جب جرنیل مشکل میں آیا مزمل اسلم بچانے آیا
PIA ڈیل میں جب جرنیلوں پر تنقید ہوئی یہTV پرآیا اور کہاحکومت نے اچھی ڈیل کی اگر 10 ارب روپے میں یہ سستی بکی تو اس میں حکومت قصوروار نہیں ہم سب ہیں
منرل کا معاملہ یا بجٹ سرپلس یہ کھل کر جرنیلوں کا کھلونا بنا ہوا ہے
عمران خان کو کچھ ہوا تو ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
خٹک صاحب یہ جملہ پی ٹی آئی کے تمام کارکنان اور قیادت بول رہی ہے۔ یہ جملہ اب کھوکھلا ہوگیا ہے کیونکہ عمران خان سات ماہ سے علاج کے بغیر لاپتہ ہیں۔ سات ماہ میں ہم نے کوئی جینونلی احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی اسٹیبلِشمنٹ کو ٹف ٹائم دیا۔ اس کے برعکس عمران خان کی قید کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ اور ان کی آنکھ کی بیماری بھی معمول بن چکی ہے،
عمران خان کو ان کے بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کی عدمِ موجودگی میں متعدد بار اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ ان کی میڈیکل رپورٹس چھپائی گئی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ جب ان کی بہنوں سے آخری ملاقات ہوئی تھی تو وہ اچھی صحت میں تھے۔ جب سے قید تنہائی میں رکھا گیا تو ان کی آنکھ میں ایک لوتھڑا بن گیا۔ ایسی صورتحال میں ہم انہیں سات ماہ تک ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دے سکے۔ کوئی ان سے مل ہی نہیں سکا
خدا کے لیے ان بھڑکوں کی بجاے کوئی ٹھوس لائحہ عمل دیں کوئی حکمت عملی دیں
کس اخلاقی اتھارٹی سے تم بجٹ پاس کرتے، کس اخلاقی اتھارٹی سے قانون پاس کرتے ہو، تمھیں خود پتہ ہے، تمھاری بیویوں کو پتہ ہے، تمھارے بچوں کو پتہ ہے، تمھارے ڈرائیورز کو پتہ ہے تم مسترد شدہ ہو، تم ہارے ہوئے ہو، اسد قیصر کا وفاقی وزر عطاء تارڑ اور احسن اقبال کو جواب
اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے یہ سب سے بدترین دور ہے۔ عمران خان مزاحمت کا استعارہ تو بن گیا لیکن ہم کامریڈ نہیں بن سکے۔ جب بھی اس طرح کے حالات آتے ہیں ہم بزدلی دکھاتے ہیں۔ عمران خان کو ہم نے واپس کیا لوٹایا؟ اس کے لیے ایک دن کی بھوک نہیں برداشت کر سکے، خلیل الرحمٰن قمر
جن شہباز گل ، مرزا شہزاد اکبر پر بدترین جسمانی تشدد ہوا ، تیزاب پھینکا گیا ، اہلخانہ اٹھائے گئے ان پر الزام تراشیاں وہ کررہا ہے جو گنڈاپور حکومت میں بھی تھا سہیل آفریدی کی حکومت میں بھی ہے۔ جو وفاق سے غیر ضروری تعاون کا بھی حامی ہے۔ جو بجٹ سرپلس کا بھی حامی ہے۔ جو عسکری منرلز بل کا بھی داعی تھا۔ جسے عمران خان حکومت میں ٹویٹس کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
مزمل اسلم جیسے لوگ تحریک حقیقی آزادی پر بوجھ ہیں۔ شہباز گل اور مرزا شہزاد اکبر اس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ شکر خور عسکری اثاثے قربانیاں دینے والے اور مشکلات جھیلنے والے لوگوں کو اوورسیز ، ڈالر خور اور اس طرح کے الزامات لگا کر اپنا آپ چھپانا چاہتے ہیں۔مزمل اسلم اب بیرسٹر سیف جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
ایک بات میں ذاتی طور پر کہہ رہا ہوں، کوئی خفا نہ ہو، یہ تحریکِ انصاف کے اکابرین۔ میں سیاسی کارکن ہوں۔ یعنی ایک آدمی Imran Khan جو پاکستان کا سب سے پاپولر لیڈر ہے، کروڑوں کے لوگ فالوور ہیں، اس کی ملاقات پہ پابندی۔ اب ایسے حالات بنائے جا رہے ہیں، کہ مائنس عمران خان۔
یہ جہاں سے بھی ہوگا، اگر خدانخواستہ، راجہ صاحب کی طرف سے ہوا، عمران خان کے خاندان کی طرف سے بھی ہوا یا سرکار اور فوج کی طرف سے ہو تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نہ صرف اس کی مذمت کرے گی بلکہ مزاحمت کرے گی۔
کسی کو یہ اختیار نہیں، لوگ چاہتے ہیں عمران خان کو، تم کون ہوتے ہو؟ یہ آپ نے پٹریاٹ بنا کے کیا کیا نتیجہ نکلا؟ اپ نے مسلم لیگ کو 15، 14 گروپوں میں تقسیم کیا نتیجہ کیا ہوا؟ خدا کے لئے عمران خان میرا نہ چچا ہے، نہ ماموں ہے، نہ خالہ زاد ہے، نہ میں اس کی پارٹی کا ہوں۔ لیکن پاکستان کے عوام اس کو سپورٹ کر رہے ہیں، Let him come! اور جتنی دیر اس کو جیل میں رکھو گے، یاد رکھو، یاد رکھو آپ لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو مارا وہ قلندر بن گیا۔
اب ذوالفقار علی کی قبر، اس کی بیٹی کی قبریں، اس کے بچوں کی قبریں حکمرانی کریں گی اس سارے علاقے پہ۔ اب یہ کام تم نے عمران سکیمش کے ساتھ کرنا ہے؟ خدا کو مانو رحم کرو اس ملک پہ۔ یہ ملک ہمارا ہے
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی مائنس عمران خان کرنے والوں کو وارننگ
مریم اور محسن نقوی کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں محسن نقوی کے لیے غالب کا شعر ہے لیکن میں پڑھوں گا نہیں: رانا ثناء اللہ
آپ کی بات ٹھیک ہے الیکٹڈ اور سلیکٹڈ کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن یہ الگ بات ہے مریم کو بھی لوگ سلیکٹڈ ہی سمجھتے ہیں ! محمد مالک۔
پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے لئے پاس کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیر دیں۔ چیف جسٹس نے اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں سیاستدانوں کو بلایا لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں ضابطہ اخلاق میں یہ کہا گیا ہے جج سیاستدانوں کے ساتھ نجی محفلوں میں شرکت نہیں کر سکتے نہ انہیں اپنے پاس بلا سکتے ہیں، مطیع اللہ جان
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں
اللہ تعالی بزرگ و برتر نے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ استغفار کرو۔
مختصر استغفار جیسے "استغفراللہ" کم از کم 1200 مرتبہ روزانہ ہونا چاہیے، یہ مجربات میں سے ہے اور زیادہ سے زیادہ 12000 مرتبہ یومیہ۔
حضرت مفتی صاحب رحمہ نے ایک مخصوص استغفار کے 4 فضائل بیان کئے ہیں؛
پہلی فضیلت: سمندر کے جاگ برابر گناہ معاف ہو،
دوسری فضیلت: درختوں کے پتوں کے برابر گناہ معاف ہو،
تیسری فضیلت: دنیا کے دنوں کے برابر گناہ معاف ہو،
چوتھی فضیلت: ریت کے ڈھیر برابر گناہ معاف ہو۔
استغفراللہ العظیم، الذی لا الہ الا ھو، الحی القیوم، واتوب الیہ
سورہ نوح میں فضائل استغفار میں مال اولاد سے پہلے کیوں بیان کیا گیا ہے، سنئے پورا بیان۔
شیخ التفسیر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللّٰہ
ابتدائی ایف ائی آرمیں سی سی ڈی کےاہلکارکی جانب سےفائرنگ کاکوئی ذکرنہیں تھا۔ تاہم بعدازاں عدالت میں پیش کیےگئےعبوری چالان میں فائرنگ کرنےوالے سی سی ڈی اہلکار کو ملزم ظاہر کیا گیا ہے۔
عبوری چالان میں بعدازاں کی گئی ترامیم متاثرہ خاندان کے کہنے پر کی گئی ہیں۔ https://t.co/DPQ3krlbQH
اسلام اباد کے پوش سیکٹر ایف 10 میں خواتین پر باثر ملزمان کا اہنی ہتھیاروں کے ساتھ تشدد۔ متاثرہ افراد کے مطابق تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او شفقت فیض خواتین کے میڈیکل کے باوجود مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہیں۔ متاثرین در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔۔ واقعہ 3 جون کو پیش آیا تھا