یہ دو ایسے آستین کے سانپ ثابت ہوۓ ہیں کہ عین لانگ مارچ سے دو ہفتے پہلے سہیل آفریدی کے خلاف ابو کی عدالت میں چلے گے ہیں جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ سہیل آفریدی سے یا اس کی پالیسی سے اختلاف نہیں کر رہے بلکہ عمران خان کو رہائ سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،
سہیل آفریدی سے ہمارے بھی اختلاف ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ 27 ستمبر کی کال کو کوئ نقصان پہنچایا جاۓ ۔۔۔
عین لانگ مارچ سے پہلے کیس کا لگنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ احسان فراموش اپنے ابو عاصم کے پلان پر ہیں اور وکٹ کے دونوں جانب کھڑے ہو کر عمران خان کی رہائ روکنا چاہتے ہیں ۔۔
جہاں نظر آہیں بس تھوکنا بنتا ان فوج کے دلالوں پر۔
علیمہ خان کی ٹویٹ 🚨
عمران خان کی جان اب شدید خطرے میں ہے!
عمران خان بار بار یہ تنبیہ کر چکے ہیں کہ: "وہ مجھے ویسے ہی مار دیں گے جیسے انہوں نے مصر میں مرسی کو مارا تھا۔"
اکتوبر 2025 میں مکمل تنہائی میں رکھے جانے سے پہلے عمران خان بالکل فٹ اور صحت مند تھے۔ دسمبر کے آخر تک، ان کی ایک آنکھ کی بینائی جانے لگی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو بار بار یہ بتانے کے باوجود کہ وہ دیکھ نہیں سکتے، انہیں تقریباً دو ہفتوں تک طبی امداد سے محروم رکھا گیا۔ جب آخر کار ایک ڈاکٹر کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی گئی تو عمران خان کو بتایا گیا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ان کی آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ چکا ہے۔ ان کے سیل کے گرد کم از کم ایک درجن سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں۔ ان کی نگرانی کرنے والے اداروں کو معلوم تھا کہ وہ ایک آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ علاج میں مجرمانہ نیت کے ساتھ تاخیر کی گئی۔
اس کے بعد سے، جب کہ اڈیالہ جیل سے تقریباً کوئی بھی اصل معلومات باہر نہیں آنے دی جاتیں، ان کی صحت کے بارے میں میڈیکل رپورٹس اور مبینہ "اندرونی معلومات" جان بوجھ کر لیک کی جا رہی ہیں۔ جولائی کے آخر تک، سوشل میڈیا اچانک ایسے دعوؤں سے بھر گیا کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے، ان کے ہاتھ اور ہونٹ کانپ رہے ہیں، ان کا بلڈ پریشر غیر مستحکم ہے، اور طویل تنہائی ان پر ذہنی طور پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان رپورٹس کے ساتھ جعلی اور اے آئی (AI) سے تیار کردہ ایسی تصاویر بھی تھیں جن میں انہیں ویل چیئرز اور اسپتال کے بستروں پر دکھایا گیا۔
یہ بیانیہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کیونکہ ان کے اغوا کاروں کا خیال تھا کہ وہ ان انتہائی سخت حالات کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے جن میں انہیں رکھا گیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ٹوٹ جائیں گے، کہ آخرکار وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
جب انہوں نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا تو انسانی رابطے سے مکمل طور پر کاٹ کر انہیں انتہائی درجے کی اذیت دی گئی، سوائے ان کی اہلیہ سے غیر باقاعدہ ہفتہ وار ملاقاتوں کے جو خود اسی جیل میں ہیں۔
پھر بھی وہ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور چونکہ وہ انہیں توڑ نہیں سکے، اس لیے اب انہوں نے عمران خان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں ایک جعلی بیانیہ اور جعلی پروپیگنڈا بنانا شروع کر دیا ہے۔
18 اگست 2026 کو، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی ڈاکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان کی موجودگی میں، عمران خان کو مکمل آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ اس حکم میں دو دن کی آخری تاریخ دی گئی تھی۔ انہیں 20 اگست تک منتقل کیا جانا چاہებя تھا۔ اس حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
حکومت کیا چھپا رہی ہے کہ وہ آزادانہ طبی معائنے کی اجازت دینے کے بجائے سپریم کورٹ کی نافرمانی کرنے کو ترجیح دے رہی ہے؟
ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ ہم دو واضح مطالبات کے ساتھ پرامن طور پر سڑکوں پر نکلیں:
سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، عمران خان کو مکمل آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے فوراً شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جنہوں نے القادر کیس میں 22 ماہ اور توشہ خانہ کیس میں 9 ماہ سے بشریٰ بیبی اور عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت نہیں کی، وہ یا تو انصاف فراہم کریں یا اپنے عہدے سے ہٹ جائیں۔
ہمیں سہیل آفریدی سے زیادہ عمران خان کی زندگی کے خلاف ہونے والی سازش کی فکر ہے۔ عمران خان کی جان سہیل آفریدی کے عہدے سے زیادہ قیمتی ہے۔ ادھر توجہ کریں ، ادھر فوکس کریں۔
یا اللہ ہم عاجزی اور انکساری سے تیرا لاکھوں کروڑوں بار شکر ادا کرتے ہیں۔ ہم نے باب المندب کو آزاد کروا لیا۔
غزہ کے مسلمانوں کو مبارک ہو، فلسطین کے مسلمانوں کو مبارک ہو، سب مسلمانوں کو مبارک ہو۔ آج خوشی کا دن ہے۔ آج جشن کا دن ہے۔
یمنی مجاہدین کا پیغام
ویلڈن نواجوان 🔥✊
صدام خان ترین نے 27 ستمبر کے حوالے سے اپنے حلقہ سے آگاہی مہم کا آغاز کردیا 🔥🔥
مگر بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ آفیشل پنجاب کے اندر کتے کی خبر بھی چلاتی ہے مگر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ورکرز کا بھی نہیں پوچھتے
احسن اقبال رہبر کمیٹی کا سربراہ تھا اور کمیٹی کی میٹنگ بلاکر بشری بی بی پر بحث کرتا تھا,...
کیا آج تک اھسن اقبال نے اس پے معافی مانگی ہے یا کسی نے معافی کا مطالبہ کیا ہو؟؟؟؟
ظالم فوجی رجیم 😭😭😭
فوج نے ڈرون حملے کے ذریعے ایک بے گناہ ٹیکسی ڈرائیور کی جان لے لی۔
آخر ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا کہ ان کے سر سے ان کا باپ چھین لیا گیا؟
ان بچوں کی چیخیں اور آہیں اس ظالم فوجی کی تباہی کے لیے کافی ہے ۔
شفیع جان کے بیان کی مذمت کرنے سے پہلے یاد رکھیں کہ پاک فوج نے ججز کے بیڈرومز میں کیمرے لگائے ، اعظم سواتی کی ویڈیو انکی بیٹی کو بھیج دی ، لوگوں کے نازک اعضاء پر کرنٹ لگایا۔
پشاور ہائی کورٹ نے میرا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ دیا ہے، 6 مہینے ہوگئے مگر یہ عدالت اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرسکتی، اگر عدالتی منتخب ارکان کو انصاف نہیں دے سکتی تو عام شہریوں کو کیا انصاف دے گی ، یہ تو ہماری عدالتوں کی اوقات ہیں،نثارباز خان
جب خدیجہ شاہ کو مُنہ پر کالا کپڑا ڈال کر تضحیک آمیز طریقے سے عدالتوں میں پیش کیا جا رہا تھا تب کہاں تھے یہ سب صحافی جِن کو آج شفیع جان کے بیان پر عورت کی حُرمت یاد آ گئی ہے