عمران خان اس ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ عوام نے اس کو ووٹ دیا ہے۔ اس کی صحت کے ساتھ جو کھیل تم کھیل رہے، اس کی ذات کے ساتھ جو ظلم تم کر رہے ہو عوام اسکا حساب لے گی۔
عمران خان کی صحت کو فوری ترجیح دی جائے!
آخر کار تانیہ سعید بھی بول پڑی!!
ثانیہ سعید نے تاریخ پھاڑ دیا,
یہاں پر حق کے لیے کھڑے ہونے پر آپکو غدار بنا دیا جاتا ہے, اگر کوئی اپنا حق مانگتے اسکو مارا جاتا ہے, ہم عاصم منیر ریجیم کے دور میں رہے ہیں, جس نے چوروں کو مسلط کیا اور اب وہ چور عوامی ٹیکسوں کو لوٹ رہےہیں!
ہمیں بدلنا ہوگا, آج نہیں تو کل, ہمیں قربانی دینی ہوگی کتنی قربانی دینی ہوگی اور کتنا وقت لگےگا یہ ایک سوال ہے!!،
ناتمام
ہارون الرشید
عمران خاں کی تگ و تاز
مدو جزر بہت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل کیا لائے گا۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے،، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کےلئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
چالیس برس ہوتے ہیں۔لاہور کے پنج ستارہ ہوٹل میں پہلی بار اسے دیکھا۔ ہوٹل کے مسقف صحن میں ایک کھلاڑی سے گپ شپ جاری تھی۔ ماحول گرم گفتاری سے لبریز تھا کہ اچانک خاموشی چھا گئی۔ تجسس اور اشتیاق سے سب انکھیں ایک جانب مڑ گئیں ۔
یہ عمران خان تھے۔ ہمیشہ کی طرح شاہانہ بے نیازی سے چلتےہوئے۔ چائے کی دعوت دیتے والے دوستوں سے معذرت کرتے بڑے دروازے کی طرف لپکے۔ زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا اور اشارہ کیا" ورزش کے لئے جاتا ہوں "
لاہور میں پاک بھارت میچ برپا تھے ۔شہر جوش وخروش سے بھرا ہوا۔ پاکسان غالب تھا اور اہل لاہور اپنے ہیروز پہ نچھاور ہوئے جاتے تھے۔مرحوم کالم نگار عبدالقادر حسن نے جو ان دنوں بہت مقبول تھے، خان کے بارے میں لکھا: "یونانی دیوتاؤں جیسا جسم اور تیور" ۔
کچھ دن بیت گئے۔حفیظ اللہ خاں سے گاہے بہ گاہے ملاقات ہونے لگی۔ وہ خان کے بارے میں عجیب و غریب واقعات سناتے، ناقابل یقین ۔ کسی فاتح کی نہیں، ان واقعات سے ایک درویش کی سی تصویر بنتی اور یہ ناقبل فہم نہ تھا۔مثلآ شادی کے دن کسی دوست کی شیروانی پہن لی ۔اس تقریب کے لئے ہنری کسنجر سمیت ا مغرب کی ممتاز شخصیات جس میں شریک تھیں۔ دلہن کی والدہ کا تعلق برطانوی تاریخ کے ایک اساطیری کردار، صلاح الدین ایوبی کے حریف The lion heart سے تھا ۔ اس کے کھرب پتی والد گولڈ سمتھ دنیا کے ممتاز سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرح اخبارات اور جرائد میں جگمگاتے۔
وہ ایک کرشماتی کھلاڑی تو تھا مگر ہیرو؟ کرکٹ سے دل چسپی بھی اس سے زیادہ کبھی نہ تھی کہ بھارت سے پاکستان جیت جائے۔ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔
خان سے ملاقات کرکٹ سے دستبرداری کے چار برس بعد ہوئی۔ لٹیرے سیاست دانوں سے نجات کے لئے خلق خدا اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ اس مکروہ مخلوق سے اکتائے ہوئے ہم بھی تھے۔
خبر سننے میں آتی رہی ۔ تفصیل ایک دن جنرل حمید گل مرحوم نے بیان کی۔ان دنوں مسلسل جن سے ملاقات رہا کرتی۔ اپنے ہاتھوں سے تراشے گئے فریب کار نواز شریف سے بیزار وہ خاں صاحب کو سیاست میں لانے کے لئے بے تاب تھے۔مدید تکبیر محمد صلاح الدین مرحوم اور عبدالستاد ایدھی کی مدد سے ۔منصوبہ یہ تھا کہ لاہور کے موچی دروازے میں ایک عظیم عوامی اجتماع ہو۔ پہلے سے تحریک چلائی جائے۔اس اجتماع میں خلق خدا امڈ آئےتو ہجوم کا رخ زماں پارک کی طرف موڑ دیا جائے۔ خان سیاست میں کود پڑنےکا اعلان کر دے۔ نئے امکانات کا در کھلے۔
" ملک کو تباہی سے بچانے کا یہ بہترین نسخہ ہے" جنرل نے کہا ، آئی ایس آئی کی سربراہی کے دور سے جو سیاسی جوڑ توڑ کے چسکے کا عادی ہو چکا تھا"
مگر وہ مانتا نہیں" جنرل نے کہا۔
کیوں نہیں مانتا؟ اس کے خیال میں سیاست آدمی کا دامن آلودہ کرتی ہے۔
" قائد اعظم نے سیاست سے عزت پائی اور تاریخ کی لوح پر دائم دمکتےرہیں گے۔ ابرہام لنکن سیاست دان تھا۔ اخلاقی عظمت کا لہکتا ہوا استعارہ کہ امریکی تاریخ میں کوئی اس کا ہم سر نہیں"فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے : بنی اسرائیل کے انبیا سیاست کیا کرتے تھے۔
" یہ کڑے دلائل ہیں ۔ اس سے ملو اور اسے قائل کرنے کی کوشش کرو" جنرل نے کہا۔"ایاز قدر خود بشناس" میں نے سوچا " میں کیا اور میری بساط کیا" تاہم ان کے اصرار
پہ وعدہ کرلیا۔ دل چسپ یہ کہ اس اثنا میں خان نے جنرل کو تیاگ دیا اور پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔ لاہور گیا۔تجاویز مرتب کیں کہ نئی پارٹی کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ حفیظ اللہ خاں کی عنایت سے علیحدگی میں خان سے کا ملا۔ خوش دلی سے اس نے خیر مقدم کیا
یہ ایک رفاقت کا آغاز تھا رفتہ رفتہ جو بے تکلفی میں بدل گئی۔نشیب سرفراز سے گزری کہ ہمیشہ اتفاق رائے ممکن نہ تھا۔
اخبار نویسوں میں حاسدتھےاور اس کی پارٹی کے لیڈروں میں بھی۔ وہ خان کو بدظن کرنے کی کوشش میں لگے رہتے۔ حسد ایک مستقل ذہنی بیماری ہے۔ کم لوگ اس سے بچتے ہیں۔
کھلاڑی، Philanthropist اور سیاست کار پہ ارادہ تو کتاب لکھنےکا تھا ۔ اس کی علالت کی خبر سن کر جی بے تاب ہوا ہے کہ یہ داستان ابھی دہرا دی جائے۔ اس آدمی کی کہانی جو طوفانوں میں رسان سے لنگر انداز ہوتا ہے۔
جسے قتل کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے والا کل اس کے لئے ، اس کے وطن کے لئے کیا لائے گا ۔عمر بھر جو طوفانوں سے کھیلتا رہا۔ ترک امید البحر خیر الدین باربروسا کی طرح جو سمندر کو جھیل بنا دیتا تھا۔
مدو جزر بہت ہے۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کے لئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
پہلی ہی ملاقات میں ایک بزرگ شخصیت نے عمران خاں سے پوچھا: زندگی میں آپ کی اولین ترجیح کیا ہے۔ بلا تامل انہوں نے جواب دیا: صرف پاکستان کی بجائے عالم اسلام کے لئے جدوجہد۔امریکہ سمیت مغربی مملک نے ادراک کر لیا۔خان کی قوم نہ کر سکی۔اس کی غلطیاں اپنی جگہ اور ناچیز سمیت کئی لوگ ان کی نشان دہی کرتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا عمل کیا ہے اور شخصیت کیا ۔ 1992 میں اس وقت خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا جب اس کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سمیت کرہ ارض پر کسی ایک شخص کو بھی اس کی امید نہیں تھی۔ شوکت خانم ہسپتال! اولین اجلاس میں 20 ڈاکٹروں میں سے 19 نے کہا: ہسپتال نہیں بن سکتا۔ ایک نے کہا: بن سکتا ہے، چل نہیں سکتا۔ ایک بے مثال ہسپتال، پھر دوسرا اور تیسرا۔ میانوالی
کی نمل یونیورسٹی ۔اتفاق سےاول دن سے یہ خاکسار اس کی کاوش کا گواہ ہے۔دوسرےتو کیا، Construction Company تپتے پہاڑوں کے دامن میں زیر تعمیر عمارت کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ سیاست کی تگ و تاز کے طویل عرصے میں کبھی وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوا۔ ایک ارب درختوں کے جنگل اور صحت کارڈ ایسے منصوبے وہی بروئے کار لا سکتا تھا۔ شریفوں اور زرداریوں سے اس کا کیا مقابلہ۔ پاکستان نہیں، وہ عالم اسلام کامقبول ترین رہنما ہے۔ فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت اس نے پیدا کر دی ہے۔ ہزار حربوں اور عالمی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود یہ بغاوت تحلیل نہیں ہو رہی۔ ایک آدمی اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا تھا، 42 برس کی عمر میں جس نے سیاست میں قدم رکھا ۔ مسئلہ اس کا یہ بھی تھا کہ مزاج سیاسی نہ رکھتا تھا۔ جوڑ توڑ سے ناآشنا ۔امید ہے کہ اسیری کے اذیت ناک برسوں میں بہت کچھ اس نے سیکھ لیا ہو گا۔ گھمبیر حالات میں اس کے تمام حریف بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انشاء اللہ وہ آزاد ہو گا اور تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو جائے گا۔ اہم ترین یہ ہے کہ حقیقی آزادی کے لئے دوسروں کو بھی شریک ہونا ہو گا، سبھی کو۔ کوئی بھی لیڈر اپنی جنگ تنہا نہیں جیت سکتا۔ ابرہام لنکن، ڈیگال اور قائداعظم محمد علی جیسے جلیل القدر رہنما بھی نہیں۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے۔
حرف آخر یہ کہ مولوی حضرات اور نام نہاد لبرل ضرور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ جس طرح کہ مذہبی جوش و خروش سےقائد اعظم کی مزاحمت کرتے رہے۔
While Imran Khan rots in Pakistani jail, Indian legend Kapil Dev gets emotional: Imran Ke Haalat Ko Dekh Kar Dukh Hota hai. No way for Pakistan to treat their former Prime Minister.
Watch this. Full podcast drops Sunday 7pm on @sports_tak@therealkapildev@ImranKhanPTI
#ImranKhan
In the House of Commons, Michael Kram (@MichaelKramSK) presented a petition signed by over 1,800 Canadians demanding the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
The imprisonment of political opponents undermines democratic principles globally. International voices must persistently advocate for the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
#WhereIsImranKhan
#FreeImranKhan
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
ٹرینڈ الرٹ 🚨
عمران خان کے چاہنے والے سب یہ ٹرینڈ #خان_ڈٹا_ہوا_قیادت_چھپی_ہوئی شروع کریں اور لیڈرشپ سے سوال کریں آپ عمران خان کی رہائی پر کیوں خاموش ہو؟
یا تو عمران خان کی رہائی کے لئے فوری احتجاج تحریک کا اعلان کریں یا عہدے چھوڑ دیں
اور سیز پالستانوں کو چاہیئے کہ ملک میں مقیم پاکستانیوں کی آواز بنیں کیونکہ ان کے پاس آزادی رائے نہیں ہے۔
نورین نیازی @Noreen_KhanPK کا ۹ مئی کے موقعے پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئیے پیغام
#مئی9_یوم_جبر#May9th_FalseFlag
آج صبح عمران خان پر 9 مئی کے حوالے سے قائم ایک مقدمے کی پیشی تھی۔ وہاں جب ہم پیش ہوئے تو عجیب و غریب منظر دیکھا،خان صاحب کو اڈیالہ کے چھوٹے سے کمرے میں بٹھایا ہوا تھا،وہاں سے جج صاحب کو واٹس ایپ کال ملائی گئی،اس ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کا ٹرائل شروع ہوا۔
جب ہم نے خان صاحب سے بات کرنے کی کوشش کی تو دس فٹ دور جج صاحب نے فون رکھا ہوا تھا، نہ خان صاحب ہماری بات سن سکے نہ ان کی آواز ہم تک آ پائی، جج صاحب نے جب اڈیالہ انتظامیہ سے کہا کہ آواز نہیں آرہی تو ان کو کہا گیا بس حاضری ہو گئی۔ یہ ہے فئر ٹرائل؟ ایسے ہوتی ہے حاضری؟
سلمان صفدر!
"He's often talked about the difference between pleasure and happiness. Pleasure is short-term; happiness is long-term."
Imran Khan's sons speak about battling from their home in London to ensure he is treated humanely in prison in Rawalpindi.
https://t.co/9gZEPBP97Y
“Islamabad may have succeeded in removing Imran Khan the man from the public eye,” @RanaAyyub writes.
“Erasing Khan the living symbol of national pride has proved far more difficult.” https://t.co/5GLVYkqXM1
"If anything, his faith has grown stronger since he's been in prison."
Imran Khan's sons speak about battling from their home in London to ensure he is treated humanely in prison in Rawalpindi.
https://t.co/9gZEPBOBiq
Few political figures have lived as many public lives as Imran Khan: playboy cricketer, global celebrity, populist reformer and now perhaps the world’s most recognizable jailed politician. @PostOpinions
https://t.co/F5YMqo9I5Y
جب ہم اپ سب سے سوال کرتے ہیں تو اپ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اپ پر تنقید کر رہے ہیں تنقید نہیں کر رہے ہم نے اپ لوگوں سے امیدیں تھیں امیدیں ہیں کہ اپ خان صاحب کی رہائی کے لیے کچھ کریں گے۔اس وقت خان صاحب اور بشرا بی بی اور ڈھیروں ڈھیر لوگ جیلوں میں پڑے ہیں
تو کیا ہم سوال بھی نا کریں ؟؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری اپوزیشن یہ فیصلہ کر لے کہ ہمیں اڈیالہ آنا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی پنجاب اسمبلی اور دیگر تمام اسمبلیوں میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہاں جمع ہوں اپنی اسمبلی یہیں قائم کریں اور یہیں دھرنا دیں اور ایک واضح مقصد کے تحت کھڑے ہوں کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنا ہے پوری اپوزیشن یہاں قیام کرے اور مسلسل دھرنا دے ایک دن دو دن یا چار دن تو پھر حکومت کس طرح عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے سے انکار کر سکتی ہے۔۔
ہم تو صرف ان سے یہ گزارش کر سکتے ہیں۔۔ کہ یہاں آئیں۔۔۔
آپ کا قائد یہیں اڈیالہ جیل میں موجود ہے
( عمران خان صاحب کی تینوں ہمشیرہگان رات 9:40 پر اڈیالہ جیل سے رخصت ہو گئی )
Pls repost if you endorse the following statement prepared by civil society activists
*Demanding Justice for Adv. Imaan Mazari Hazir and Adv. Hadi Ali Chattha*
24 April 2026: We, members of the Civil Society of Pakistan, stand in unwavering support and solidarity with renowned lawyers, Adv. Imaan Mazari Hazir and Adv. Hadi Ali Chattha.
We strongly condemn the continued incarceration of both human rights lawyers. Despite urgent Petitions, 90 days have passed without court hearings or due process – after being unjustly sentenced to 17 years imprisonment and fines of Rs.36 million, following a sham trial – in violation of the Constitution, rule of law, fundamental human rights, and dignity of the legal profession.
*Human Rights, Health, Financial, Legal Implications*
Their imprisonment, including solitary confinement, has reached a critical threshold, with serious implications.
*Constitutional Violations, Unjust Punishment:* Their 17-year sentences, with huge fines on trivial charges, violate Pakistan Constitution Articles 4, 9, and 10-A, guaranteeing dignity and security of the person, due process, and right to a fair trial.
*Physical and Psychological Health:* Prolonged incarceration without due process imperils physical and psychological health, necessitating urgent medical intervention. The State’s imprisonment and separation of a married couple serves no purpose other than to inflict maximum emotional distress, violating their dignity and human rights.
*Financial Strangulation:* Imposing excessive fines, the State is effectively stripping them of their ability to sustain themselves upon their eventual release after 17 years.
*Silencing Voices of the Voiceless:* Both are renowned pillars as legal and human rights defenders – voices and bridges between the marginalized and the State.
*Grassroots Activism:* Both are at the forefront of social justice activism: protests, press conferences, media advocacy, conveying the voices of the vulnerable.
*Persecution of Rights Defenders:* Due to their brave work within the judicial system, a systematic strategy to crush the spirit of two young human rights defenders, legal professionals.
*Defending the Defenceless:* Both specialize in defending victims of *enforced disappearances* and false *blasphemy* accusations, taking cases on _pro bono_ basis to ensure legal representation.
*Breach of International Commitments:* UN Special Rapporteurs stated that charges of "cyber terrorism" are a blatant attempt to silence their professional work in Public Interest Litigation and human rights activism. Having ratified the ICCPR _(inter alia)_ Pakistan is thus in direct violation of its binding legal international commitments in this matter.
*Demands*
We call upon the Government of Pakistan and the Judiciary urgently to:
1. *Expedite Judicial Process:* We urge the judiciary to take up their Appeals and hear their cases on *merit*, releasing them on bail without further delay. *The State must not obstruct the swift dispensation of justice.*
2. *Withdraw Fabricated Charges:* The State must withdraw all "cyber terrorism" and "glorification of offense" charges under PECA 2016.
3. *Revoke Fine, Provide Compensation:* (a) Revocation of Rs.36 million fines; (b) Provision of relief and compensation for the physical and psychological trauma of their unjust incarceration.
4. *Comply with UN Obligations:* Ensure full compliance with the ICCPR and all recommendations of the UN Special Rapporteurs in this matter.
*A Plea to the Legal Community*
We commend the legal community for their strong Resolution (15 April 2026). We call upon Bar Associations and lawyers countrywide to also demonstrate solidarity and work jointly to obtain justice for their unjustly convicted, sentenced, imprisoned colleagues.
*If defenders of the law are not safe from misuse of the law, then no citizen is safe.*
My latest for the Washington Post on Imran Khan. The legendary cricketer and politician Pakistan can jail, censor but never erase. @PostOpinions
https://t.co/F5YMqo9I5Y