Do you have an online source of income with your physical job?
Let's it be X by just appreciation the people on X.👉🏻Have a Super Support by Supporting me!
آج بہاولپور کے تاریخی دراوری گیٹ چوک سے گزرتے ہوئے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ اللہ گواہ ہے، آج کافی عرصے بعد کسی کی بے بسی دیکھ کر میری اپنی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔
ایک بزرگ انکل اپنی چھوٹی سی ریڑھی کے پاس سر جھکائے، سر پر رومال رکھے، خاموش کھڑے تھے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں اور چہرے پر ایسا درد تھا جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید ان کا کوئی ذاتی مسئلہ ہوگا، اس لیے بغیر کچھ پوچھے آگے بڑھ گیا۔ لیکن چند قدم چلنے کے بعد دل نے بار بار کہا کہ واپس جاؤ، شاید یہ شخص کسی کے دو بول سننے کا منتظر ہے۔
میں فوراً واپس آیا، سلام کیا اور ادب سے پوچھا:
“انکل جی! خیریت ہے؟ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟”
پہلے تو انکل خاموش رہے، پھر اچانک ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔
بہت مشکل سے انہوں نے اپنی بات شروع کی۔
انہوں نے کہا:
“بیٹا! میں کرائے کے گھر میں رہتا ہوں۔ کئی سالوں سے سموسے اور پکوڑے بیچ رہا ہوں۔ پہلے حالات کچھ بہتر تھے، لیکن اب مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔ لوگ 20، 30، 50 یا 60 روپے کی چیز لے کر چلے جاتے ہیں۔ اس کمائی سے نہ گھر کا کرایہ پورا ہوتا ہے، نہ بجلی کا بل، نہ راشن، نہ دو وقت کی روٹی۔”
یہ کہتے ہوئے انکل پھر رونے لگے۔
انہوں نے مزید بتایا:
“بیٹا! اتنی شدید گرمی میں بھی میری ریڑھی پر ایک پنکھا تک نہیں لگا۔ سارا دن دھوپ میں کھڑا رہتا ہوں۔ نہ اوپر سایہ ہے، نہ کوئی سہولت۔ پسینہ مسلسل بہتا رہتا ہے، لیکن مجبوری ہے، محنت کیے بغیر گھر نہیں چل سکتا۔”
اللہ کی قسم، یہ الفاظ سن کر دل ٹوٹ گیا۔
یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، بھیک نہیں مانگتے، صرف اپنی محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر جب حالات حد سے بڑھ جائیں تو آنسو خود بخود نکل آتے ہیں۔
میں نے انکل سے کہا:
“آپ ہمت نہ ہاریں، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کارساز ہے۔ ان شاء اللہ آپ کی آواز لوگوں تک پہنچے گی اور اللہ اپنے بندوں کے ذریعے ضرور مدد فرمائے گا۔”
آج میں بہاولپور کے تمام بھائیوں، بہنوں اور ہر صاحبِ استطاعت انسان سے دل کی گہرائی سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ کبھی دراوری گیٹ چوک سے گزریں تو چند منٹ ضرور نکالیں اور انکل کی ریڑھی پر رکیں۔ چاہے آپ کو سموسے یا پکوڑے کھانے کا شوق نہ بھی ہو، پھر بھی ان سے کچھ ضرور خرید لیں۔ یقین کریں، آپ کے چند سو روپے بھی ان کے لیے بہت بڑی مدد ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک ضروری بات:
کئی دوست یقیناً انکل کا اکاؤنٹ نمبر یا ایزی پیسہ / جاز کیش پوچھیں گے، لیکن انکل کے پاس نہ بینک اکاؤنٹ ہے، نہ ایزی پیسہ، نہ جاز کیش۔ اس لیے اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم خود جا کر انکل سے ملیں، ان سے چیزیں خریدیں یا نقد مدد کریں۔
رابطے کے لیے انکل کا موبائل نمبر:
📞 (03258391906)
براہِ کرم صرف رابطے کے لیے کال کریں، کیونکہ اس نمبر پر کوئی بینک، ایزی پیسہ یا جاز کیش اکاؤنٹ موجود نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر محنت کرنے والے کے رزق میں برکت عطا فرمائے، انکل کی پریشانیاں آسان فرمائے اور ہمیں ایسے سفید پوش لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
🤲 میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ انکل کی محنت رنگ لائے، ان کی ریڑھی پر گاہک آئیں اور ان کے گھر کا چولہا عزت کے ساتھ جلتا رہے۔ شاید آپ کی ایک شیئر اور ایک چھوٹی سی مدد کسی مجبور انسان کی زندگی میں بڑی آسانی لے آئے۔
یہ #منقول پوسٹ صرف ایک غریب ضرورت مند کی مدد کے لئے ہے
🙏🏼🙏🏼🙏🏼
خارجہ پالیسی
ایک اُلو کی ایک طوطے کے ساتھ بڑی یاری تھی، ایک روز اُلو طوطے کے ہاں مہمان ہوا۔ طوطے نے اس کی آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا، لیکن کھانے کو نہ پوچھا۔ اُلو کافی دیر تک صبر سے کام لیتا رہا۔ بالآخر اس نے تمام آداب بالائے طاق رکھے اور کہا : " مجھے سخت بھوک لگی ہے کھانا کھلاؤ۔ " طوطے نے یہ سنا تو سامنے والے درخت کی طرف اڈاری ماری جہاں ایک مینا بیٹھی تھی اور کافی دیر تک سر جوڑے اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ پھر واپس اپنے درخت پر آیا اور اُلوسے دوبارہ میٹھی میٹھی باتیں شروع کر دیں۔ اُلو نے کچھ دیر ضبط سے کام لیا، بالآخر اس نے ایک بار پھر کہا : " مجھے سخت بھوک لگی ہے، میرے لیے روٹی کا بندوبست کرو۔ " طوطے نے یہ سنا تو اڈاری مار کر ایک دوسرے درخت پر پہنچ گیا، جہاں ایک چڑیا بیٹھی تھی اور اس کے کان میں کچھ باتیں کرنے کے بعد واپس اپنے درخت پر آ گیا۔
بھوک سے قریب المرگ اُلونے تیسری دفعہ اسے کھانے کی یاد دہانی کرائی، تو طوطا ایک کوئے کے ساتھ مصروف گفتگو ہو گیا اور کچھ دیر بعد واپس اپنے درخت پر آکر دوبارہ اُلو سے پیار محبت کی باتیں کرنے لگا۔ اُلو میں اب مزید فاقہ کشی کی ہمت نہ تھی۔ اس نے طوطے کو مخاطب کر کے کہا : " تم اگر مجھے روٹی نہیں کھلا سکتے ؛تو میں چلتا ہوں !طوطے نے یہ سن کر ایک چوتھے درخت کی طرف اڈاری مارنے کے لیے اپنے پر پھیلائے اور اُلوکو خفگی سے دیکھتے ہوئے کہا :"ارےاُلو!،میری خارجہ پالیسی دیکھو،روٹی پر لعنت بھیجو"۔
(عطا الحق قاسمی )
شوکت نواز میر کی گرفتاری کی ویڈیو جاری!!
شوکت نواز میر کو فوج نے گرفتار کیا ہے, ویڈیو کی دیکھا جاسکتا ہے!!
یاد رکھنا یہ مناظر آنے والے وقتوں کی لکھا جائیگا, کشمیر کی علیحدگی تحریک کے وجوہات میں سے ایک وجہ تھی!!
اس نوجوان کا نام اسا*مہ ہے اور والد کا نام میاں خان ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ سال2005 میں گھر سے چیز لینے نکلا تھا۔ دور کہیں نکل کر بھٹک گیا تھا تو لاوارث پاکر مجھے کسی نے اسلام آباد کے ایک شیلٹر میں جمع کروادیا تھا۔
اسا*مہ کا کہنا ہے کہ میری دھندلی یادوں کے مطابق ہم شاید راولپنڈی میں رہتے تھے۔گھر کے پاس کوئی کالج یا اسکول تھا۔
اسامہ کو والد میاں خان ، والدہ یاسمین اور ایک بھائی حسیب کا نام یاد ہے۔
فائل کے مطابق دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔
اسامہ جب پہلی بار ہم سے ملنے آیا تھا تو تقریبا دس منٹ تک سسکیاں لیکر روتا رہا بات نہیں ہوپارہی تھی۔ بہت تنہا اور بے یار و مددگار ہے۔
ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور وہی راتیں گزارتا ہے۔ کبھی عید پر یا کسی خوشی غمی پر کہیں جانا نہیں ہوا۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اسا*مہ کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ آپکا ایک شئیر اس کو تنہائی والی زندگی سے نکال کر ماں باپ سے ملواسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
2 july 2026
#waliullahmaroof #Rawalpindi #islamabad #MissingChild
ذیشان ارشد شیخوپورہ میں ملازمت کرتا تھا اور حق حلال کی روزی کماتا تھا ستھرا پنجاب منصوبے میں خدمات انجام دیتا تھا چالیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اسے صرف انیس ہزار روپے ادا کیے جاتے تھے اس دور میں جب ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والا بھی مشکل سے اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرتا ہے وہ شخص انیس ہزار روپے میں اپنے گھر کا نظام چلا رہا تھا
تنگ دستی اور مجبوری کے عالم میں اس نے سلمہ بٹ صاحبہ سے فریاد کی اور کہا کہ میرا مسئلہ حل کروا دیجیے مگر غرور اور فرعونیت کے خول میں بیٹھی ہوئی مخصوص نشست پر آنے والی سلمہ بٹ نے یہ کہہ کر اسے باہر نکال دینے کا حکم دیا کہ اسے یہاں سے لے جاؤ اور اس کی ایک نہ سنی گئی
وہاں موجود لوگوں نے اس منظر کی ویڈیو بنا لی اور پھر پولیس نے بھی اسے دفتر سے باہر نکال دیا
نہ جانے اس کے گھر پر کیا قیامت گزری ہوگی جب وہ اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے سے عاجز رہا ہوگا
ایک باپ جیتے جی اس وقت مر جاتا ہے جب اس کا بچہ اس سے کوئی خواہش کرے اور وہ بے بسی کے باعث اسے پورا نہ کر سکے
اس کے بعد اس شخص نے اسی دفتر میں جہاں وہ ملازمت کرتا تھا اپنے آپ کو آگ لگا لی
ان سب حالات کا سہرا صرف اور صرف مریم نواز صاحبہ کی اس منصوبہ بندی کے سر جاتا ہے جس کے نتیجے میں ستھرا پنجاب منصوبے کے محنت کش کارکن اپنی حق حلال کی کمائی سے بھی محروم ہیں
@ShafiJanPTI Pta nh ku aisa lgta apni pic de k, hr line k end pr apna name likh k lgta hai tasour qaim ho jata hai k
"Ap apni projection kr rahy!?!?"
Esko zail kry muhtaram
Entehai qabil hai ap
آخر یہ چل کیا رہا ہے ۔ جیو ٹی وی کا کوئی ڈرامہ ہے ضبط نام سے ۔ اس میں بھی ایکٹرس اسلامیات کی کتاب اٹھاکر پھینک رہی ہے جس پر مسجد نبویﷺ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
ڈرامے کا پورا سیٹ پلاننگ سے تیار کیا جاتا ہے ۔ اب یہ تو نادانستہ یا غیر ارادی نہیں ہوسکتا۔
CCD والے لوگوں کو قتل کر کے ان کے اعضاء نکال کر بیچ رہے ہیں
ابھی انہوں نے پانچ لوگوں کو قتل کیا جن کی عمریں پچیس سے سترہ سال تھیں سب کی چیر پھاڑ کر کے انسانی اعضاء نکالے گئے تھے
آفتاب باجوہ
بریکنگ نیوز 🚨بس بہت ہوگیا۔ کشمیری رہنما ڈاکٹر بہار شاہ کا اعلان 🔥🔥
ہمیں مجبور کردیا گیا ہے اب ہم سخت فیصلے کرنے جارہے ہیں۔ انکو گریبانوں سے پکڑ ماریں گے۔ یہ ہوتے کون ہیں ہم کشمیریوں پر حکومت کرنے والے۔
مقدموں کا ایک انبار بنا ہوا تھا، تین سو سے زائد کیسز تھے۔ عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا کہ میں اس سکور کو چیس کروں گا۔ انہوں نے اپنی قانونی ٹیم میدان میں اتاری اور انہیں impossible task دیا کہ 300 مقدمے لڑو۔ ہم نے 300 مقدمے لڑے اور جیت بھی لیے۔ اب اگر ایمپائر میں مسئلہ ہے اور آخری وکٹ نہیں گر رہی تو اتنا کریڈٹ تو دے دیں کہ انہوں نے 300 کیسز لڑ کر ثابت کیا کہ یہ تمام کیسز جھوٹے، بے بنیاد، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی تھے۔
بیرسٹر سلمان صفدر
ہمیں کیوں مجبور کر رہے ہو؟ اپنے لوگوں کو کیوں مجبور کر رہے ہو؟
یہ آپ کا فلسفہ ہمیں نہیں لگتا۔
▪️آپ الیکشنوں کی منڈی لگائیں گے،
▪️الیکشن بیچیں گے،
▪️اسمبلیاں بیچیں گے،
اس کو آپ نہ غداری سمجھتے ہیں نہ برا کام سمجھتے ہیں؟
⛔️ اور جو اس کام کو روکتے ہیں ان کو آپ غدار کہتے ہیں۔ دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا؟
⛔️ جو لوگ اسمبلیاں بیچتے ہیں، وہ پاکستان کے ہیروز ہیں؟
#ReleaseImranKhan
عمران خان کی طاقت سوشل میڈیا ہے
مگر
جون 2026 میں سوشل میڈیا پر عمران خان کا ذکر تمام پلیٹ فارمز پر مئی 2026 کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا ہے
یہ وہ ٹارگٹ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان کو تین سال سے صوتی و بصری طور پر غائب کرنے کا مقصد ہے
سوشل میڈیا: یہ آپ کیلئے سوچنے کا مقام ھے
🤔
یہ کہتے ہیں ہم نے مشرف کو للکارا، اس کو للکارا اس کو للکارا
اب باقیوں کو چھوڑو صرف فیصل واڈا کو ہی للکار کر دکھا دو
علی امتیاز وڑائچ نے اردلیوں کی دم ہو پاؤں رکھ دیا 🔥🔥
ایک دن عمران خان نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے کہا شہباز اگر تم حق پر ہو تو تمہیں فلاح ملے گی اگر تم حق پر نہیں ہو تمہیں عزت نہیں ملے گی اگر حق پر ہو تو ڈٹ جاؤ ایک دن تمہارا ڈنکا بجے گا۰
ڈاکٹر شہباز گل
چکوال کے دوست انور بی بی کا خاندان تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔!!
انور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دس سال کی تھی جب گھر سے بچھڑ گئی تھی۔چکوال سے کراچی مومن آباد شفٹ ہوئے تھے۔ والدہ فوت ہوئی تھی۔بہن بھائی چھوٹے تھے۔کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کےپاس رہتی تھی۔ بھائی کی ڈانٹ سے ڈر کر میں گھر سے نکل کر ٹرین اسٹیشن پہنچ گئی کہ وہاں سے گاوں جاکر پھوپھی کے پاس رہونگی, پھوپھی بہت پیار کرتی تھی۔
لیکن ٹرین نکل گئی تھی اور لوگوں نے کمسنی کی وجہ سے روک لیا کہ غلط ہاتھوں میں چلی جائےگی۔
مجھے پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے مجھے گھر بھیجنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ بھائی مجھے مارےگا دل میں بھائی کا خوف تھا۔
پولیس نے عارضی طور پر ایک شیلٹر جانے کا کہا میں وہاں جمع ہوگئی۔
تین سال بعد میں شیلٹر سے کسی طرح نکل گئی ایک فیملی نے مجھے رکھ لیا، میری شادی کروادی۔
ابھی میرے بچے ہیں۔شوہر چھوڑ چکا ہے۔
مجھے میرے بھائی اور بہن بہت یاد آتے ہیں۔خدارا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
انور بی بی کے والد کا نام غلام رسول ہے،والدہ فاطمہ فوت ہوچکی تھی۔
بھائیوں کے نام عاشق حسین،ساجد حسین،اور عابد حسین اور ایک بہن سمیرا کے نام یاد ہیں۔
دادے کا نام کرم الہی اور چچا نذیر دوسرا حاجی فیض رسول۔
ایڈریس:چکوال،چوا سیدن شاہ، گاؤں ڈنڈوٹ ۔
سال 1997 میں کراچی میں اپنے گھر سے نکلی تھی۔
انور بی بی کی داستان مکمل ہم لکھنے سے فیصل الحال قاصر ہیں۔اللہ کسی دشمن کو بھی اس طرح کے دن نا دکھائے۔
آپ نے اگر کسی بے بس اور مظلوم انسان کی دعا لیکر اپنا بیڑا پار کروانا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اسکے اپنے مل گئے اور وہ ایکسپٹ کرنے کو تیار ہوجائیں تو بہت ساری دعائیں آپکے حق میں کرےگی جو ان شاءاللہ رد نہیں ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof