As a mother I have been going to ATC, Katchery & IHC since 2023 seeing my daughter @ImaanZHazir being arrested & tried thru false cases & after marriage her husband also became a part of these false cases! Not once did they get any justice. SC finally gave relief after 8 months but that was discarded by @CMShehbaz govt with more false cases.
کتنا جھوٹ بولتی ہے یار
سڑک پر جب کوئی بچہ مجھے دیکھتا ہے تو آ کے گلے لگ جاتا ہے اور ایسے میرے سینے پر سر رکھتا ہے تو مجھے لگتا ہے یہ سب میرے بچے ہیں"
مطلب یہ سڑکوں پر پیدل چلتی ہیں
کوئی سیکیورٹی نہیں ہوتی
جس کا جی چاہے آ کر گلے لگ سکتا ہے
فلاسفی پڑھنا تمھارے بس کا کام نہیں ہے ، اور نہ اب تمھاری عمر رہی ۔۔ بہتر ہے سوشل میڈیا پر جو فیصل آباد کی سستی جگتیں اور شعیوں کے خلاف گالیاں ٹویٹ کر واہ واہ وصول کرتے ہو اپنی sectarian bigotry کو سب سے پہلے لگام دو ۔ اگر تم جرمنی میں ہوتے تو کسی بھی گروپ کو جنرلائز کرکے اس کے خلاف آن لائن نفرت پھیلانے پر جیل جا چکے ہوتے مگر چونکہ پاکستان میں تمھیں کھلی چھٹی ملی ہوئی کیونکہ تم بوٹ پالش کرتے ہو ایک سیاسی پارٹی جس پر ریاستی کریک ڈاؤن چل رہا اس کی مذمت کی بجائے تعریف کرتے ہواور بطور انعام تمھیں سوشل میڈیا پر bigotry ٹویٹ نے کی اجازت ہے سادہ سی بات سمجھ لو کہ جن غلط کوموں کی آج تمھیں چھٹی ملی ہوئی کل ان پر تم جیل جاسکتے ہو اور تمھاری ٹویٹس پڑھ کر تمھارے لئے آواز اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا ۔ اس لئے فلاسفی پڑھنے سے پہلے اپنی سیلف ریفلیکشن شروع کرو ۔
پاکستان میں یہ پہلی بار
نہیں ہورہا کہ قاتل ، چور ، ڈاکوؤں
کی سانس کی ڈوریں CCD اور
عوام کاٹ رہے ۰۰۰۰۰۰
عدلیہ کورٹ کچہری اگر ناکام ہوچکی
ہے تو ان بڑے بڑے عالیشان
اور مہنگے ترین ججوں کو پالنے کا مقصد ؟
بند کرو عدالتوں کو اور یہاں
مویشی خانہ کھولو تاکہ لوگوں کو دودھ دہی
بہ آسانی مل سکے ۔۔۔۔۔۔
مراد سعید کے گھر جا کر ان کی بزرگ معذور والدہ کو بے گھر کر دیا گیا 💔 سامان باہر پھینک دیا گیا!!
ظالمو خدا سے ڈرو, اس کا قہر جب نازل ہوگا تو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی انشاءاللہ۔
انہوں نے دو باتیں غلط کی ہیں۔
چار لاکھ یمنی شہید ہوئے ہیں۔ ہلاک نہیں۔ ہلاک تو اسرائیلی اور امریکی ہوتے ہیں۔ ظالم ہلاک ہوتے ہیں۔ معصوم لوگ جان بحق ہوتے ہیں یا شہید ہوتے ہیں۔
حوثی باغی نہيں ہیں۔ انصار اللہ (حوثی) ایک تحریک ہے جس میں شعیہ سنی زیدی سب شامل ہیں۔ انصار اللہ کو 80 سے 90 فیصد یمنیوں کی حمایت حاصل ہے۔
یہ ایسے ہی جیسے آپ طالبان کو باغی کہیں۔ حالانکہ افغانستان پر حکومت طالبان کی ہے۔
@FarhanGMallick
یتیم بچے کےساتھ جو ہوا پورا ملک صدمےمیں ہے،لیکن مبینہ پولیس مقابلے سےلگتا ہے کہ انصاف اور Due process کوبھی یتیم کر دیا گیا ہے۔ ایک حکومتی شخصیت نےملزم کی ہلاکت پر فوری انصاف کی بات کی۔لیکن جہاں کسی طاقتور کے بچے کا نام آتا ہےیہ"فوری انصاف"بھی یتیم ہوجاتا ہے،منصور علی خان سےگفتگو
جہالت کے قطب مینار اس وقت ملک بالخصوص پنجاب پر مسلط ہیں، جہاں ماورائے عدالت کلچر کو سرکاری و ذرائع ابلاغ کی سطح پر خوب پذیرائی ملتی ہے۔ نیفے میں پستول چلنا، فل فرائی اور ہاف فرائی جیسی غیر قانونی اصطلاحات کو اس طرح گلوریفائی کیا جاتا ہے کہ کسی بھی واقعے پر فوری مطالبہ آتا ہے کہ "کہاں ہے سی سی ڈی؟ آئے اور انصاف کرے"۔
سی سی ڈی جیسے غیر آئینی اور غیر قانونی اسکواڈ کو پذیرائی خواتین سے زیادتی یا ہراساں کرنے جیسے گھناؤنے جرائم کے ملزمان کے ماورائے عدالت قتل سے دلائی گئی تھی۔ لیکن نہ جانے کتنے سو لوگ اس کی بھینٹ چڑھ گئے، جن میں چکوال کی ننھی ہانیہ احمد اور بھکر کی سات سالہ معصوم بچی بھی گولیوں کا نشانہ بنیں، اور بعد میں اسے محض "کولٹرل ڈیمج" (غلطی) قرار دیا گیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں بہاولپور کے چک 187/ای بی کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکاروں نے ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے کے دوران گھروں میں زبردستی گھس کر خواتین اور بچوں پر شدید تشدد کیا اور ایک لڑکی کو سول گاڑی میں اغوا کر کے لے گئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی رپورٹ کے مطابق، سی سی ڈی کی اس پالیسی کے تحت صرف 2025 کے آٹھ ماہ میں 670 مقابلوں میں 924 افراد مارے گئے جبکہ اس دوران صرف دو پولیس اہلکار زخمی یا جاں بحق ہوئے۔ مذید بھی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اس سے متاثرہ اور انصاف کی دہائی دیتی نظر آتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اکثر اس ادارے کی تشکیل کو اپنا "محافظ پنجاب ویژن" قرار دیتے ہوئے اسے اپنی بڑی کامیابی مانتی ہیں۔ جب حکمران خود ماورائے عدالت قتل کی سرکاری سطح پر بھرپور اونرشپ لیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اپنی ہی عدالتوں سے اعتماد اٹھ چکا ہو، تو پھر عام آدمی سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ قانون اور عدالتوں پر اعتماد کرے گا؟ آخر کیوں معاشرے اور اس کے سوشل فیبرک کو مکمل طور پر تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟
ماورائے عدالت قتل آئین، قانون، اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے کیونکہ کسی کو بھی بغیر منصفانہ ٹرائل کے سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس ظالمانہ روش سے عدل کا نظام مفلوج اور جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے، جس سے معاشرے میں بے گناہوں کی جانوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے بڑھ جاتا ہے۔
خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم کی روک تھام کے نام پر اس ادارے کو گلوریفائی کیا گیا تھا، مگر دو سال اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں ماورائے عدالت قتل کے بعد آج پنجاب کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟ ڈان میں شائع ہونے والی ریاض الحق کی تحقیقاتی خبر کے مطابق، سال 2021 سے لے کر 2026 کے وسط تک ملک کے چاروں صوبوں میں جنسی تشدد اور زیادتی کے کل 47,452 کیسز درج کیے گئے، جن میں سے ملک بھر کے کل ریپ کیسز کا 89.7 فیصد اکیلے پنجاب سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے کل ملکی کیسز کا 99.2 فیصد حصہ پنجاب میں درج ہوا۔
اگر فرضی طور پر اس غیر قانونی عمل سے معاشرے میں جرائم رک بھی رہے ہوتے، تب بھی یہ اخلاقی، آئینی، قانونی یا مذہبی حوالے سے قطعی طور پر جسٹیفائیڈ نہیں ہو سکتا؛ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ماورائے عدالت قتل اور درندگی کے اس کھیل سے جرم رکنے کی بجائے روز بروز مزید بڑھ رہے ہیں۔
جب بھی کوئی دلخراش یا انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو بطور انسان دکھ، تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہونا فطری امر ہے؛ لیکن اس کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ انسان جذبات میں بہہ کر ماورائے عدالت قتل کو سپورٹ کرنے لگے۔ ہمیں اپنی توانائیاں قانون کی پامالی پر ضائع کرنے کی بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے صرف کرنی چاہئیں۔
نوٹ: ذیل میں پیش کی جانے والی ویڈیو اور تصویر بطورِ حوالہ شامل کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری شخصیات اور زرائع ابلاغ سے وابستہ ایک بڑا حصہ اس غیرآئینی و غیر اخلاقی کلچر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ مقصد کسی فردِ واحد کو ذاتی تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز نہیں، بلکہ اس فکری انحراف اور خطرناک رویے پر دلیل کے ساتھ اختلاف کرنا ہے جو معاشرے کو مذید تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
ماورائے عدالت قتل جسے ”فوری انصاف“ کا نام دیا جا رہا ہے، جب کوئی امیر اور طاقتور جرم کرتا ہے تب یہ اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔
یہ عام لڑکی ہوتی تو اس کو بھی ”فوری انصاف“ کے نام پر مار دیا گیا ہوتا لیکن یہ پورے نظام کو اُنگلی دکھا کر آرام سے اپنے گھر گئی تھی۔
خواجہ صاحب، مگر اب وہ بچے کا قاتل بھی پنجاب CCD یعنی پولیس کے ہاتھوں ایک پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے! اس پہ بھی اپنی حکومت کا مواقف دے دیجیے! @KhSaad_Rafique
سی سی ڈی خود اپنے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آرز درج کر چکی ہے کہ ان کے اہلکاروں نے ماورائے عدالت قتل کی دھمکی لگا کر بھتہ لیا اور لوگوں نے بھتہ دیا بھی ہے ، شہزاد اقبال
یہ بدبخت عورت کس طرح فوج کے گورنر راج لگانے سہیل آفریدی، سپیکر اور صوبائی صدر کو غائب کرنے کے عمل کو آپس میں لنک کر رہی ہے
ن لیگ کی صحافی کا کہنا ہے اگر گورنر راج ناپسندیدہ عمل ہے تو پھر جو کچھ PTI کی حکومت کر رہی تھی وہ بھی ناپسندیدہ عمل ہے
کیا اس ن لیگ کی ایکٹویسٹ نے جب مشرف نے ایمرجنسی لگائی تھی تو کہا تھا کہ مشرف کا طیارہ اغواء کرنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے اور پھر ایمرجنسی لگانا بھی ناپسندیدہ عمل ہے
یہیں عسکری صحافی کل کو جمہوریت کا الاپ لانپے گی اور جمہوری چورن بیچنے کی کوشش کریں گے لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے زاتی فائدوں کے لیے ان کے جمہوریت پر حملے ناقابل معافی ہیں