آیت اللۂ خامنی
اللۂ کے جو محبوب لوگ ہوتے ہیں انکے لیے رب لوگوں کے دل نرم کر دیتا ہےایک انسان کوچھیاسی سال کی عمر میں کیا چاہئیے اگر شہادت مل جائےہر بندہ دکھ کا اظہارکر رہا ہےچاہے کوئی شیعہ ہو یا سنی اور یہی احمد بن حنمبل نے کہاتھا کہ ہمارے جنازے فیصلہ کریں گئے حق کا
#Khamenei
میرا سلام ہو
اس ریش اقدس پر جو خون سے سرخ تھی
اس رخسار پر سلام جو خاک آلودہ تھا
ﺳﻼﻡ ﺍﺭﺽِ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮧ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﻥ ﭘﺮ
ﺳﻼﻡ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎﮰ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ
سلام ہو اس مظلوم حسین صلواۃ پہ کہ جس پرآسمان کے فرشتےبھی رو دیئے
مجھے نہی پتا سال میں اگر کوئی تاریک رات ہو
یا نا ہو
لیکن مجھے ۱۰ محرم کی رات سے زیادہ سیاہ اور دردناک
کوئی رات نہی لگتی سال میں
جس رات خانوادہ رسول شہید ہوئے اس رات سے بڑی قیامت کیا ہوگی سال میں
#سلام_یا_حسینؑ#شام_غریبان
@evergreen_40 نیچے سے اوپر تک پیسہ جاتا ہے الماس ہوٹل تھا وہاں بہت مشہور
اسکی بربادی دیکھ کر بہت دکھ ہوا کوئی نیچے لیول کا کلرک کیسے اجازت دے سکتا
اندھیر نگری ہے یہاں پہلے صرف پیسے سے کام چلتا تھا
اب پیسے کے ساتھ ان ڈفرز کی طاقت بھی ہونی چاہئیے
@maryamwasim12@a_reyha پاکستان میں جتنا ظلم ان شیلٹر ہومز میں ہو رہا ہے شاید ہی کہیں ہو رہا ہو لوگ انکی مدد کر کے جنت خرید رہے ہیں اور یہ حرام پنے میں لگے ہوئے ہیں ہر طرف مافیا بیٹھا ہوا ہے
لڑکیوں کے دارلامان دیکھ لیں وہاں اس سے بھی برا حال ہے
اپکی بات سر آنکھوں پر شاہ صاحب
لیکن اگر کوئی رکھتا ہے خوشی میں تو لعنت ہے اس پر
اگر کوئی رکھتا ہے عقیدت میں محبت میں خلوص میں
کہ اپکی پاک بارگاہ میں پیش کرنا ہے اپنا اخلاص تو کیسے ہوا
میں نے تو ایسے لوگ بھی دیکھے جو تین دن پانی کا روزہ رکھتے اسلیے بس محبت اہلبیت کا پرچار کریں
9،10 محرم کا روزہ رکھنا یوم عاشور کے بعد سختی سے منع ہے۔
عاشورہ کی پہچان اب صرف امام حسین ع کے نام سے ہوتی ہے بنو امیہ نے اہل بیت رسولﷺ سے جنگ میں یزید کی فتح کی صورت میں یہ روزے شکرانے کے طور پر رکھے گئے تھے۔!!
#ہر_زمانہ_میرے_حسین_کا#PathOfHussain
حرم مولا عباس علیہ السلام میں غالباً باب الکف کے بائیں جانب ایک میوزیم موجود ہے جہاں حرم مولا عباس علیہ السلام سے متعلق اور یہاں زیر استعمال رہنے والے بہت سے نوادرات، تبرکات اور بہت سی یادگار تصاویر کو زائرین کیلئے محفوظ کیا گیا ہے۔ سفرِ زیارت کے دوران مجھے بھی اس میوزیم کو دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے بہت سی تصویریں بنائیں، یہاں موجود بہت سی تصاویر کو بغور دیکھا، حرم میں زیر استعمال رہنے والی قدیم گھڑیوں کو دیکھتا رہا، وہ قالین دیکھے جو کبھی حرم میں بچھے ہوئے تھے۔
انہی نوادرات میں حرم مولا عباس علیہ السلام میں زیر استعمال رہنے والا ایک دروازہ بھی شامل تھا۔ یہ دروازہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں حرم مولا عباس علیہ السلام میں نصب کیا گیا تھا اور اسے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی یعنی سنہ ۲۰۰۸ میں ایک نئے دروازے سے بدل دیا گیا۔ گویا یہ دروازہ ٹھیک ایک صدی پرانا تھا۔ یہ دروازہ حرم مولا عباس علیہ السلام کے سرداب میں جانے کیلئے استعمال ہوتا تھا جو روضے کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اگر مجھے درست یاد ہے تو میں نے اسی طرح کا ایک یا کچھ دروازے اب بھی حرم مولا عباس علیہ السلام کے کچھ حصوں میں لگے دیکھے تھے۔
۔
میں کچھ دیر اس دروازے کو دیکھتا رہا تھا کہ یہ دروازہ بھی ایک تاریخ کا امین ہے۔ کبھی زائر اس دروازے کو چوم کر سرداب کی زیارت کیلئے جاتے ہونگے، اس دروازے نے جبر و ظلم کا وہ دور بھی دیکھا ہوگا جب نہ ایک زائر کیلئے زیارت کیلئے جانا آسان تھا اور نہ وہاں پہنچ کر جی بھر کے پرسہ دینا۔ جب یہ دروازہ نصب ہوا ہوگا تو یہ وہ دور ہوگا جب ذرائع آمدورفت آج کی طرح جدید نہیں تھے۔ زائر طویل سفر کرکے کربلا آتے ہونگے۔ پہلے ضریح مقدس کی زیارت کرتے ہونگے اور پھر اسی دروازے سے گزر کر سرداب کی طرف جاتے ہونگے۔ پھر مولا عباس علیہ السلام کو سلام عرض کرکے آقا و مولا حسین علیہ السلام کی زیارت کو جاتے ہونگے۔
۔
زائرین میں اس دور کے مشہور علماء و مراجع و ذاکرین بھی شامل ہوتے ہونگے۔ سید الخوئی علیہ الرحمہ نے شاید کبھی اس دروازے کے باہر کھڑے ہوکر بھی یہ جملے کہے ہونگے:
السلام علیک یا شباب الحسین
السلام علیک یا حجاب الزینب
علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ بھی سرداب میں اصل قبر مطھر کی زیارت کیلئے گئے تھے۔ مولا عباس علیہ السلام سے انہیں بہت خاص محبت تھی۔ انہیں زندگی میں دو بار اصل قبر مطھر کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ سرداب کا زینہ اترنے کے بعد قبر کا طواف کرنے والا پانی نظر آیا تھا تو انہوں نے زیارت مولا عباس علیہ السلام کی تلاوت شروع کی تھی۔ جب وہ اس جملے پر پہنچے تھے “اشھد انک قتلت مظلوما” تو پانی میں جوش پیدا ہوگیا تھا۔ کچھ اور آگے بڑھے تھے اور قبر مطھر کو دیکھ کر فرطِ مصائب سے حالتِ غش میں چلے گئے تھے۔ اسی حالت میں انہیں باہر لاکر ضریح مقدس کے ساتھ بٹھا دیا گیا تھا۔ وہ بھی غالباً اسی دروازے سے گزر کر سرداب کا زینہ اترے ہونگے اور یہیں سے حالت غشی میں واپس ضریح کی جانب لے جائے گئے ہونگے۔
۔
مجھے حرم مولا عباس علیہ السلام کے اس قدیمی دروازے سے بے انتہا اُنسیت محسوس ہوئی تھی۔ میں اکثر اس دروازے کی تصویر کھول کر اس کی زیارت کرتا ہوں۔ دروازے کو میوزیم میں دیگر نوادرات کی طرح شیشے کے شیلف میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ سوچتا ہوں کہ کاش اس دروازے کو مس کرنے اور اسے بوسہ دینا ممکن ہوتا تو میں بھی اس سے لپٹ کر پرانے دور کے زائرین کو یاد کرتا جو مشکل اور طویل سفر کرکے کربلا پہنچتے تھے اور اپنے آقا و مولا عباس علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کرتے تھے۔ کاش مجھے یہ سعادت مل پاتی تو میں بھی اس دروازے سے لپٹ کر کہتا اشھد انک قتلت مظلوما اور سید الخوئی رح کے تعلیم کردہ یہ جملے کہتا ہوا مولا عباس علیہ السلام کو سلام کرتا:
السلام علیک یا شباب الحسین
السلام علیک یا حجاب الزینب
۔
#نوردرویش