Thousands gathered in Rawalakot before marching towards Muzaffarabad as protests over governance and electoral reforms continued ahead of regional elections.
More than 45 people have been killed and hundreds injured since the unrest began in June.
"جس طرح آپ نے تحریکِ لبیک کے کارکنان اور اہلِ تشیع کا قتلِ عام کیا ہے، میرے نزدیک یہ سلسلہ اب مزید طویل نہیں ہو سکتا۔ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہ خود ہی مٹ جاتا ہے، اور اب اس ظالمانہ نظام کے خاتمے کے دن بھی قریب آ چکے ہیں۔
ان شاء اللہ، 5 اگست کو عمران خان صاحب کی غیر قانونی اور ناحق قید کے تین سال مکمل ہونے پر ہم ایک نئی تحریک کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ اس تحریک میں جہاں عمران خان کی رہائی کا مقدمہ سرِفہرست ہوگا، وہیں کشمیریوں کے حقوق کی آواز بھی بھرپور انداز میں اٹھائی جائے گی۔ ہم کشمیری عوام کو ان ظالموں کے رحم و کرم پر نہتا نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم ان کی جدوجہد اور حقوق کے حصول کی اس لڑائی میں مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ ان کے آئینی اور جمہوری حقوق کی اس جدوجہد میں ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
آج کشمیری عوام نے حالیہ انتخابات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یہ درحقیقت نام نہاد اقتدار کی محض ایک بندر بانٹ ہے۔ ہمیں پہلے دن سے اس بات کا بخوبی علم تھا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج پیپلز پارٹی کے حق میں کر دیے جائیں گے۔ جس طرح وہاں انتخابات منعقد کروائے گئے اور زور زبردستی کے ذریعے پاکستان تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا، الیکشن کے دن وہ سب پوری دنیا نے ملاحظہ کیا۔ آج اسی نام نہاد اقتدار کی خاطر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کشمیر میں ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے ہیں۔ یہ کس قسم کا اقتدار ہے جو کشمیریوں کے خون، ان کی اپنے وطن سے محبت، اور ان کے ساتھ غداری کی بنیاد پر قائم کیا جا رہا ہے؟
میرے نزدیک، اب فیصلہ سازوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ہمارا ملک اب مزید کسی انارکی اور افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے اور ترقی کی منازل طے کرنی ہیں تو، جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں، 'آئین کی بالادستی ہی وہ واحد راستہ ہے'۔ آئین ہی ریاست اور عوام کے درمیان اصل عمرانی معاہدہ ہے، جس کا موجودہ حکمرانوں نے حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم ان کی متعارف کردہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ، جس دن پاکستان میں خلقِ خدا کی حقیقی جمہوری حکومت قائم ہوگی، ہم پہلے ہی دن ان ترامیم کا صفایا کر دیں گے۔
میں آج آپ کے توسط سے اور 'تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان' کی پوری قیادت کی جانب سے کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کل محترم محمود خان اچکزئی صاحب کوئٹہ میں اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس کریں گے، اور ان شاء اللہ پرسوں وہ یہاں تشریف لائیں گے۔ ہمارا ارادہ دوبارہ کشمیر آنے کا ہے۔ ہم وہاں آ کر آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور آپ کو گلے لگائیں گے۔
ہمارے نزدیک آپ کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں بلکہ ہمارے سگے بھائی ہیں۔ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظلم کی ان تاریکیوں میں روشنی کے مینار روشن کیے ہیں۔ ایسے وقت میں جب پورے پاکستان میں خاموشی چھائی ہوئی ہے، آپ نے انقلاب، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا عَلم بلند کیا ہے۔ آپ سے بڑھ کر نہ کوئی سچا پاکستانی ہے اور نہ ہی کوئی محبِ وطن۔ ہم سب ان شاء اللہ آپ کی اس جدوجہد میں آپ کے ساتھ شریک ہوں گے اور اسے کامیابی کی منزل تک لے کر جائیں گے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان
اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
کشمیری عوام پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
طاقت کے نشے میں مدہوش قوتوں کی اپنی ہی نہتی عوام پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
آج کشمیر کاز کو دفن کیا جا رہا ہے۔حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔ مولانا فضل الرحمان
کیا عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں ؟ مولانا فضل الرحمان
ہم نے کوشش کی کہ معاملہ یہاں تک نہ پہنچے لیکن ریاستی اداروں نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ مولانا فضل الرحمان
آج کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کردیئے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہے گا ۔مولانا فضل الرحمان
ریاست فوری طور پر ظلم بند کرے ،عوام کو جائز احتجاج کا حق دیا جائے ۔مولانا فضل الرحمان
اس ظلم وبربریت کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگوہیں اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
راولاکوٹ سے ہمیں نہایت تشویشناک خبریں مل رہی ہیں جس کے مطابق ابھی تک نہتے مظاہرین پر فائر کھولنے سے 10 اور شہادتوں کی اطلاعات ہیں۔ ابھی بھی پر امن مظاہرین پر ریاستی طاقت کا اندھا دھند استعمال جاری ہے۔ ان بے ضمیروں نے وہاں مکمل بلیک آؤٹ کر رکھا ہے اور ملکی میڈیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وہاں روم جل رہا ہے اور یہاں نیرو بانسری بجا رہا ہے۔ یہ ظالم طاقت کے اس بے دریغ استعمال کو نیا نارمل بنا رہے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سیاسی مظاہروں میں مجموعی طور پر 44 کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ ریاست کی طرف سے یہ تازہ قتل و غارت گری ان حالات میں ہو رہی ہے جب کشمیری اپنے جائز آئینی اور قانونی حقوق کے لئے سراپا احتجاج ہیں اور یہ انتخابات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں جس سے کشمیری عوام سرے سے لا تعلق ہیں اور پولنگ اسٹیشنز پر ان کو 6، 7 ووٹس پڑ رہے ہیں۔
اسلام آباد کے حکمران اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہیں جبکہ کشمیر کو انہوں نے اپنے تماشے کے لئے آگ میں جھونک دیا ہے۔ ان کو خوب علم ہے کہ ایکشن کمیٹی نے پہلے سے لانگ مارچ کی کال دی ہے جو وہ موخر کرتے جا رہے ہیں مگر یہ مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھا رہے بلکہ الٹا کمیٹی کے جدوجہد کو بے اثر اور ان کی عوامی طاقت کو زائل کرنے کے لئے کبھی کمیٹی کے اراکین کو راء کے ایجنٹ اور غدار کہہ رہے ہیں تو کبھی مغرب کے سپانسرڈ تحریک۔
سچ یہ ہے کہ ان کو یہ فکر ستا رہی ہے کہ یہ نہتے غریب لوگ آخر ان سے ڈر کیو نہیں رہے اور ہمارے سامنے سرنگوں کیو نہیں ہو رہے۔ ہم اس بربریت سے خود کو علیحدہ کر رہے ہیں اور ان کی عقل و فہم پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس قتل عام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم اس ملک کے انسان دوست اور امن پسند عوام اور سیاسی قوتوں سے اس جبر کو روکنے کی اپیل کرتے ہیں۔
بھائی کی شہادت کے بعد عمر نزیر کشمیری منظر عام پر لانگ مارچ کسی صورت نہیں رکے گا ہم اگے بڑھیں گے انشاءاللہ اپنے شہداء کے خون کا حساب لیں گے
عمر نظیر کشمیری
کشمیر میں بہت غلط ہو رہا ہے، غلط ہو چکا ہے، کشمیر لہولہان ہو گیا ہے، متعدد لوگ شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، ہمارے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے، ہم بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں، ہم بلنڈر کر رہے ہیں، ہم تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو مصلحت کا سانپ سونگھ گیا ہے، پچھتاوا کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا، بہت دیر ہو چکی ہے، باشعور لوگ آگے بڑھیں شاید کچھ بہتری آئے، وہ جو کشمیر میں جا کے کشمیری ہونے کا دعوٰی کر رہے تھے وہ کدھر ہیں آج؟
ہم اپنا مقدمہ اس دن پہ چھوڑ دیتے ہیں جب یہ صدا گونجے گی۔۔۔۔
لمن الملک الیوم
تب تلک تمہارا راج سہی۔۔۔ ہم جانیں دیں گے لیکن غلامی قبول نہیں
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اتراؤ آئینہ ہمارا ہے
آپ کی غلامی کا بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا فیصلہ ہمارا ہے
جو لوگ کہتے تھے کہ یہ دوسروں کے بچوں کو آگے کرتے ہیں، آج حقیقت سب کے سامنے ہے۔ممبر کور کمیٹی سردار عمر نذیر کشمیری کا حقیقی بھائی عثمان نزیر وطن پے قربان ہو گیا ہے۔اللہ پاک جنتوں کا مہمان بناے💔😢
اس وقت راولاکوٹ سے انتہائی تشویشناک خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں درجن کے قریب افراد کی شہادت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یاد رہے کہ دریک دھرنے کے شرکاء نے آج مظفرآباد کی جانب مارچ کرنا تھا۔ جونہی وہ دریک گراؤنڈ سے نکل کر راولاکوٹ شہر کی طرف بڑھے، اطلاعات کے مطابق تین اطراف سے ان پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔
اس وقت وہاں کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ راولاکوٹ کی مساجد سے کفن پہنچانے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔
راولاکوٹ سے آنے والی ویڈیوز دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ آخر کشمیر کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے؟