آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
#قومی_زبان
باقی صدیقی کی غزل
اقبال بانو کی خوبصورت آواز میں سنیں
اپنی یادیں تازہ کریں
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسے قدم اٹھانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقی
بستیوں سے سر ِشام آنے لگے
باقی صدیقی
پاکستانی شوشل میڈئیے پر ایران سے گیس بھی آ گئی
اور پٹرول بھی
پٹرول اتنا سستا ہو گیا کہ لوگ اس میں روح افزا اور تخ ملنگا ڈال کر پی رہے ہیں
اس پر پنجابی کہاوت یاد آگئی کہ
پِنڈ وسیا نئیں اُچکے پہلے ای تیار
جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں
دونوں کا ایک حال ہے یہ مدعا ہو کاش
وہ ہی خط اس نے بھیج دیا کیوں جواب میں
پیہم سجود, پائے صنم پر دم وداع
مومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں
#قومی_زبان
بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جُو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
#قومی_زبان
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
#قومی_زبان
تُہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
شمع کے مانند ہم اس بزم میں
چشم تر آئے تھے دامن تر چلے
ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
#قومی_زبان
غنچۂ ناشگفتہ کو دُور سے مت دکھا کہ یُوں
بوسے کو پوچھتا ہوں میں مُنہ سے مجھے بتا کہ یُوں
میں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہئے غیر سے تہی"
سُن کے سِتم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ "یُوں"
جو یہ کہے کہ ریختہ، کیوں کہ ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
#قومی_زبان
@RShahzaddk شہزاد صاحب
آج کی تاریخ میں آپنے دو بھنڈ مار دیئے ہیں
اسلام آباد میں بہن بھائیوں کا وراثت کا مسئلہ اور دوسرا
یہ ایر پورٹ والا معاملہ۔
اب بس کردیں
لگتا ہے آپ بھی” ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز”