From Dr. Syed Kaleem Imam, a former senior police officer who served in Balochistan:
“The operation against Nawab Akbar Bugti became another turning point. Whether one agreed with him or not, he was an aging tribal leader whose political influence was already fading. His death, however, united many who had previously been divided. What followed was an approach that relied more on force than on rebuilding political trust and genuine local institutions.
Nearly two decades later, Pakistan must ask itself an uncomfortable question: if a security-centric strategy has not delivered lasting peace, why do we continue to rely on it instead of pursuing a politically inclusive strategy built on the rule of law, legitimate local leadership and public conviction?”
https://t.co/QGyu4AqPwi
INDIAN WEB SERIES
The most intelligent - Sacred Games
The most traumatic - Delhi Crime
The most overrated - Mirzapur
The most emotional - Gullak
The most comfortable to watch - Panchayat
The most controversial - Tandav
The most epic - Scam 1992
The most ruined by Reels/Shorts - Mirzapur
The most tense - Asur
The most fake about adolescence - Class
The most elegant - Jubilee
The most memeable - Sacred Games
The most uncomfortable - House of Secrets: The Burari Deaths
The one that declined the most over time - The Family Ma The most underrated - CAT
The most perfect from start to finish - Scam 1992: The Harshad Mehta Story
The slowest but brilliant - Kohrra
The one that defined a generation - Pitchers
“What is happening in Pakistan is very fascistic.”
@mehdirhasan answers a question about Imran Khan and the future of democracy in Pakistan during a live discussion with Arwa Mahdawi in London.
Subscribe to https://t.co/cgVGXcKZ97
A concise and excellent article explaining Pakistan's economy (and governance).
Bottom Line: Our military and civil elite masters view us as insects and this country as a caravan to be looted. They arent stupid. They are robbers.
https://t.co/Z8Yw1qb7MN
یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے
* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -
ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -
سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -
زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*
پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔
*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔*
بل کےمتن میں شامل الفاظ کےحوالےسےجن تبدیلیوں کی ضرورت ہےوہ ضرور کی جائیں گی ۔ 5 کروڑ تک کا جرمانہ اُسی صورت میں عائد ہو گا کہ جب باہمی رضامندی سے معاہدہ ہونے کے بعد زمین یاجائیداد کے مالک کی جانب سے خلاف ورزی کی جائے گی،وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ
पूरे 5 मिनट तक ट्रम्प ने मोदी को नजरंदाज किया - जबकि मोदी उनके आगे पीछे मंडराते रहे
फोटो खिंचवाने के बाद कमरे में मोदी ख़ुद आगे बढ़कर ट्रंप से मिलने गए
3 भारतीयों की क्रूर हत्या करने के बाद अमेरिका चौड़ा बना चल रहा है
और हमारे वाले भीगी बिल्ली बने हुए हैं
The next India–Pakistan crisis will not be a bilateral contest in the old sense, because China will shape it before the first shot is fired and after the first response is made. The collaboration between China and Pakistan functions as a military alliance during crises. If Pakistan can rely on Chinese platforms, Chinese technical help, Chinese battlefield awareness and Chinese supply chains, then it enters the crisis with more resilience than its own size would suggest.
@SushantSin writes: https://t.co/i3pVS8VdmL
In my column I argue that there is essentially no difference between Islamic and conventional banking. Both charge you fixed interest without risk-sharing. Arabic names for loan products doesn’t make you Islamic. https://t.co/2TjpM0k2UG
In this article Narges Bajoghli and I argue that the war has brought about a generational change in Iran’s leadership, bringing to the fore men with different experiences and outlook on state, society and foreign policy. This new generation is now confident that it ways has won significant strategic wins which it intends to translate not only into a new regional order but also a new domestic order and social contract with the population.
The scale of the war and it took for Iran to survive it and fore the U.S. into a stalemate has also changed Iranian society in profound way. Social grievances remain but will express themselves in this new context. We explain why pre-war ways of understanding Iran don't explain it anymore.
“The emergent Islamic Republic will remain highly authoritarian. But the categories that Western analysts have often used to describe the Islamic Republic’s various factions—hard-liner versus moderates, ideologues versus reformists—will be less accurate than ever. The new Islamic Republic’s priorities, and how it pursues them, will be shaped by the specific experiences of its two wars with the United States and Israel: the losses Iran sustained, the confidence its leadership gained, and the new social contract the fighting has made necessary and possible.”
https://t.co/RATaDcKLBK
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور پچاس ویں امام، "پرنس شاہ رحیم آغا خان"، اس وقت پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا استقبال کسی ملک کے صدر یا وزیرِ اعظم کی طرح ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر اور 21 توپوں کی سلامتی جیسے روایتی شاہی پروٹوکول سے کیا گیا ہے۔
صرف پاکستان میں ہی ایسا نہیں ہوا، دنیا کے اکثر ممالک انہیں "سربراہِ مملکت" (Head of State) کے برابر پروٹوکول اور سفارتی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) دیا جاتا ہے۔
یہاں سوال جنم لیتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس کے پاس کوئی خطہِ زمین ہے نہ کوئی اپنی فوج، وہ عالمی سیاست مین کوئی کردار رکھتی ہے، وہ اس مقام تک کیسے پہنچی؟؟
اس راز کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے بند پَردوں کو ہٹا کر اس داستان کے تانے بانے دیکھنا ہوں گے۔
اسماعیلی، اہل تشیع کی ایک اہم شاخ ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی میں چھٹے امام، حضرت جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیل بن جعفر کی پیروی کرنے والے "اسماعیلی" کہلائے۔ تاریخ میں ان کا سب سے سنہری دور "خلافتِ فاطمیہ" تھا، جس نے مصر، شمالی افریقہ اور شام پر صدیوں تک حکومت کی اور قاہرہ کی مشہورِ زمانہ "الجامعۃ الازہر" کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی۔ اس حکومت کا خاتمہ صلاح الدین ایوبی ک ہاتھوں ہوا تھا۔
بعد میں یہ ایران منتقل ہو گئے، صفوی دور حکومت میں معتوب رہے، اور صدیوں بعد، انیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان ایران کے شاہی دربار سے وابستہ ہوا۔ 1818ء میں ایران کے "قاجار بادشاہ"، فتح علی شاہ نے اسماعیلیوں کے 46 ویں امام، حسن علی شاہ کو اپنا دماد بنایا اور پہلی بار "آغا خان" کا شاہی لقب دیا۔
لیکن یہ تعلقات جلد ہی ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تنازع کی نذر ہو گئے۔ ایران کی قاجار حکومت اور آغا خان اول کے درمیان جھگڑے کی اصل بنیاد انکے برطانوی سلطنت (انگریزوں) کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات بنے۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی سلطنت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا رہی تھی اور ایران اس نوآبادیاتی طاقت کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔
آغا خان اول کے انگریزوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے قاجار دربار میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے، جس کے نتیجے میں اختلافات اتنے بڑھے کہ مسلح تصادم کی نوبت آ گئی۔ ایران میں اپنے سیاسی حریفوں سے شکست کھانے کے بعد آغا خان اول کو 1840ء کی دہائی میں ایران چھوڑ کر افغانستان اور پھر وہاں سے برطانوی ہندوستان ہجرت کرنی پڑی، یہ وہ دور تھا جب انگریز ہندوستان پر اپنے پاؤں جما رہا تھا اور اسے سندھ اور سرحد (کے پی کے) میں وفاداروں کی ضرورت تھی۔ آغا خان اول نے برطانوی افواج کی فوجی اور سیاسی مدد کی، جس کے بدلے انگریز حکومت نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ "ہز ہائینس" (His Highness) کا شاہی خطاب دے کر بمبئی (موجودہ ممبئی) میں مستقل طور پر آباد کر دیا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان انگریزوں کی سرپرستی میں برصغیر کے مسلمانوں کا بااثر رہنما بن کر ابھرا۔ سرسید کی تعلیمی مہم میں آغا خان سوئم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں کے قیام میں کردار ادا کیا۔ آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ) کو 1906ء میں قائم ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیگ" کا پہلا مستقل صدر بنایا گیا۔ شملہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وائسرائے سے ملاقات کی۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی میں پیش پیش رہے۔ چونکہ وہ انگریزوں کے بہت قریبی اور معتمد تھے، اس لیے انہیں عالمی سطح پر برطانوی راج کی سرپرستی حاصل رہی۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد، جب خلافتِ عثمانیہ اور ینگ ترکس کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، تو انہی آغا خان سوئم نے ینگ ترکس (Young Turks) کے نمائندے اور ترکی کے وزیرِ اعظم عصمت انونو کو خط لکھ کر "خلافت کو برقرار رکھنے" کی اپیل کی۔ "مصطفیٰ کمال" (اتاترک) نے آغا خان کے انگریزوں کے ساتھ گہرے روابط کی بنیاد پر وجہ سے اس خط کو "برطانوی سازش" اور "ترکی اندرونی معاملات" میں مستقل مداخلت کی راہ قرار دیا، اور پھر اسی خط کو بہانہ بنا کر مارچ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کر دیا۔ موقف اختیار کیا کہ جب تک خلاف کا دارہ قائم رہے گا برطانوی ایجنٹوں کی مداخلت ختم نہیں ہو سکے گی۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اس خاندان نے اپنی رہائش اور سرمائے کا رخ برصغیر اور برطانیہ سے موڑ کر فرانس کی طرف کرنا شروع کر دیا۔ برطانیہ کے بجائے فرانس کو اپنا مستقل مسکن بنانے کے پیچھے گہری سٹریٹجک اور ذاتی وجوہات تھیں۔ برطانیہ اس وقت ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت تھا اور وہاں رہ کر کام کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ آغا خان خاندان دنیا بھر میں موجود اپنے مریدین (جو مختلف نوآبادیات میں پھیلے ہوئے تھے) کی نظر میں برطانوی پالیسیوں کا رنگ الیکٹڈ نظر آتا۔
فرانس نے انہیں ایک ایسا "غیر جانبدار" اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے وہ کسی ایک سیاسی بلاک کا حصہ بنے بغیر اپنے عالمی نیٹ ورک کو چلا سکتے تھے۔ مزید برآں، فرانس کا ماحول، وہاں کی اشرافیہ کا طرزِ زندگی اور پیرس کی عالمی سفارتی مرکزیت اس خاندان کے عالمی وژن کے عین مطابق تھی، جس کے لیے یہ خاندان منتقل طور پر فرانس منتقل ہوگیا۔ پیرس کے مضافات "ایگلیمو اسٹیٹ" (Aiglemont estate) میں ان کا مستقل ہیڈکوارٹر اور عالیشان شاہی محل قائم ہوا۔
یہیں سے مغرب اور خاص طور پر فرانس کا وہ دوہرا معیار اور منافقت کھل کر سامنے آتی ہے جو موجودہ عالمی نظام کا خاصہ ہے۔ فرانسیسی حکومت اپنی سخت ترین سیکولر پالیسیوں (Laïcité) کے تحت عام مسلم تارکینِ وطن، پناہ گزینوں اور غریب مسلمانوں کے خلاف انتہائی سخت قوانین نافذ کرتی ہے۔ وہاں حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے، داڑھی یا روایتی مسلم شناخت کو عوامی مقامات پر جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے اور مسلم کمیونٹیز کو پسماندہ رکھنے کے لیے ریاستی قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جب باری کسی کھرب پتی مذہبی پیشوا کی آتی ہے، تو یہی سیکولر قوانین موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ فرانس جیسے سیکولر ملک میں بیٹھ کر اپنی مذہبی پیشوائی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں چلاتے ہیں، اور اس پر فرانس کے سخت ترین سیکولر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔مغرب کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کے ہاں قانون، تہذیب اور سیکولرازم کی پابندیاں صرف غریب اور کمزور مسلمانوں کے لیے ہیں، جبکہ ارب پتی اور بااثر شخصیات کے لیے تمام قوانین اور نظریات یکسر بدل دیے جاتے ہیں۔
آغا خان فیملی کا شمار فرانس کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں ہوتا ہے، وہ وہاں کے مہنگے ترین ریمپ اور گھوڑوں کی ریس کے فارمز کے مالک ہیں، اور ان کا سرمایہ فرانسیسی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فرانسیسی اعلیٰ اشرافیہ کا ناگزیر حصہ مانے جاتے ہیں۔
پوری دنیا میں پرنس شاہ رحیم آغا خان "سربراہِ مملکت" کا پروٹوکول ملتا ہے۔
ان کا کھربوں ڈالر پر محیط "آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک" (AKDN) ہے۔ یہ نیٹ ورک دنیا کے درجنوں ممالک میں تعلیم، صحت اور مائیکرو فنانس کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ باقاعدہ دو طرفہ سفارتی معاہدے کر رکھے ہیں، جس کے تحت انہیں ایک خودمختار ریاست کی طرح حقوق اور سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے سیاسی ایوانوں میں عزت اور پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے زمین کی سرحدوں سے زیادہ دولت، اچھے تعلقات اور اسمارٹ ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مغرب اور مشرق کا کوئی فرق نہیں۔
I have no dog in the fight between Drop Site and the Munir/Sharif dispensation in Pakistan, and have criticized the website’s sensationalism in its reporting on Imran Khan’s ouster in 2022. I agree with the claim that this is probably linked to their need to garner clicks.
That said, no fair-minded person can fault Drop Site for relying on anonymous sources in its reporting on Pakistan. The army has effectively shut down any semblance of independent journalism in that country. (That Imran Khan tried to do the same thing when he was in power is a separate story.) In other words, if you want to report on controversial topics such as the imprisonment of Khan, the suppression of protests, or the plainly rigged 2024 elections, you will struggle to find people in positions of power or authority in Pakistan who will speak to you on the record. This is not an indictment of Drop Site. It’s an indictment of Pakistan.
My view: Drop Site is directionally correct in its coverage of Pakistan. There is no doubt that the U.S. did not try to prevent the ouster of Khan, though this is different from the website’s exaggerated claims about the U.S. playing a central role in his ouster. There is also no doubt that Munir has brought the political class and media to heel, and arguably made Pakistan less free than at any time in the 21st century. (Some Pakistanis would argue that even Zia was less despotic than Munir, but that too is a separate debate.) There is no doubt that many Pakistanis feel that Khan has been badly wronged, and that he would easily win a fair election.
In an ideal world, the international media would cover Pakistani politics dispassionately, without the activist lens that Drop Site brings to the story. You should be able to see Imran Khan as heroically brave and a natural leader of men, but also as a deeply illiberal politician who had no trouble collaborating with the army to crush his opponents, and who jeopardized Pakistan’s strategic interests. You should be able to view Munir as a ruthless military despot who has done incalculable harm to the democratic project in Pakistan—or what remained of it when he arrived on the scene—but has also guided Pakistani foreign policy with more deftness than Khan could muster. This is not a morality tale of Good v. Evil. It’s subcontinental Game of Thrones. Khan is the hapless Ned Stark. Munir is a cross between Little Finger and Stannis Baratheon—a deadly combination.
Just because Drop Site comes across as clearly pro-Khan, and seeks to connect dots that a more careful publication would not connect with such certainty, does not mean that all its reporting on Pakistan is automatically false. Partisan activists are not as reliable as old-fashioned journalists, but even activists can sometimes give you a glimpse of the truth. Those who seek to delegitimize all of Drop Site’s reporting on Pakistan are equally partisan, just partisans for a different camp. This story is all shades of gray. Beware of those who sell it to you in black and white.
#WATCH | Gurugram, Haryana: On the leaked Pakistan Cypher: Tilak Devasher, former member of the National Security Advisory Board, says, "...it was very much in the political conversation that was taking place in Pakistan... It's a clear-cut regime change operation. What Donald Lu, the US official, told the Pakistani ambassador was that if there is a change or if the no-confidence motion succeeds, all will be forgiven. That's a very strong statement for another country to make... The US was extremely upset that he went to Russia for a visit on the day it just so happened that Russia attacked Ukraine. He had also refused earlier to allow US overflights or over-the-horizon intelligence operations in Afghanistan. So there was a lot of animosity building up against Imran Khan..."
#OPINION: Together with #Pakistan, #SaudiArabia is extinguishing the fire of fighting, helping prevent escalation, and giving advocates of peace hope, writes Prince Turki Al-Faisal https://t.co/Mnq6MgWnLT
جواد احمد اور اظہر جاوید میں شدید لڑائی ،
آپ تشدد کو پروموٹ کر رہے ہیں آپ پر پرچہ ہونا چائیے ! اظہر جاوید
اس کو بڑی بڑی گالیاں دو تاکہ یہ یہاں سے بھاگ جائے ! جواد
یہ لیڈر ہے ؟ اظہر جاوید
یہ شریف خاندان کا ٹاؤٹ ہے ! جواد ۔۔
آخری بات جواد نے بالکل ٹھیک کہی ہے ۔۔