی پر رہتا
Pakistan People’s Party MUST take serious action!
It’s not their policy to propagate anti-state agenda, then no one bearing their badge should do it - particularly if that guy is a public office holder.
Since you have decided to jump on the bandwagon, I challenge you for a debate on either the topic you’re criticising or better yet, Socialism.
As the saying goes, either put up or shut up.
Waiting 🙂.
یہ اقتباس امام محمد سعید رمضان البوطی کی کتاب القرآن و منهجه الحضاري فی بناء الإنسان سے لیا گیا ہے۔
آئیں! امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اُس نصیحت پر نظر ڈالیں جو انہوں نے حضرت ��عد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنگِ قادسیہ کے موقع پر فرمائی۔
انہوں نے اُنہیں اور ان کے لشکر کو خبردار کیا کہ کہیں وہ اس الٰہی سنت کے نتائج میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
انہوں نے انہیں تنبیہ کی کہ اپنے لشکر کو ان گمراہیوں اور لغزشوں سے بچائے رکھیں جو انہیں ظالموں کی گرفت میں لا سکتی ہیں۔
انہوں نے فرمایا:
"اے سعد، ام سعد کے بیٹے! تمہیں یہ دھوکا نہ ہو کہ لوگ تمہیں رسول اللہ ﷺ کا چچا زاد کہتے ہیں۔
بے شک اللہ کسی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا بلکہ برائی کا بدلہ نیکی سے دیتا ہے۔
اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہیں جو نافرمانی کے باوجود قائم رہے۔ میں تمہیں اور تمہارے ساتھ کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے آپ سے زیادہ اپنے دشمن سے مت ڈرو،
کیونکہ لشکر کے گناہ اُن کے دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کو دشمن پر فتح صرف اُن کے دشمن کی اللہ کے سامنے نافرمانی کی وجہ سے ملتی ہے۔
اگر یہ معاملہ نہ ہوتا تو ہم اُن پر غالب نہ آ سکتے،
کیونکہ ہماری تعداد ان سے کم ہے اور ہمارا سامانِ جنگ بھی ان کے مقابلے میں ناقص ہے۔
اگر ہم گناہ میں اُن کے برابر ہو گئے تو وہ ہم پر غالب آ جائیں گے،
کیونکہ اُن کے پاس وہ طاقت ہے جو ہم میں نہیں۔
ہم ان پر اپنی خوبی سے غالب نہیں آتے، بلکہ صرف اُس وقت غالب آ سکتے ہیں جب ہم اُن سے بہتر ہوں۔
لہٰذا یہ نہ کہنا کہ ہمارا دشمن ہم سے بدتر ہے، اس لیے وہ ہم پر کبھی مسلط نہیں ہوگا
کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کسی قوم کو اُن لوگوں کے ہاتھوں ذلیل کر دیتا ہے ��و اُن سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
جیسے بنی اسرائیل نے جب اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ نے اُن پر کافروں میں سے مجوسیوں کو مسلط کر دیا جنہوں نے اُن کے گھروں کے اندر تک گھس کر ان کو تباہ کیا اور یہ وعدہ پورا ہوا"
ان نصوص کے پیش کرنے کا مقصد
یہ ہے کہ انسان عزت و برتری اور غلبہ و اقتدار کے درمیان فرق کو اچھی طرح سمجھ لے۔
اور یہ بھی جان لے کہ مغرب کا آج مسلمانوں پر حضارت، طاقت اور شوکت کے ساتھ غالب ہونا،
درحقیقت کسی باعزت امتیاز کا غلبہ نہیں ہے،
بلکہ یہ ایسا ہے جیسے سزا دینے والے کے ہاتھ میں چھڑی ہو،
جو اسے گناہگار کو مارنے اور مثال بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یعنی مغرب کا یہ ظاہری عروج،
اصل میں اسلامی تہذیب کے زوال کا مظہر ہے۔
مسلمانوں کے اخلاقی اور سماجی زوال نے یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ مغربی تہذیب بلندی پر ہے،
حالانکہ وہ بلندی، درحقیقت، ہماری پستی کا عکس ہے۔
جب مسلمان اپنے جوہرِ حقیقی یعنی اپنی عبودیتِ الٰہی کے شعور ک�� طرف پلٹ آئیں گے،
اور اللہ کے کتاب میں بتائے گئے طریقے کے مطابق دنیا اور زندگی کے معاملات کو سنواریں گے،
اللہ کے ثواب کی امید اور عذاب کے خوف کے ساتھ عمل کریں گے،
تب وہ مغربی تہذیب کو اُس کی حقیقت میں دیکھ سکیں گے۔
تب اُنہیں محسوس ہوگا کہ اس کا غلبہ محض ایک عارضی اور ظاہری تسلط تھا،
جو اب زائل ہو چکا ہے۔
وہ دیکھیں گے کہ مغربی اثر و اختیار سمٹ گیا ہے
اور وہ خود اُس کے مدار سے نکل کر آزاد ہو چکے ہیں۔
مگر تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جو قوموں اور ادوار پر مختلف صورتوں میں نافذ ہوتی رہتی ہے
اس پر کامل یقین تب ہی ممکن ہے جب انسان کو اللہ کے وجود پر یقینی، شعوری ایمان حاصل ہو۔
اور یہ یقین اس یقین کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید، جس کے گرد ہماری گفتگو گھوم رہی ہے،
حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا کلامِ حقیقی ہے۔
جس کے دل میں یہ یقین موجود نہ ہو،
وہ اس سنتِ الٰہیہ پر ایمان نہیں لا سکتا
اور نہ اس گفتگو سے کوئی فکری اطمینان حاصل کر سکتا ہے۔
وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر حقیقی یقین نہیں رکھتا،
کیسے یہ مان لے گا کہ مغربی تہذیب کا یہ ظاہری فروغ درحقیقت امتِ مسلمہ کی ذلت اور اخلاقی انحطاط کا مظہر ہے؟
وہ امت جو دعویٰ تو ایمان و آخرت کا کرتی ہے
مگر عملاً اللہ کے احکام سے غافل ہو چکی ہے
اور اسی نفاق اور غفلت کے باعث ذلت اس کے گِرد حصار بن چکی ہے۔
ہماری یہ تمام گفتگو ان ہی لوگوں سے متعلق ہے
جن کے دلوں میں اللہ کے وجود پر یقینی عقلی اور ایمانی ایمان راسخ ہو چکا ہے
اور جو جان چکے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور کوئی منظم نظام بغیر منظّم کرنے والے کے قائم نہیں رہ سکتا۔
جو لوگ اس یقین سے محروم ہیں،
انہیں چاہیے کہ وہ اپنی تمام بحثیں چھوڑ کر
سب سے پہلے اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھیں۔
انہیں چاہیے کہ وہ کائنات کی بنیادوں پر غور کریں اور اس بحث میں کسی تعصب, خواہش یا تعین کے بغیر عدل اور انصاف کے ساتھ غو�� و فکر کریں۔
دیس مذہب بے زاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے گھر کی کہانیوں کو امت کا مسئلہ بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کی امی کو ماموں سے پہلے کھانا کھانے کی اجازت نہیں تھی تو اسکی شکایت نانا نانی سے لگائیں۔ ہمارے یہاں کھانا تو دور بھائی اپنی شادیاں ڈیلے کر دیتے ہیں کہ پہلے بہن کو رخصت کرنا ہے۔
بے شرم انسان کراچی انتظامیہ کا رکن ہوتے ہوئے بھی بھارت اور دہشت گردوں کی زبان بول رہا ہے!
پاکستان پیپلز پارٹی کو اس پر سخت ایکشن لینا چاہیئے اور اسے اس کے عہدے سے برطرف کرنا چاہیئے۔
🚨 LIVE TONIGHT | 10 PM PST 🚨
CO-ED GYMS IN PAKISTAN: IS IT A MORAL CRISIS?
🎙️ Qaiser Ahmed Raja @qaiseraraja
Recent Ansar Abbasi Vs Hina Pervez Ch Fawad hot social media debate
🎤 Hosted by @DMGCofficial
What’s your take? Normalisation or red line?