😂😂😂
کیا کہانی سنائی ہے بسنتی
سسی برینڈ کانشس تھی اور پنوں پرفیوم بیچنے والا شہزادہ۔ پھر دھ��بی بننے کے لیے کپڑے پھاڑ دیے اور رشوت دے کر شادی کر لی 💀
اخلاقی سبق تو بالکل درست ہے - ڈانس پارٹیز اور شراب سے دور رہو ورنہ بیوی گم ہو جائے گی 😅
**جواب:** پنوں کے پرفیومز کا برینڈ کا نام ضرور **"Punnu Fragrances"** یا **"Royal Makran Scents"** رہا ہوگا۔ یا پھر **"Desert Rose Perfumes"** 😂🌹
ویسے کہانی کا ی�� ماڈرن ورژن لاجواب ہے 💯
سسی پنوں واحد عشقیہ کہانی ہے جس میں ان دونوں کی شادی ہوگئی تھی
اور یہ دونوں ہنی مون کے بعد مرے تھے جو کہ اچھی بات ہے
سسی ہندو پنڈت کی بیٹی تھی
جس کی کنڈلی نکالی گئی تو یہ پیشگوئی نکلی کہ یہ بڑی ہو کر مسلمان سے شادی کرے گی
جو کہ ہندو پنڈتوں کو گوارا نہ تھا تو انھوں نے سسی کو صندوق میں ڈال کر دریائے سندھ میں بہا دیا
سسی بہتی ہوئی دھوبیوں کے ہاتھ لگی
اور دھوبیوں کے سردار محمد اور اس کی بیوی سکینہ نے سسی کو پال لیا ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی
تو انہوں نے سسی کو بہت لاڈ پیار سے پالا
سسی کا مطلب ہے "چاند"
کہتے ہیں کہ سسی چاند کی طرح خوبصورت تھی
پنوں مکران کا شہزادہ تھا
بھائیوں میں چوتھے اور آخری نمبر پر تھا یعنی بادشاہت ملنے کا کوئی امکان نہیں تھا
اس لیے اس نے پرفیومز کا اپنا برینڈ بنا رکھا تھا
تو جب وہ سسی کے شہر پرفیومز بیچنے آیا تو چونکہ سسی برینڈ کانشیس تھی
اس لیے وہ پرفیوم خریدنے پنوں کے پاس گئی
اور دونوں کو اک دوسرے سے محبت ہوگئی
محبت کے بعد جب پنوں ��ے سسی کے باپ سے اس کا رشتہ مانگا تو اس نے کہا کہ میں دھوبی ہوں اور ہم صرف دھوبیوں کو لڑکی دیتے ہیں
تو پنوں نے جھوٹ بول دیا کہ میں بھی دھوبی ہوں
جس پر سسی کے والد نے پنوں کو اک کسٹمر کے کپڑے دھونے کیلیے دے دیے
پنوں نے کبھی رومال تک نہ دھویا تھا
اس سے کسٹمر کے کپڑے پھٹ گئے
پنوں بہت چالاک بھی تھاmاس نے کسٹمر کو اشرفیاں بطور رشوت دیnکہ تم کہہ دینا کہ کپڑے بالکل ٹھیک دھلے ہیں
کسٹمر بھی لالچی تھا مان گیا
اور یوں سسی پنوں کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوگئی
شادی کے بعد پنوں، سسی کے گھر ہی رہنے لگ گیا
پنوں کے گھر والوں کو اس کی یاد آئی تو تینوں بھائی اسے لینے کیلیے پہنچے
لیکن سسی ��یسی معمولی دھوبن کو وہ ساتھ نہیں لیجانا چاہتے تھے
سو انھوں نے اک ڈانس پارٹی کا اہتمام کیا
بڑی بڑی ڈانسرز کو بلوایا گیاnپنوں کو خوب شراب پلائی
جب پنوں شراب پی کر مدہوش ہوگیا تو اس کے بھائی اسے لے کر چلتے بنے
صبح سسی کی آنکھ کھلی تو آثار سے پنوں کے رات کے کرتوت واضح ہوئے
بیویوں کی طرح پنوں کو ڈانٹنا چاہا تو پنوں نظر نہیں آیا
سو اسے ڈانٹنے غصے میں پیدل ہی چل پڑی
لمبا سفر تھا درمیان میں صحرا تھا
سسی کو اک غریب گڈریا نظر آیا تو اس سے پنوں کا ایڈریس پوچھا
وہ بھی کوئی دو نمبر ہی تھا اس نے دیکھا کہ اک اکیلی عورت اور کوئی والی وارث نہیں
تو اس کی نیت بری ہوگئ
اب سسی صاحبہ کو غلطی کا احساس ہوا کہ لمبا سفر تھا تو ابو کو ہی ساتھ لے آتی
لیکن اب پچھتائے کیا ہوت ۔۔۔۔۔ ؟
خیر وہ ریپ سے بچنے کیلیے صحرا میں بھاگی تو وہاں ریت کا طوفان تھا
اس میں گِھر کر ریت میں دب کر مرگئی
جب پنوں کو ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ بیوی کو تو ساتھ لائے نہیں
وہ بھی پاگلوں کی طرح واپس پیدل بھاگا
راستے میں وہی صحرا، وہی ریت کا طوفان
اسے سسی کا دوپٹہ بھی نظر آگیا اور وہ بھی طوفان میں گِھر کر ریت میں دب کر مرگیا
کہانی ختم
اخلاقی نتیجہ: ڈانس پارٹیز اور شراب وغیرہ سے دور رہنا چاہیے
ان کا کوئی فائدہ نہیں
نرا نقصان ای نقصان اے
سوال: پنوں کے پرفیومز کے برینڈ کا نام بتائیں ؟
JustAsking
مجھے نہیں معلوم کہ لوگ خوبصورت باتیں اپنے دلوں میں کیوں قید رکھتے ہیں، حالانکہ اگر وہ انہیں زبان پر لے آئیں تو ان کے اور اُن کے چاہنے والوں کے سینوں میں گلابوں کے باغ کھل اُٹھیں..
کسی دن فیملی کورٹ کا چکر لگائیں۔وہاں آپ جان سے عزیز تر رشتوں کا end ہوتا دیکھیں گے کہ کیسے ساری محبت بھری باتیں ختم ہو جاتی ہیں، کوئی بھی عورت اپنی محبت اپنا رشتہ نہیں مانگ رہی ہوتی، سب تکرار پیسے کی ہو رہی ہوگی۔
لہذا کوہلو کا بیل بننے کی بجائے اپنی زندگی بھی جی لیا کریں۔
میٹھی باتیں !
آگئے تم ؟
ہاں آگیا ہوں!
تھک گئے ہوگے ؟
بہت زیادہ!
کتنا زیادہ ؟
اتنا کہ اگر اب چلنا شروع کیا تو ٹوٹ ٹوٹ کر پرزے الگ ہوجائیں گے!
پرزوں کو جوڑ لینا!
کل تک نہیں جوڑ پاؤں گا!
کل واپس جاؤ گے ؟
ہاں روز جانا ہوتا ہے روز ایک ہی سوال پوچھتی ہو!
کھانا کھاؤ گے ؟
کیا بنایا ہے ؟
کچھ میٹھی باتیں ہیں!
باتوں سے کیا ہوگا پگلی ؟
روح کا پیٹ بھر جائے گا وہ بہت دن سے بھوکی ہے!
میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے روز ہزار لوگ ملتے ہیں!
یہ باتیں میٹھی کے ساتھ سچی بھی ہیں اصلی گڑھ اور شکر کی بنی ہوئی!
شوگر ہوجائے گی مجھے!
یا اللہ پھر تم اور زیادہ میٹھے ہوجاؤ گے!
ہاہاہاہا کیا میں تمہیں میٹھا لگتا ہوں ؟
ہاں تم آسمان سے برستی بارش کے بوندوں کی طرح میٹھے ہو جو چہرے کی ساری بیماریاں دھو ڈالتے ہیں جس میں مرجھائے پھول کھل جاتے ہیں!
یہ آج کی پہلی میٹھی بات ہے نا ؟
نہیں وہ تو الگ جمع کی تھیں کہ جب تم آؤ گے تو میٹھی میٹھی باتیں کروں گی اور تمہارا ماتھا چوم کر تمہاری تھکن اتاروں گی!
اور اپنی تھکن کا کیا کرو گی ؟
وہ تو تمہارے لمس کی خوشبو سے ہی اترنا شروع ہوجاتی ہے!
تمہیں کچھ زیادہ ہی خوشبوئیں محسوس نہیں ہوتی ؟
مجھے تو تمہاری سگریٹ کی سلگتی خوشبو بھی پسند ہے!
عجیب ہی ہو تم ؟
تمہارے ہونٹوں سے لگی سگریٹ کی خوشبو فقط تمہارے پاس ہے کیونکہ کہ ہونٹ فقط تمہارے ہیں!
ہر شے پر غور کرتی ہو ؟
ہاں!
اچھا اور بتاؤ!
یہ جو تمہارے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی ہے نا میرا ان کے ساتھ کھیلنے کا دل کرتا جب تم سوجاتے ہو نا تو تمہارے پاؤں کی انگلیوں کے ساتھ کھیلتی ہوں اور پھر میرے سارے خدشات اور وسوسے دھل جاتے ہیں!
کیسے خدشات ؟
تمہیں کھو دینے کا خدشہ تمہارے بدل جانے کا وسوسہ !
چھوڑو یہ سب میری طرف دیکھو ۔۔ کیا یق��ن نہیں کرتی ہوں مجھ پر ؟
میرا دل تمہاری جیب میں ہے اس کو کھول کر دیکھ لو ایمان ہے میرا تمہاری محبت پر تمہارے وجود پر !
پھر ایسی بات کیوں کی پگلی کہ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی !
تمہاری محبت کی شدت دیکھنے کیلئے !
یعنی ؟
اب تم سوال پر سوال کر رہے ہو پگلی بن گئے ہو کیا !
اففف ہو جو پوچھا وہ بتایا کرو باتیں نہ بنایا کرو !
ہر انسان اپنی قیمتی شے اپنے خزانے کی حفاظت کرتا ہے کوئی چُرا نہ لے کچھ ہو نہ جائے اور تم تو پھر میری زندگی ہو میری واحد وراثت ہو انمول ہو پھر ایسے خدشات جنم نہ لیں گے تو اور کیا ہوگا !
شششش چپ آئندہ ایسی بات نہ کرنا کہ مجھے تمہارے بغیر رہنے کا تصور کرنا پڑے !
ویسے کر کے دیکھو نا ۔۔۔ ایسا تصور جس میں ہم ساتھ نہیں ہیں !
کہا نا ایسی بات بھی مت کرو خدا کرے یہ وقت قبولیت کا نہ ہو آئندہ ایسی بات کی تو زندگی بھر کیلئے تمہارے سامنے چپ ہوجاؤں گا ۔۔ سمجھی ؟
اچھا نا چھوڑو آگے سنو !
کیا سنوں
کہ میں آج پورا دن کیا کیا سوچا !
بتاؤ کیا کیا سوچا؟
کہ جی��ے ایک باغ ہے وہ بہت بڑا باغ ہے ہر طرف ہریالی ہے ہر رنگ کا پھول ہے اور تم وہاں آنکھیں بند کر کے سکون سے لیٹے ہو اور باغ کی ساری تتلیاں تمہاری طرف آرہی ہیں کیونکہ انکو پھول نہیں تمہارے لمس کا رس چاہیے
ہاہاہاہا تمہارا بس چلے پوری دنیا کو میرے پیچھے لگا دو !
نہیں جی پوری دنیا نہیں پوری کائنات کو اور پھر ناز سے خدا تعالی سے بولوں دیکھو مجھے بھی محبت کرنے آتی ہے اور محبوب کی محبوبیت کا حق ادا کرنا آتا ہے !
اس سے کیا ہوگا ؟
خدا مسکرائے گا ، ہمیں ثواب ملے گا ہماری محبت میں برکت ہوگی ہم کو زندگی بھر کا ساتھ ملے گا !
خدا کو راضی کرنا چاہتی ہو ؟
خدا راضی ہے تبھی تو تمہارے پاؤں ��ر اپنے ہاتھ پھیر رہی ہوں !
تم پاگل ہو !
تم مجھ سے زیادہ پاگل ہو اور یہ تم اچھے سے جانتے ہو !
وہ کیسے ؟
اس وقت تم مکمل کے مکمل تھکن سے چُور ہو پھر بھی میری باتیں سن رہے ہو !
چپ کروا دوں تمہیں ؟
کیسے کرواؤ گے ؟
تمہارا ہاتھ اپنے دل سے لگا کر اپنے ہونٹوں سے اپنے گال سے لگا کر !
ایسے میں نے چپ نہیں ہونا بلکہ تمہاری تاب نہ لاتے ہوئے مر جانا ہے !
ششش پھر فضول بات ، جاؤ میں نہیں بولتا اب تم سے !
اچھا یہ لو ہاتھ اور ایسے روٹھا نہ کرو !
پھر کیسے روٹھا کروں ؟
بس مجھ سے راضی رہا کرو !
اس وقت تم معصوم گڑیا لگ رہی ہو !
تمہاری گڑیا نا ؟
ہاں میری گڑ والی گڑیا !
اچھا اب تم سوجاؤ !
تاکہ تم میرے پاؤں کے ساتھ کھیل سکو !
صرف کھیلتی نہیں چومتی بھی ہوں میرے محبوب کے پاؤں ہیں !
افف پگلی حد کرتی ہو تم !
یہ سب مجھے سکون دیتا ہے !
اور مجھے تمہارا ایسے ساتھ رہنا سکون دیتا ہے تم خدا کا نازل کردہ میرا وہ محبت کا رزق ہو جس سے میں اس دنیا میں زندہ ہوں جی رہا ہوں پگلی !
اور تمہارے علاوہ ہر انسان پر جاندار پر یہ رزق حرام ہیں ۔۔ یہ رزق فقط تم پر حلال ہے میرے چان�� نما شخص !
عباس