یہ ہے آفریدی کا برانڈ HopNotOut جس کے زریعے یہ کپڑے ، جوتے ، پرفیوم وغیرہ بیچتا ہے ۔۔۔۔۔
اسکے بزنس کا بائیکاٹ کرو اور ہر جگہ یہ پوسٹ پھیلاؤ ، کا��ی کرو ۔۔۔ اس منافق کو کچھ نہ کہو صرف اسکے بزنس کا بائیکاٹ کرو۔ ۔۔۔۔۔
انٹی جی بس کر دے افغان عورتوں کا پیچھا چھوڑ دے اور غزہ اور فلسطین پر بات کرو منافق عورت
افغان نہیں پڑھنا چاہتے لیکن زندہ تو ہیں نہ جو مر رہیں ہیں عورتیں اور بچے فلسطین اور کشمیر پر اس پر تمہارا یہ ٹھیڑھا منہ کیونکہ نہیں بولتا ؟ ڈرامے باز عورت
اس بار کسی مذہبی جماعت کا کوئی کارکن قربانی کی کھال لینے آئے تو اسے پوچھیے کہ تمہاری جماعت نے عدت کیس کے ذریعے شریعت محمدی پر حملے کیخلاف احتجاج کیا ؟؟
وہ کہے گا نہیں !
تو اسے اونچی آواز میں کہیے
یہاں سے دفع ہو جاؤ
اور کھالیں فلاحی تنظیموں کو دیجئیے
یا بیواؤں اور یتیموں کو دیجئیے
پنجاب کے معاملات نواز شریف اور مریم نواز چلاتے ہیں ،ایک ایس پی بیچارے کی کیا اوقات ہے ؟؟
تصویریں لگانی ہیں تو نواز شریف اور مریم نواز کی بھی لگائیں ،
اپنے بچوں کو بتائیں کہ اس خاندان نے ایک مسلمان کو حج پر جانے سے روکا ہے ،
شریف خاندان اقتدار کی خاطر جو کچھ کررہا ہے وہ سب اپنے آنے والی نسلوں کی یادداشت میں ڈال دیں تاکہ ان کی آنے والی نسلوں کی بھی سیاست ختم ہو جائے ،
اپنے علاقے کے علماء اور خطیبوں سے سوال کی��ئے کہ کسی مسلمان کو احرام میں گرفتار کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟پھر وہ کلپس سوشل میڈیا پر ڈالیں
اوورسیز پاکستانی بھی ویڈیو کلپس ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر لگائیں کہ جو کچھ ہوا ہے اس پر آپ کیا کہتے ہیں ؟؟؟
میرا یہ جملہ لکھ کر رکھ لیں کہ
جو کچھ اقتدار کی خاطر شریف خاندان کررہا ہے ،اس کی سیاسی قیمت ان کی آنے والی نسلیں بھی ادا کریں گی ،انشااللہ
اس خبر کو پورے پاکستان میں پھیلائے ۔۔۔🚨
یہ وہ گھر ہے جو عمران خان نے بنائے ہے سب کچھ دنوں کے بعد شہباز اور سائن نانی تختی لگانی کیلئے پہنچ رہی ہے اس سے پہلے آپ نے پورے پاکستان کو بتانا تاکہ ان کا منصوبہ فیک ہو جائے
"اس ملک کے منبر کے نام "
(کیوں کہ بات اب ووٹوں کی گنتی سے گر کر عورتوں کے پیڈوں کی گنتی تک پہنچ چکی ہے )
میری یہ ٹویٹ بشری عمران صاحبہ کی عدت سے متعلق ہے اور میرے مخاطب پاکستان کے تمام جید علماء کرام ہیں - میرا انداز بیان خلاف روایت ترش ہوسکتا ہے لیکن میرا مقصد اس روایت کی نفی ہے جو اگر خدا نخواستہ پڑ گئی تو اس مملکت خداداد میں کوئی بھی مطلقہ خاتون اپنے سابقہ شوہر کی ہراسانی سے محفوظ نہیں رہے گی -
محترم مفتی صاحبان اور علماء کرام !
@muftitaqiusmani , @MuniburRehman55@CentralHilal , @IlyasQadriZiaee, @ciigov, @Muftitm , @qibla1 , @MaulanaOkarvi@TariqJamilOFCL , @IbtisamElahiZ , @TahirAshrafi
ہم اس تاریخ کے امین ہیں جس میں امام احمد بن حنبل نے خلیفہ وقت مامون اور خلیفہ متعاصم کے قران سے متعلق ریاستی ڈاکٹرائن کو چیلنج کیا تھا اور اس کی پاداش میں بغداد کے زندان میں قید کاٹی تھی - ہم اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں علماء کے منبر کی اہمیت اکثر اوقات وزراء کی پارلیمنٹ اور منصف کی عدالت سے بھی زیادہ مستند سمجھی جاتی ہے - اسی تاریخ اور اسی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوے میں نے آپ سب کے ٹویٹر ہینڈلز کو ٹیگ کیا ہے اور ان پر موجود آپ کی حالیہ ٹویٹس سے اندازہ لگایا ہے کہ آپ سب حیات ہیں - لیکن اس قوم کو آپ کے زندہ ہونے پر شک ہے کیوں کہ آپ کی آواز سے آپ کی زندگی کے آثار واضح نہیں ہوتے اور بہت سے حساس مسائل پر آپ کی خاموشی نے قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے - ہم نے ہمیشہ آپ کو رمضان ' عید اور حج کے چاند دیکھنے جیسے معاملات پر بات کرتے دیکھا اور سنا ہے اور یہی ہمارا آپ سے پہلا اور سب سے مظبوط تعارف ہے - لیکن اب اس قوم کو آپ سے "چاند کی رویت " کے اعلان سے زیادہ کچھ بات کرنے کی امید اور ضرورت ہے -
1. کیونکہ اس وقت سیاست اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ سیٹوں کی گنتی اورووٹوں کی شماری سے شروع ہونے والی لڑائی عورتوں کی ماہ واریوں کی گنتی اور ان کے پیڈوں کی شماری تک جاپہنچی ہے -
2. کیونکہ نکاح کے پانچ سال بعد نکاح کو منسوخ کرنے اور سوالیہ نشان بنانے کیلئے اس مذھب کا استعمال کیا جارہا ہے جو ہمیشہ نکاح کی ترغیب دیتا ہے اور نکاح کی منسوخی کی بجاے اس کی بحالی کی گنجائش کو فوقیت دیتا ہے -
3. کیونکہ اس معاشرے میں جہاں ماہ صیا�� میں عورتیں ماہواری کی حالت میں چھپ کر کھانا پینا کرتی ہیں تاکہ گھر کے باقی لوگوں کو بھی ان کی تاریخوں کا علم نہ پڑے ' اس معاشرے میں عدت جیسے شرعی اور ذاتی نوعیت کے مسلے کو بنیاد بنا کر ایک باپردہ خاتون کی کی ماہواری کی مدت پبلک' میڈیا اور عدالتوں میں زیر بحث ہے -
4. کیونکہ ایسا موضوع جس پر خالصتا عورت کی گواہی کافی سمجھی گئی ہے' اس پر ریاست پراسیکیوٹر بنی ہوئی ہے اور یہ ایسا موضوع ہے جس کا ریاستی امور اور ملکی مسائل سے کوئی لینا دینا نہی ہے -
5. کیونکہ ایک باپردہ عورت اوراس کا شوہر اس وقت کسی کرپشن یا کسی چوری پر قید نہیں ہے بلکہ اس لئے قید ہے کہ ریاست نے اپنے آفس م��ں عورتوں کے ماہانہ " پیڈز" کی گنتی کا جو رجسٹر رکھا ہوا ہے اس کے مطابق گنتی آگے پیچھے ہورہی ہے اور وہ جس کا چہرہ بھی پس پردہ تھا ' اس کی ماہواری
کی تاریخوں پر عدالت سے لے کر میڈیا کے سٹوڈیو اور اخباروں سے لے کر سوشل میڈیا پر تبصرے ہورہے ہیں -
6. کیونکہ پوری اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی جب طلاق کے بعد عورت کی عدت اور تین ماہ واریاں پوری ہونے کا تعین خود وہ عورت نہیں بلکہ اس کا تعین طلاق کے پانچ سال بعد اس کا سابقہ شوہر یا ریاست کرے اور اس بنیاد پر اس کو اور اس کے نیے شوہر کو سات سال کی قید میں ڈال دیا جائے -
7. اس مسلے پر آپ سب کی مذمت آنا اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ اس معاشرے کی کہانی ہے جہاں خواتین پہلے ہی ایک کمزور ' مظلوم اور محروم طبقہ ہیں اور ایسے میں اگر عورت کی بجاے ریاست کی طرف سے اس کی ماہانہ سائیکلز کی شماری کی بنیاد پر ایک سابقہ خاتون اول کو سات سال سزا کی نظیر قائم ہوگئی تو اس بات کا خدشہ ہے کہ مستقبل میں ایسی نظیر کو بنیاد بنا کر کوئی بھی سابقہ شوہر اپنی مطلقہ سابقہ ب��وی کو طلاق کے کئی سال بعد بھی بلیک میل اور ہراس کر سکتا ہے اور ایسی بلیک میلنگ مطلقہ کی دوبارہ شادی کی راہ میں رکاوٹ کا موجب بن سکتی ہے - اس کے علاوہ اس مسلے سے باہر کی جدید دنیا میں اسلام کو لے کر غلط تاثر بھی جارہا ہے جو اسلام سے متعلق شکوک و شبہات کو ہوا دے سکتا ہے -
محترم صاحبان!
جیسے توہین مذھب پر آپ سب کا اجتماعی موقف آتا ہے' اقلیتوں کی حق تلفی پر آپ کی آواز سننے کو ملتی ہے ' دہشت گردی اور خود کش حملوں پر آپ کی راے میڈیا کی زینت بنتی ہے ویسے ہی اب توہین انسانیت اور توہین نسوانیت کے اس شرم سے عاری اور ضمیر پر بھاری کیس پراس قوم کو آپ کے موقف اور مذمت کا شدت سے انتظار ہے اور جیسے جیسے یہ انتظار لمبا ہورہا ہے تو عوام کا "امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر " کے آپ ہی کی سکھاے اور پرچار کئے ہویے درس پر سے اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے - عوام "چاند کی رویت اور سود کی حرمت " پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ شریعت کے مس یوز بلکہ ایبیوز پر بھی آپ کی بات سننا چاہتی ہے - ڈاکٹر یاسر قادھی سمیت دنیا بھر کے علماء اس کیس میں سیاسی ملاوٹ کی مذمت کر چکے ہیں تو خدا را ! آپ پاکستانی علماء بھی سامنے آئیں اور اس عوام کو بتایں کہ آپ سب حیات ہیں اور سیاست میں شریعت کے اس غلیظ استعمال پر سیخ پا ' رنجیدہ اور سراپا احتجاج ہیں اور اس کو غیر انسانی ' غیر اخلاقی اور غیر اسلامی قرار دیتے ہیں - آج اگر آپ نے کسی بھی مصلحت ' خوف یا ذاتی نسبت کی بنا پر یہی خاموشی تانے رکھی جو اس وقت طاری ہے تو آپ کا یہ سکوت نہ صرف اس بہتان اور ظلم کو تقویت بخشے گا بلکہ عوام کے منبر سے تعلق کو بھی کمزور کرنے کا موجب بنے گا اور اس تاثر کو اور بھی مظبوط کریگا کہ آپ سب اپنے کمفرٹ زون میں رہتے ہیں اور تنازعات پر بات کرتے ہوے "پک اینڈ چوز " کرتے ہیں -اور اگر روز روشن کی طرح عیاں اس تنازع پر آپ لوگوں کی زبان بندی کے پیچھے بھی ووہی ریاست کارفرما ہے جس نے یہ سارا تنازع کھڑا کیا ہے تو پھر مستقبل میں آپ کیسے کسی جمعے کے خطبے میں ہمیں یہ حدیث سنائینگے کہ
"تم میں سے جوشخص غلط کام دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
خدا رآ ! میرے اور اس عوام کے اس تاثر کو غلط ثابت کیجیے کہ
آپ جیسے جید علماء بھی بس اپنے کمفرٹ زون میں رہتے ہیں'
آواز اٹھاتے ہویے پک اینڈ چوز (Pick and Choose) کرتے ہیں'
اور آپ اس معاملے پر برائی کو بس دل میں ہی برا جان کر ایمان کے کمزور ترین درجے پر فائز ہیں -
العارض
"چاند دیکھنے سے لے کر اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھنے تک آپ کی طرف دیکھنے والے عام عوام"
#Donot_Misuse_IslamicFiqh
#JusticeForBushraBibi
---------------------------------------------------------
@soulful7867 @Maria_Memon @pasha_samina @MoeedNj @SaraMirGilgity @AzharSiddique @MashwaniAzhar @ImranRiazKhan @falakjavaidkhan @javerias @MrsImranRiaz @SHABAZGIL @noshigilani @Ahmad_Noorani @TheAdeelHabib @Mufti_Kakakhail @advshoaib66 @sherryrehman @NazBaloch_ @RaoofHasan @Hammad_Azhar @DurraniViews @iihtishamm @WajSKhan @samiabrahim @ImranRiazKhan @HamidMirPAK @asmaschaudhry @asmashirazi @YasirQadhi @GhamidiCIL @JavedGhamidi @AseefaBZ @drfaranahmad @MaleehaHashmey @Malala @MalBokhari @agentjay2009 @reema_omer
میں نے جب جب عمران خان کو “یہُودی ایجنٹ” کہا وہ فقط ایک سیاسی بیان تھا۔
مولانا فضل رحمان
مُنافقت کی حد اور دیدہ دلیری دیکھو کہ ایک عاشقِ رسول ﷺ کو یہودی ایجنٹ کہہ دیا۔ خُود کو پانچ لاکھ مُفتیوں کا سربراہ کہنے والے نے ایک مُسلمان پر اتنی بڑی تُہمت لگادی اور جب اقتدار ہاتھ سے کھو گیا تو اتنی بڑی بات کو ایک معمولی بیان کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
مذاق بنایا ہوا ہے اب مُلّاؤں نے اسلام کا۔ مذاق بنایا ہوا ہے اسلامی تعلیمات کا۔
وہ جو کہتا ہوں کہ مانا تمہیں لگتا ہے برا سا
علی امین خان بشری بی بی کو ملنے بنی گالا پہنچے۔ وہاں ملاقات کی اجازت بھی مل گئی۔ مشال بی بی کو مزید اہمیت ملے گی۔ کیونکہ مشال بی بی اس وقت بشری بی بی کی نئی نویلی فرح گوگی ہے۔
علی امین خان اپنے لیڈر کی اہلیہ سے ملاقات کرنے تو تب جائیں اگر علی امین خان اپنے صوبے کے تمام مسائل سے نبرد آزما ہوچکے۔ کامران مہمند کو آج ��ھی ایجنسیوں نے اغواء کررکھا ہے۔ علی امین خان اس کے گھر تو نہیں گئے۔ اسکی رہائی کی تو کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بشری بی بی کی جماعت تحریک انصاف میں حیثیت صفر ہے۔ کسی سیاسی فیصلے میں انکی مداخلت انتہائی غلط ہے۔ علی امین خان کا بشری بی بی کو ملنے جانا ان سے تفصیلا گفتگو کرنا عمران خان کی خوشامد اور چاپلوسی کا بلواسطہ طریقہ ہے۔
یہ وہ سسٹم ہے جو ہم نے توڑنا ہے۔ اگر بشری بی بی کو ، فوح گوگی کو ، اور اب مشال بی بی کو اپنی حیثیت سے زیادہ اہمیت کسی رشتہ داری یا کسی دوستی کی بدولت ملی ہے تو وہ غلط ہے۔ ایک وزیراعلی کا اغواء ہوتے کارکن چھوڑ کر وزیراعلی نامزد کرنے والے کی چاپلوس�� کرنا اسکی اہلیہ کی خوشامد کرنا بھی غلط ہے۔
عمران خان خدا نہیں ہے۔ علی امین خان بھی اس کا کوئی پیغمبر نہیں ہے۔ یہ ہمارے سیاسی رہنما اور ہمارے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر یہ جنگ ذاتی مفادات اختیار اور اقتدار کی جنگ بنے گی تو ہم اس پر بھی انگلی اٹھائیں گے۔
جب کامران مہمند ایجنسیوں کی تحویل میں ہے۔ خدا ��انے اس پر کس قدر خوفناک تشدد کیا جارہا ہوگا۔ تب علی امین خان کا بشری بی بی کی خوشامد کرنا ان سے ملاقات کرنا شرمناک ہے۔ ادارہ ہذا اس بے حیائی کی مذمت کرتا ہے!
اسلام آباد دھرنے 2014 میں صفائی کرتے ہوئے
علی عباس قریشی ، ندیم کاہلوں اور ان کی ٹیم کے ساتھ
کاش کہ پاسپورٹ ہوتا تو صوابی میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہوتا
خیر یہاں بیٹھ کر اپنے حصے کا کام کرتا رہوں گا 🙏
ان غریب لوگوں کو اس حالت تک پہنچانے میں ان عیاش حکمرانوں کا ہاتھ ہے، جنہوں نے نسل در نسل اس ملک پر حکمرانی کی اور عوام کے وسائل لوٹ کر بیرونی ممالک اثاثے بنائے ہیں۔ یہ مزدور جو ایک وقت کے کھانے پر اکتفاء کرتے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ دو لاکھ اسی ہزار کے مقروض ہیں۔