@ImranRiazKhan بے غیرت اور ارض پاک کی پلید ترین مخلوق کعبہ بھی بھلا عظمت کے لیے کسی کا مرہون منت ہے غلیظ ترین انسان ہاں وہ شخص ضرور قابل رشک جسے کعبہ کے اندر جانے کا شرف حاصل ہوا۔بے غیرت بھونک ضرور پر کچھ تو اللہ پاک کی قائم کردہ حدود قیود کا خیال کرپاک جگہوں کو تو غلیظ سیاست سے دور رکھ بےشرم۔
میں ںڑے بڑے اسکالرز کو کہتا ہوں کہ آئیں آپ اس عاقب شہید کے والد کا انٹرویو کریں جو اپنے بیٹے کی لاش لینے گیا تو اس کو خاندان سمیت اغوا کر کے کہاں لے جایا گیا ان کے کپڑے اتار کر ان کی ویڈیو بنائی گئی ان کو تشدد کیا گیا اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں کو بھیجی گئی ایسا کام تو اسرائیل فلسطین میں نہیں کر رہا جو یہاں ہو رہا ہے جس کا بیٹا فرض کی ادائیگی میں شہید ہو گیا اس کی لاش اس کے حوالے نہیں کی گئی چار دن تک اس کی لاش کو روکا گیا وہ زخمی تھا تو اس کی ایمبولینس کو وہاں سے چلنے نہیں دیا گیا اس نے ایمبولنس کے اندر دم توڑا
آئی جی آزاد کشمیر
“کراچی پنجاب میں تھا اور پنجاب کا حصہ تھا۔”امیتابھ بچن بالکل درست کہہ رہے ہیں . امیتابھ بچن کی بات کراچی پنجاب میں تھا یا پنجاب کا حصہ تھا بالکل درست ہے اس کا سادا سا مطلب ہے کہ تقسیم سے پہلے کا کراچی تک پھیلا ہوا پنجاب ہندوستان کا اتنا بڑا صوبہ تھا کہ کراچی پنجاب کا ہی ایک حصہ لگتا تھا۔پنجاب ایک طرف جمنا دوسری طرف افغانستان تیسری طرف کراچی اور چوتھی طرف جموں کشمیر گلگت بلتستان چین تک پھیلا ہواتھا۔سندھ کا اسوقت کوئی وجود نہیں تھا سندھ بمبئی کا حصہ تھا کراچی کی بندرگاہ درحقیقت پنجاب کی گندم چاول کپاس اور زرعی اجناس یورپ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ہی انگریزوں نے تعمیر کی تھی۔دوسرا سارا ناتھ انڈیا کراچی کی بندرگاہ براستہ پنجاب استعمال کرتا تھا۔اگر پاکستان نہ بنتا کراچی پنجاب کا ہی حصہ ہوتا اور اندرون سندھ بمبئئ کا حصہ ہوتا۔ویسے بھی کراچی کی بندرگاہ گذشتہ آٹھ ہزار سالوں سے ہڑپا سپتا سندھو کے زمانوں سے بلاشرکت غیرے پنجاب ہی بندرگاہ ہی کی بندرگاہ رہی ہےاور پنجاب ہی کے زیر استعمال میں رہی ہے۔قدیم پنجابی سلطنت سپتا سندھو /پنجاب ہڑپا اور ٹیکسلا کی ساری درآمدات و برآمدات عالمی تجارت میسوپٹیمیا اور دیگرقدیم دیشوں سے سندھو دریا سے جڑے سمندر/ کراچی کے ذریعہ ہی ہوتی تھی جوایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کی بندرگاہ بننے تک انڈس دریا میں چلنے والے بحری جہازوں اور جہازی کشتیوں کے ذریعے کراچی کے سمندر تک مال پہنچانے اور لانے کیلئے جاری رکھی ۔پنجاب کی درآمد وبرآمدکیلئےہی کراچی کی بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ہزاروں سالوں سے پنجاب کے پنج ست دریاؤں کا پانی ,پنجند کا پانی, پنجابی دریا سندھو /Indus کے ذریعے سمندر میں جاگرتاہے .سندھو دریا کےاندر بہنے والاسندھ گذرکر سمندر میں جاگرنےوالا پنجاب کےپنج ست دریاؤں کا پانی اور سمندر تک جانیوالی دریا کی بلاشرکت غیرے روزاول سے پنجاب کو سندھو دریا کا حق ملکیت دیتی ہے۔ پنجاب ہزاروں سالوں سے بیرونی دنیا تجارت کیلئے کراچی کی بندرگاہ یا سمندر اپنی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔اور سپتا سندھو کی ساری بیرونی تجارت سمندر کےسندھو پنجاب سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہوتی آرہی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا .سندھ صوبہ انگریزوں نے قائم کیا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپتا سندھو اور ٹیکسلا کی آٹھ ہزار سال قدیم پنجابی سلطنوں کے زمانوں سے کراچی اور اس کا سمندر پنجاب کےزیر استعمال اور پنجاب کا حصہ رہا ہے اور پنجاب زمانہ قدیم آٹھ ہزار سال سے کراچی اور سمندر تک تھا اور ہے۔جب تک پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی پنجند سے لے کر پنجاب کا سب سے بڑا پنجابی دریا سندھو المعروف دریائےپنجاب کراچی کے سمندر تک لے کر جاتا رہے گا اسوقت تک کراچی اس کی بندرگاہ اور سمندر بھی پنجاب کاحصہ رہے گا۔ اسی لئے امیتابھ بچن جو خود بھی پنجابی ہیں یا کوئی بھی اور پنجابی یا ساراپنجاب سارا نارتھ انڈیا کہہ سکتا ہے کہ کراچی پنجاب میں تھا۔اور سمندر کے سندھو دریا کے ذریعے پنجاب سےجڑے ہونے کی وجہ سے ہم بلا کسی تردر کے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی پنجاب میں ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اسوقت پنجاب آدھے بھارت کے برابر تھا اور سندھ کو کوئی نہیں جانتا تھاتب سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا۔سندھ کل کی بات ہے۔ساری دنیا پنجاب کو ہی ہند سے الگ ایک ملک کے طور پر اور کراچی پنجاب میں ہے کے طور پر ہی کراچی کو جانتی تھی۔
@awarahgard جی بالکل یہ اتنے تر نوالے ہوتے تو دنیا کب کی نگل چکی ہوتی۔
ابھی حال ہی میں ایران نے سعودی جہازوں پہ حملہ کیا ہے تو کیا پاکستان نے ایران پہ حملہ کیا اور کیا سعودی پاپ کارن کھاتے رہے نہیں ناں۔
اللہ
اس معاہدے میں
مسلمانوں کے لئیے خیر و برکت عطا فرماۓ آمین
پاکستانیوں کو مبارک❤️
معاہدے پر لکھوں گا
مگر ان شاء اللہ کل
ابھی وقت نہیں
کیونکہ ویک اینڈ شروع ہونے والا ہے😍
*وہ اشعار جن کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا جبکہ پہلا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا*
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
*بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا*
(مصطفیٰ خان شیفتہ)
گلہ کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا
*خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے*
(سرور عالم راز سرور)
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
*تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے*
(مصطفیٰ زیدی)
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
*دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے*
(مرزا غالب)
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
*خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو*
(میانداد خان سیاح)
غم و غصہ، رنج و اندوہ و حرماں
*ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے*
(حیدر علی آتش)
مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی
*مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی*
(شاد لکھنوی)
آخر گِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی
*پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا*
(مرزا جواں بخت جہاں دار)
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
*بہت دیر کی مہرباں آتے آتے*
(داغ دہلوی)
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
*کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا*
(چراغ حسن حسرت)
پھول تو دو دن بہارِ جاں فزاں دکھلا گئے
*حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے*
(شیخ ابراھیم ذوق)
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
*ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا*
(مرزا غالب)
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھ ہیں
*صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں*
(داغ دہلوی)
چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
*عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے*
(فدوی لاہوری)
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
*اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا*
(میر طاہر علی رضوی)
لائے اس بت کو التجا کر کے
*کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے*
(پنڈت دیال شنکر نسیم لکھنوی)
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات*
(علامہ اقبال)
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
*جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی*
(علامہ اقبال)
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
*اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں*
(شعیب بن عزیز)
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
*بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے*
(پروین شاکر)
برباد گلستاں کرنے کو، بس ایک ہی الو کافی تھا
*ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا*
(شوق بہرائچی )
جب اپنی حکومت بنتی ہے تو ناچتے ہیں
جب اپنی حکومت خود گراتے ہیں تو ناچتے ہیں
جب اپنا لیڈر اقتدار میں آئے تو ناچتے ہیں
جب وہی لیڈر جیل میں جائے تو ناچتے ہیں
اسی 27 سالہ ناچ گانے کے بعد یہ قول مشہور ہوا تھا کہ “نچن والیاں دے پتر کدی آزادی دی جنگ نہیں لڑ سکدے”
قرآن پاک کا وہ ترجمہ جس کی تلاش میں 40 برس بیت گئے، کاش یہ پہلے نصیب ہو جاتا مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعة الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر لیکچر کے آخر میں کانفرنس کے شرکا علماء سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے جو بچپن سے میرے دل میں تھے اور عالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دے رہے تھے۔ ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا جس کی بنیاد پر میرے علاقے کے مولانا نے محمود صاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔
میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کا جواب دیا۔ اب میری بھی ہمت بڑھی میں نے پوچھا جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے تو میں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔ پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں ایک مُحکمات اور دوسرے مُتشابہات۔ ضروری ہے کہ مُتشابہات کو مُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے
ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات و مُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ *جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے* *اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے*۔ *جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے*۔ انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے جس کا مطلب ہے کہ *انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے*۔ میں نے پھر بودا سا سوال کیا کہ
میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔ کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ *اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں*۔ میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔ اس پر پروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی
*اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اُس پرچلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ چاہے اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت* کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں میرے یا کسی بھی مولوی کے محتاج کیوں ہوتے ہو۔ قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ ایمان اور استدلال یعنی ریزن (reason) الگ الگ چیزیں ہیں اور ریزننگ بھٹکا دیتی ہے۔
اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ *اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔ * *بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔ * *میرے سامنے سےجیسے اندھیرے چھٹ گئے۔ * میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میرا خدا تو بالکل ویسا ہے جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔ کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔
ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔ کچھ عرصہ بعد ایک نو مسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔ وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی اُٹھان اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔ یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔ آج شیعہ کروڑوں میں ہیں اور کروڑوں ہی سنّی کہیں مالکی ہیں کہیں حنبلی اور کہیں شافعی۔
ہر فرقے میں مزید تقسیم اور فرقے در فرقے ہیں۔ افسوس کہ ایسے لوگ کہیں مُشکل سے نظر آتے ہیں جو وہابی ہوں نہ دیو بندی، بریلوی ہوں نہ اہل حدیث جن کا دین صرف اسلام ہو۔ جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔ سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ *عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے* ۔ اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے
کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکروں میں بٹ چُکے ہیں۔ شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔ سورہ حج میں اللہ کہتے ہیں *پس کیا وہ زمین میں نہیں پھرے تاکہ انہیں وہ دل ملتے جن سے وہ عقل سے کام لیتے یا ایسے کان نصیب ہوتے جن سے وہ سن سکتے*۔
جناب اتباف ابرک کی خوبصورت غزل
بزبان شاعر
کردار مختصر تھا کہانی میں ہم بھی تھے
دو چار دن تو قصہِ فانی میں ہم بھی تھے
پھر زندگی نے دفعتاً مطلع بدل دیا
پہلے پہل تو مصرعہِ ثانی میں ہم بھی تھے
دیوار پر لگا کے ہٹائی بھی اس نے خود
تصویر تھی پرانی ، پرانی میں ہم بھی تھے
لگتا ہے لکھ کے بھول گیا ہے ہمیں قلم
کوئی اسے بتائے کہانی میں ہم بھی تھے
یہ بات اور ہے کہ وہ مشہور ہو گیا
مجنوں کے ساتھ دشت مکانی میں ہم بھی تھے
کس منہ سے اب زمانے کو ابرک برا کہیں
اپنے خلاف شعلہ بیانی میں ہم بھی تھے
اتباف ابرک