راولاکوٹ میں فورسز کی گولی لگنے سے شہید ہونے والے سبحان کشمیری کی نماز جنازہ ادا کی جار رہی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم پراپنی رحمت نازل فرمائے، انکے درجات بلند فرمائے، انکی قربانی قبول فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین🤲
#مریدکے_مت_دہراؤ_کشمیر_میں
Release Saad Rizvi
کشمیریوں کے ساتھ راولاکوٹ میں 26 نومبر دھر��یا گیا لیکن انہوں نے پنجابیوں اور پختونوں کی طرح اگلے روز غائب ہو جانے کی بجائے اسی راولاکوٹ میں اگلے ہی دن اکٹھے ہو کر غاصب کے سامنے ڈٹ جانے کی مثال قائم کردی۔ اللہ انہیں کامیاب کرے، آمین۔
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انس��نی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
یہ میں ھوں ۔۔۔فرزان ایک غریب مزدور کا بیٹا
مجھے ٹیومر ہے علاج پاکستان میں ممکن نہیں میڈیکل بورڈ کے مطابق بیرون ملک چانس لیا جا سکتا ھے
گجرنوالہ کا رھائشی ھوں وفاقی اور صوبائی حکومت بات سننے سے قاصر ہیں ۔۔
کیا مہنگا علاج صرف اشرافیہ کا حق ھے ؟
کیا مجھے جینے کا حق نہیں ؟
راولاکوٹ کشمیر دھرنےکی قریبی مسجدمیں نماز فجر کیلئےجانےوالوں پر رینجر کی فائرنگ سےمتعدد نمازی شہید ہوگئے
عوامی ایکشن کمیٹی
ہم اس پر ک��ھی یقین نہ کرتے اگر مریدکے میں اذانیں دیتے مسلمانوں کو گولیوں سے بھونا نہ گیا ہوتا
اذانیں دیتے نمازیں پڑھتے مسلمانوں کو کوئی مسلمان کیسے مار سکتا
حکومت پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ *آزاد کشمیر* ایک *غیر ملکی علاقہ* ہے۔
رینجرز آزاد کشمیر میں کیوں اور کس قانون کہ تحت بھیجی گئی
حامد میر
کشمیر کے حوالے سے صحافی فرحان علی خان کی حیران کن تحقیقاتی رپورٹ:
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر نے تقریباً 71 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا۔ اگر اس میں نان ٹیکس آمدن بھی شامل کر لی جائے تو مجموعی مقامی آمدن تقریباً 119 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔
اگر پاکستان کے کسی ایک صوبے کے اعداد و شمار کے ساتھ اس کا موازنہ کریں ��و صورتحال بڑی دلچسپ رہتی ہے۔
مثلا اسی سال خیبر پختونخوا کی اپنی صوبائی آمدن تقریباً 83 ارب روپے کے قریب رہی۔ جب آزاد کشمیر اور کے پی کے دونوں کا تقابلی جائزہ آبادی کے ساتھ کیا جائے تو فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ ہے ��بکہ آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کا فی کس ٹیکس بوجھ پاکستان کے کسی بھی انتظامی یونٹ سے زیادہ ہے۔
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ 224 ارب روپے تھا جس میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ 105 ارب روپے شامل تھی۔ یہی وہ رقم ہے جسے اکثر سبسڈی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ کسی غیر رسمی امداد کا حصہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ مالیاتی ڈھانچے کے تحت دی جاتی ہے۔ 2018 میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک مالیاتی معاہدہ ہوا جس پر دونوں طرف کے اعلیٰ مالیاتی حکام کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق وفاقی ٹیکس پول سے آزاد ک��میر کو 3.64 فیصد حصہ دینے کا اصول طے کیا گیا۔ یہ ٹیکس پول فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مجموعی وصولیوں سے بنتا ہے جو 11,740 ارب روپے تک رپورٹ کی گئی ہیں۔
اس فارمولے کے مطابق آزاد کشمیر کا حصہ 427 ارب روپے بنتا ہے۔ لیکن عملی طور پر اسی مد میں تقریباً 105 ارب روپے دیے گئے۔ اس فرق کو 322 ارب روپے کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں نیلم جہلم و منگلا سمیت متعدد منصوبے موجود ہیں جن سے تقریباً 2400 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوتی ہے۔
اس کے بدلے میں خطے کو رائلٹی کے بجائے صرف واٹر یوز چارجز کی صورت میں تقریباً 1 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں دیگر پن بجلی منصوبوں، خاص طور پر پنجاب میں غازی بروتھا جیسے منصوبے پر تقریباً 82 ارب روپے سالانہ رائلٹی دی جاتی ہے۔ اگر اسی حساب کو بنیاد بنایا جائے تو آزاد کشمیر کا ممکنہ رائلٹی حق تقریباً 130 ارب روپے سالانہ کے قریب بنتا ہے۔
بیرون ملک ترسیلات زر بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہیں۔ اندازاً 1.5 ملین کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں جو سالانہ ت��ریباً 4 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں (پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم دو ارب ڈالر ہے) ۔ یہ رقم ملک کی مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی بینکاری نظام میں کشمیری شہریوں کے تقریباً 670 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں جو مالیاتی نظام کی گردش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر 3.64 فیصد NFC فارمولے کے مطابق 427 ارب روپے اور پن بجلی رائلٹی کے تقریباً 130 ارب روپے شامل کر لیے جائیں توآزاد کیشمیر کا مجموعی مالیاتی حجم موجودہ 224 ارب روپے کے بجٹ سے بڑھ کر تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ اعداد س شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر ایک autonomous economy ہے
#RightsMovementAJK
”گزشتہ 8 مہینے سے جیل میں عمران خان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ اُنکے پاس کتابیں ہیں نہ ٹی وی اور نہ کسی کو ان سے بات کرنے کی اجازت ہے۔ انکی آنکھ میں کلاٹ آیا ہے، ہمیں کم از کم تسّلی ہی کروا دیں کہ آپ انکے کھانے میں کچھ ملا نہیں رہے۔ دسمبر میں عمران خان میری بہن سے کہہ چُکے ہی�� کہ یہ مجھے مار دینگے۔ ہم اپنے بھائی کی فکر کیوں نہ کریں؟ ہم پی ٹی آئی سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کچھ کریں۔ دباؤ ڈالیں تاکہ انہیں اس ظلم سے تو نجات ملے۔ ورنہ ان اسمبلیوں اور ووٹوں کا عمران خان کو کیا فائدہ ہے؟“
علیمہ خان کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر ��یڈیا سے گُفتگو