یہ میری 2013 کی تصویر ہے۔ اس وقت میں ان نوجوانوں میں شامل تھا جو عمران خان کو اس ملک کا مسیحا اور ایک روحانی شخصیت سمجھتے تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ پی ٹی آئی میں میرا سفر تقریباً تیرہ سال تک رہا۔ اللہ نے ہدایت نصیب کی تو میں ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو گیا جنہیں حقیقت سمجھ آ گئی۔ مجھے یہ اندازہ بھی ہو گیا کہ عمران خان اس ملک اور اس صوبے کا مسیحا نہیں، بلکہ نوجوانوں کو تباہ کرنے والا ایک بیرونی مہلک ہتھیار ہے۔
میں عمران خان کے بہت قریب رہا اور ان لوگوں میں شامل رہا جنہیں وہ نام سے جانتے تھے۔ انہیں پہچاننے میں مجھے تیرہ سال لگے۔ اس دوران میری طرح بہت سے پختونوں کا قیمتی وقت ضائع ہو چکا تھا اور بہت سے سادہ پختون ان کی کال میں پھنس چکے تھے۔
آج بھی اپنے پختون بھائیوں پر افسوس ہوتا ہے جو انہیں نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پختونوں کی ایک نسل کو مکمل تباہ کرنے والا کوئی اور نہیں، عمران خان ہی ہے۔
ہمارے صوبے میں 2013 کے بعد ترقیاتی کاموں کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ آج ملک کے دوسرے صوبے ایک دوسرے سے ترقی میں مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے صوبے کے نوجوان اب بھی زندہ باد مردہ باد میں پھنسے ہوئے ہیں۔ عمران خان نہ صوبے میں کرپشن کے خلاف تھا اور نہ ہی اس کا مقصد یہاں میرٹ کی بحالی تھی۔ ان کے دور میں اور آج بھی خیبر پختونخوا سب سے کرپٹ صوبہ ہے۔ یہاں ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس کرپشن کے خاتمے کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔
عمران خان کتنی روحانی شخصیت ہیں، یہ ان کی آڈیو لیکس سن کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میرے صوبے میں وہ لوگ جن کی حیثیت سائیکل تک نہ تھی، تیرہ سالوں میں آج اربوں کھربوں کے مالک بن چکے ہیں۔
میرے صوبے میں دہشت گردی، بدامنی، اغوا، منشیات کا استعمال، تعلیم کا فقدان، جہالت اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کا نہ ہونا بالکل عام ہے۔ آخر کب تک ہم ایک قومی مجرم کو بچاتے رہیں گے اور اس کے زندہ باد مردہ باد کا ساتھ دیں گے؟ آخر کب ہم اپنے صوبے کے لیے ترقی، روزگار، تعلیم، تکنیکی ہنر، بہتر علاج معالجہ اور امن امان کا مطالبہ کریں گے؟
اب بھی اگر پختون نوجوانوں نے سوال اٹھانا شروع کیا کہ ہمارا صوبہ سب سے پھیچے کیوں ہے؟ تیرہ سالوں کی ترقی کہاں ہے؟ نوجوانوں کے لئے روزگار کہا ہے ؟ کرپشن کا خاتمہ کیوں نہیں ہورہا ؟؟ پختونخواہ میں امن قائم کیوں نہیں ہورہا ؟ ہم سے تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والے صحت اور تعلیم کے مسائل حل کیوں نہیں کرسکیں ؟ تو یقین جانیں پی ٹی آئی حکومت صرف ایک ہفتہ کی مہمان ہونگی۔
میں آج بھی ان نوجوانوں سے یہی کہوں گا کہ جتنا جلد ممکن ہو اس کینسر سے اپنے صوبے کو پاک کریں اور اس میدان میں شامل ہو جائیں جہاں ملک کے دیگر صوبے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ پختونوں کو سوچنا ہوگا کہ ایک قومی مجرم کے لیے مزید اپنے بچوں کو تباہ کریں گے یا ترقی کے راستے پر گامزن ہوں گے۔
@PTIofficial@ShafiJanPTI@SohailAfridiISF
@naeemtoronto یوکے سے پاکستان پی آئی اے انتہائی تھرڈ کلاس ہے ،اٹھارہ سے بیس سال پرانے جہاز پھٹی پرانی سیٹیں،یفلائٹ شروع ہونے سے پہلے مضحکہ خیز انداز میں اشاروں کی زبان میں سیفٹی کے لیکچر دیتے ادھیڑ عمر سٹیورڈ ،ایسے لگتا ہے پرانے زمانے کی خان ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہے ہیں
@IG_Zahra کوئی ایوریج ذہن رکھنے والا بندہ بھی یہ بات سنے گا کہ سمجھ جائیگی کہ 2018 میں دھاندلی سے امران خان کو لانے والے ایک سال میں ہی اسکی نالائقی ،،بیڈ گورننس سے نالاں ہو گئے تو انہوں نے میڈیا کو فری ہینڈ دیا