حالیہ ماضی میں پاکستانی عوام کے ساتھ بڑا ظلم یہ ہوا ہے کہ ''بعد از انتخاب دھاندلی'' کی فیصد "قبل از انتخاب دھاندلی" سے بہت بڑھ چکی ہے۔ انتخاب جیتنے کے لیے عوامی رائے کے علاوہ بہت عوامل درکار ہیں۔ اس لیے گلگت بلتستان میں پولنگ کو ختم ہوئے 66 گھنٹے ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک حتمی پارٹی پوزیشن جاری نہیں کی جا سکی، "شکایات" پر %20 حلقوں کے جاری شدہ نتائج بھی روک لئے گئے ہیں۔ پہلے فارم 45/47 کا رونا تھا، اب جاری شدہ رزلٹ بھی روکنے کی نئی روایت سامنے آ چکی ہے۔ نجانے پستی کی نئی منزل کیا ہو گی۔۔۔
@Usman_Ch92 using imran khans name to distroy foundation of his party these people are controlled by regime and now they are churning those lies to save their politics.
Regime knows if they will go against party then people will regect them so this time they are playing khan card
عمران ریاض صاحب @ImranRiazKhan اور رؤف کلاسرا صاحب @KlasraRauf کے درمیان جاری بحث پر : کچھ چیزوں سے واقف ہوں کیونکہ آپ نیوز میں میں نے بھی کام کیا تھا , کچھ کل رات آفتاب اقبال صاحب سے مزید معلوم کیں ۔
آفتاب صاحب سی ای او تھے۔ انہوں نے بتایا کہ رؤف صاحب کے چینل سے نکالے جانے کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس وقت کے فوجی بڑوں کا کام تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا اس کا تعلق ریٹنگ سے نہیں تھا۔ ان سے کل تفصیلا بات ہوئی جس پر میں نے ویڈیو بھی کی۔
تمام فوجداری مقدمات کی اپیلیں سپریم کورٹ لیکن عمران خان کےفوجداری مقدمہ کی اپیل وفاقی آئینی عدالت سنے گی یہ کیسےہو سکتا ہے؟چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو 16ویں نمبر سےاسلام آباد ہائیکورٹ لایاگیا،آزاد ججوں کو صوبوں میں پھینک دیا گیا،لطیف کھوسہ
" تحریک انصاف کے امیدواروں نے پاکستان کے الیکشن سے سبق سیکھتے ہوئے پہلے آزاد امیدواروں کے طور پر کاغذات جمع کرائے اور جب انتخابی نشان الاٹ ہونے کا وقت آیا تو گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ جمع کرا دیئے۔ جب یہ ہوا تو آسمان میں خلل مچ گئی۔ اچانک ایک واٹس ایپ آیا جس میں کہا گیا کہ اس پارٹی کے کاغذات میں کچھ کمی رہ گئی ہے اس لیے اس کا نشان منجمد کر دیا گیا ہے۔اس واٹس ایپ کے بعد ریٹرننگ افسروں نے امیدواروں کو زبانی طور پر کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے دفتر آ کر کوئی دوسرا نشان لے لیں۔ یہ بالکل وہی کھیل تھا جو قاضی فائز عیسیٰ کی مدد سے 2024 میں کھیلا گیا تھا۔ اس پر امیدواروں نے احتجاج کیا کہ زبانی احکامات پر وہ کیوں اپنا نشان چھوڑیں۔ کئی جگہ احتجاج کی تیاری شروع ہوئی تو ضلع غانچے کے ایک ریٹرننگ افسر نے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ اس نے واضح لکھا کہ واٹس ایپ پر موصول ہونے والے حکم کی روشنی میں اس پارٹی کا نشان روک لیا گیا ہے"۔حبیب اکرم
@HabibAkram
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ثاقب بشیر 🔥🔥
پاکستان کا عدالتی نظام انتہائی پستی میں چلا گیا یے ملاقات نہیں کروائی جاتی اگرچہ عدالت کا حکم موجود ہے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے انکا علاج نہیں کروایا جا رہا انکے وکیل کو نہیں ملنے دیا جا رہا جو کہ آرٹیکل 10A کی خلاف ورزی ہے ملزم کو شفاف ٹرائل اپنے مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہوتی ہے یہاں تو وکالت نامہ پر دستخط بھی نہیں کیے جا رہے۔ اس سے زیادہ پاکستان ہی عدلیہ نہیں گر سکتی ۔
"یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وکیل اپنے کلائنٹ سے مشاورت نہیں کر سکتا۔۔بلکہ یہ انصاف کا سرعام قتل ہے، ویسے بھی انصاف مرحوم کو گزرے کئی سال ہوچکے ہیں"۔شاکر محمود اعوان
@shakirAwan88
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
مطیع اللہ جان 🔥🔥🔥
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 15 ماہ سزا معطلی کی درخواستیں نہیں سنی کیونکہ معلوم تھا کہ ضمانت دینی پڑ جائے گی لیکن جیسے ہی بندوبست کیا گیا کہ نیب کے کیسز ہائیکورٹ میں سننے کے بعد سپریم کورٹ میں جہاں کچھ آزاد ججز ابھی موجود ہیں انکی بجائے حکومت کی قائم کردہ آئینی عدالت اور حکومت کے ججز کے سامنے لگانے کا قانون بن گیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جاگ ہوئی کہ انکی مرکزی اپیل سن کر اس پر فیصلہ کیا جائے یہ بدنیتی پر مبنی قانون بنایا گیا اور بدنیتی پر مبنی مرکزی اپیل لگائی جا رہی ہے سب جانتے ہیں کہ اسکی وجوہات کیا ہیں اور عمران خان کو جیل میں رکھنے کے پراجیکٹ پر عمل کیا جا رہا ہے
#اردلی_عدلیہ_نامنظور
القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کی درخواستِ ضمانت کو بغیر فیصلہ نمٹائے جانے اور اپیل کو براہِ راست سماعت کے لیے مقرر کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے درکار قانونی دستاویزات کی تکمیل و دستخط و کارروائی کے سلسلے میں اس وقت اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہوں۔
میں صبح 10:30 بجے سے جیل کے گیٹ پر موجود ہوں تاکہ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات اور پاور آف اٹارنی پر دستخط کروائے جا سکیں، مگر تاحال مجھے اس عمل میں سہولت نہیں فراہم کی جا رہی اور مسلسل انتظار کا کہا جا رہا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ میڈیکل بنیادوں پر اپیل کے وکالت نامے پر دستخط کے لیے پہلے ہی ایک درخواست زیرِ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اور اب نئی اپیل کے لیے بھی اسی نوعیت کے تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں، جو انصاف تک بروقت رسائی اور مؤثر قانونی نمائندگی کے بنیادی حقوق کے منافی ہے
Lahore Bar contends that the judicial power of the Supreme Court could not be taken away from the parliament. Such constitutional amendment undermined the constitution & destroyed the independence of judiciary.
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ججز کے تبادلے کا ایسا طریقہ کار رائج نہیں تھا,جسٹس بابر ستار کا خط
"ججز کے تبادلوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عدلیہ میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دے گا جہاں بے ضابطگیاں اور نااہلی پنپے گی،آئین کے آرٹیکل 200 اور 209 میں کی گئی ترامیم کو ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔اب ججز کو دیگر مقامات پر تبادلے کی دھمکی دی جا سکتی ہے اور اگر وہ تبادلہ قبول نہ کریں تو انہیں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ججز کے تبادلے کا ایسا طریقہ کار رائج نہیں تھا"جسٹس بابر ستار
He also said that judicial history is rife with unflattering accounts of complicit judges who, driven by vile ambition, employed the doctrine of necessity to play second fiddle to praetorians. It is not that in times when authoritarianism expanded and enforcement of fundamental rights contracted, the judges at the helm were unable to tell right from wrong.
Justice Babar Sattar warned that now judges could be threatened with transfer to others locations and in case of their refusal to accept the transfer, they would face penal consequences. According to him, even General Ziaul Haq's regime did not prescribe such method of judges transfer.
ہٹلر کی حکومت کو جمہوریت اور عوامی مقبولیت کیخلاف بطور دلیل پیش کرنا انتہائی بھونڈا آرگیومنٹ ہے۔مسئلہ عوامی مقبولیت نہیں بلکہ ہٹلر نےجو اپنے ملک میں کیا،وہ آئین اور اداروں کو کمزور کرنے کاڈائریکٹ نتیجہ تھا۔کچھ نہیں ملتا تو سیاسی مخالفین کیخلاف یہ دلیل دے دی جاتی ہے! تفصیل کلپ میں
Justice retired Mansoor Ali Shah said that at a moment when the dignity of the court demanded principled resistance, "the incumbent chief justice offered none". He further deplored that the CJ assented to the amendment and negotiated only the preservation of his own position and title. "My colleagues' silence was its own verdict. No collective statement. No refusal. No act of professional solidarity."
یہی وہ خدشہ تھا جو پہلے ظاہر کیا گیا تھا-اور اب معاملات اسی سمت جاتے نظر آ رہے ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کو جلد نمٹانے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ “آپ دلائل کا آغاز کریں، انشاء اللہ سات دن کے اندر اپیل پر فیصلہ کر دیا جائے گا۔” مزید یہ بھی کہا گیا کہ ہر ہفتے دو دن اپیل کی سماعت کے لیے مختص کیے جائیں گے اور وکیل کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے کلائنٹ سے ملاقات کر کے تیاری مکمل کریں۔
دوسری جانب، وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ “عدالت فی الحال اپیل مقرر نہ کرے، پہلے جیل میں ملاقات کر کے مکمل ہدایات حاصل کرنے دیں تاکہ عدالت کی مؤثر معاونت کی جا سکے۔” ساتھ ہی یہ استدعا بھی کی گئی کہ خاتون (بشریٰ بی بی) کے معاملے میں کم از کم سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کر دیا جائے۔
یہ تمام صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے:
کیا یہ غیر معمولی عجلت انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟
کیا دفاع کو مکمل تیاری کا مناسب موقع دیا جا رہا ہے؟
اور کیا اس پورے عمل میں “فیئر ٹرائل” کے اصول پوری طرح ملحوظ رکھے جا رہے ہیں؟
ایمان مزاری کیس میں نظام انصاف کیسے عجیب طریقے سے چل رہا ہے جسٹس محمد آصف نے آج سے ایک ماہ پہلے بغیر کسی وجہ کے بنچ تبدیلی کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی ابھی تک کیس میں نیا بنچ نہیں تشکیل دیا جا سکا (ویب سائٹ پر آن لائن اپ ڈیٹ نہیں ہوا) ۔۔۔ حالانکہ اس کے برعکس جب جج افضل مجوکہ کیس سن رہے تھے تو روزانہ 10 سماعتیں ہوتی تھیں آخر میں حق دفاع ختم کرکے فیصلہ کیا گیا اب اپیل کے دوران سزا معطلی درخواست سننے کے لیے ایک ماہ ہو چکا ابھی تک کیا بنچ ہی نہیں بن رہا ۔۔۔ !!