لاہور ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور 3 بچوں کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں پیشرفت ہوگئی، پڑوسیوں اور عینی شاہدین کے بیانات سامنے آگئے۔
پڑوسیوں کے مطابق بچے کی چیخیں سن کر اطلاع دی گئی، والد نے ابتداء میں بچوں کے گھر میں موجود ہونے سے انکار کیا، کچھ دیر بعد والدہ نے باہر آکر شوہر پر سنگین الزام عائد کردیا۔
پڑوسی کا کہنا ہے کہ گھر کے واشنگ ایریا سے بچے کے درد سے کراہنے کی آواز سنی، گھر کی ملازمہ نے بچے کو تڑپتا دیکھ کر میری اہلیہ کو بتایا، گھر کی بیل دی تو بچوں کا والد باہر آیا، والد کو بتایا کہ واشنگ ایریا میں بچہ درد سے چیخ رہا ہے، ناصر ڈوگر نے کہا کہ بچے گھر پر موجود نہیں، فلم دیکھنے گئے ہیں۔
پڑوسی نے کہا کہ اس دوران بچوں کی ماں بھاگتی ہوئی باہر آئی، والدہ نے آکر کہا کہ میرے بچوں کو میرا شوہر کھا گیا ہے۔
@MujeebAShaikh سر فوجی جوان روز ہماری حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے دیکر اپنے ماں باپ اور ملک کو سرخرو کررہے ہیں انکی قربانیوں کو پیسوں میں تولنا بہت تکلیف دہ عمل ہے
@CMComplaintCell
گزشتہ جمعرات بیگم کا انٹرنشپ لیٹر بنوانے جامعہ بہاؤالدین زکریا ملتان گیا۔ جہاں مجھے کیریئر ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ریفر کیا گیا ایک لیٹر کے ساتھ جو کہ لف کر رہا ہوں۔ صبح 10:30 کا وقت تھا لیکن صاحب بہادر دفتر کو تالہ لگا کر تشریف لے جا چکے تھے۔ نمبر حاصل کر کے کال کی+
بہادر شاہ ظفر نے، پینسٹھ سال کی عُمر میں، 'زینت محل' سے شادی کی، اکہتر برس کی عُمر میں 'شاہ آبادی بیگم' سے نکاح کِیا اور بہتر برس کے تھے، جو ایک مُطربۂ زُہرہ پیکر پر فریفتہ ہو گئے اور اُس سے بھی نکاح کر لیا اور اُسے 'اختر محل' "کے خطاب سے نوازا ـــ بہادر شاہ ظفر، طوائفوں کا ناچ، بڑے شوق سے دیکھتے تھے ـــ واضح رہے کہ شادی کے وقت، 'زینت محل' کی عُمر، سترہ برس تھی ـــ
"اُردو ادب کی مختَصَر ترین تاریخ | سلیم اختر"