چیک باؤنس کر جائے تو مرد جیل جاتا ہے، خاتون کو اتنے معمولی جرم پر جیل نہیں بھیجا جاتا، خاتون ہونے کا فائدہ دیا جاتا ہے، ضمانت مل جاتی ہے۔ قانون تبدیل کرا لیں کہ ایسے جرم پر خاتون بھی جیل جائے گی، تو معاملہ حل ہو سکتا ہے
ایک ہفتہ پہلے ٹرانسفر ہو کر تھانے میں آنے والا انسپکٹر کسی کیس کے سلسلے میں گھر سے سیدھا عدالت چلا گیا۔ دوپہر کو واپس آ کر محرر سے پوچھا کہ یہ جو تم روازنہ صبح سب کو ناشتہ کرواتے ہو اس میں فی کس خرچہ کتنا ہوتا ہے؟ ۔ محرر نے کہا سر چھوڑیں یہ تو بس مشترکہ کھاتے سے آتا ہے۔ انسپکٹر نے پھر اصرار کیا تو محرر نے کہا سر کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ لیکن آخر ضد کے آگے ہار گیا اور بولا سر ناشتہ تقریبا ساڑھے پانچ سو فی کس کے حساب سے پڑتا ہے۔ 'میرے ساڑھے پانچ سو مجھے دے دو میں نے آج ناشتہ کچہری ہی میں کر لیا تھا-' انسپکٹر صاحب نے فرمایا۔
یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ کسی نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج نے سرکار کو درخواست دی کہ چونکہ میں نے گھر میں بجلی کا سولر سسٹم لگوایا ہوا ہے۔ لہذا میرے حصے کے بجلی کے مفت یونٹوں کے بدلے مجھے ماہانہ نقد رقم دے دی جائے.
منقول۔
سر۔۔ یہ دراصل سہولت آپ اپنے، اپنے فیملی ممبران کے علاوہ پچاس ہزار سیاسی اور بیوروکریٹ ایلیٹ کے لیے لے رہے ہیں جن کے پاس تاحیات ان کے بچوں اور والدین سمیت بلیو اور ریڈ پاسپورٹس ہیں۔
عام پچیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے جن کے پاس سبز پاسپورٹ ہیں اس میں کچھ نہیں ہے۔ آپ خود بہت بڑی ایلیٹ ہیں اور اپنی ایلیٹ کلاس کا تحفظ اور مراعات ہی آپ کی پہلی اور آخری سفارتی ذمہ داری ہے جو آپ کامیابی سے سرانجام دے رہے ہیں۔
بہت مبارک ہو @MIshaqDar50@ForeignOfficePk@CMShehbaz@KSAembassyPK
سفارتی محاذ پر اسحاق ڈار کی بلیو/ریڈ پاسپورٹ رکھنے والے 50 ہزار سرکاری افسران، ارکان پارلیمنٹ،ان کے بیوی بچوں اور والدین تک کے لیے بہت بڑا کارنامہ۔
اب آپ کو پتہ چلا ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران پچیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے سبز پاسپورٹ لیکن اپنے لیے، بیوی، بچوں اور اب تو والدین کے لیے کیوں تاحیات بلیو/ریڈ پاسپورٹ لیتے ہیں تاکہ کہیں سے نہ لگیں وہ عام پاکستانی ہیں جنہیں سبز پاسپورٹ پر مفت انٹری دور کی بات ہے اب ویزے لینا تک مشکل ہوچکا ہے۔
یہ حکمران سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ سب بینفیٹس اور مراعات اپنے خاندان کے لیے لینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان پچاس ہزار بلیو/ریڈ پاسپورٹ ہولڈرز خوش قسمت پاکستانی سرونگ اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ان کی اولادوں، والدین کو بہت بہت مبارک ہو۔ ارکان اسمبلی کو بھی بہت مبارک ہو جو آج کل اپنے اور والدین کے لیے تاحیات (ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ) بلیو پاسپورٹ کے لیے کمیٹی اجلاسوں میں لڑائی لڑ رہے ہیں۔ امید ہے ان کی بھی جلد سنی جائے گی جیسے سرکاری بابوز نے خود ہی اپنے لیے تاحیات یہ سہولت لے لی تھی۔ اندازہ کریں ان پچاس ہزار لوگوں کو سبز پاسپورٹ برا لگتا ہے۔ انہیں بیوی بچوں ماں باپ سمیت ہر ملک میں فری ویزہ انٹری چاہئے۔
@CMShehbaz@MIshaqDar50
🚨26 نومبر کو ہمارے شہدا کے جنازوں میں کس نے شرکت کی ؟ اعجاز ستی کی لاش تب دی گئی جب یقین دہانی لے لی کہ جنازہ کینٹ میں نہیں ہو گا 26 نومبر کو ہمارے شہدا کی لاشیں انہوں نے نہیں دیں دوسری طرف دہشتگرد ہمارے فوجی جوانوں کی لاشیں نہیں دیتے دونوں لاشیں نہیں دیتے ان میں پھر فرق کیا ہے ؟
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو بنیاد بنا کر خیبر پختون خواہ پولیس اور صوبے کی بیوروکریسی سے اپنی ہی صوبائی حکومت کیخلاف کاروائیاں کروائی جا رہی ہیں۔ کہاں ہیں چیف منسٹر اور صوبے میں حکومت کس کی ہے؟ چیف سیکریٹری اور آئی جی اگر صوبائی وزیر داخلہ اور وزیرِ اعلی کو جواب دے نہیں تو پھر لا اینڈ آرڈر صوبائی معاملہ تو نہیں رہا اور عملی طور پر صوبے میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے۔
I mean the ratio of our men getting martyred to the terrorists being killed is absymal. How can a military which is literally fighting insurgencies since the 80s can be this bad especially when the terrorists are fighting on our terrain.
Horrendous incompetency!!
دو دیواریں جلنے پر چار مجسمے ٹوٹنے پر کہتے تھے فوج کے اندر بہت غصہ ہے۔ پینتیس سو اہلکار مر گئے کسی کو ہلکی سی تریلی بھی نہیں آئی؟ کیوں؟
عوام کا جی ایچ کیو کی کنڈی کھڑکانا فوج کو خوفزدہ کرگیا تھا کہ مالک چوکیدار سے قبضہ لینے آگئے ہیں۔ انہیں غصہ نہیں خوف تھا۔ عوامی ردعمل کا خوف۔
آج پنجاب کیش اینڈ کیری پر خریداری کے دوران جب کیشئیر نے شاپنگ بیگ کے 50 روپے چارج کیے، تو میں نے اسے کورٹ کے اس آرڈر کی یاد دہانی کرائی جس کے تحت بیگز کے پیسے چارج کرنا ممنوع ہے۔
آگے سے ملازم کا تمسخرانہ جواب تھا:
"پھر آپ کورٹ کو کہیں کہ وہ ہمیں بیگز سپلائی کر دیا کرے، ہم پیسے نہیں لیں گے۔"
کہاں وہ وقت کہ معزز عدالت کا فیصلہ پتھر پر لکیر ہوتا تھا، اور کہاں یہ دور کہ ایک عام ملازم بھی عدالتی احکامات کا اس طرح سرِعام مذاق اڑا دیتا ہے۔ جب اداروں کا وقار اور قانون کا خوف ختم ہو جائے، تو معاشرے اسی طرح لاقانونیت کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔
ایسے حالات ذمہ دار کون ہیں ؟؟؟
کیا آپ جانتے ہیں؟
کوہاٹ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے والا حافظ گل بہادر گروپ دس بارہ سال تک “گڈ طالبان “ کے منصب پر فائز رہا۔
یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے ، وقفہ ۔
مسجد میں خود کش دھماکہ ہوا۔ سولہ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اس سے کہیں زیادہ سویلینز شہید ہوئے۔ قریبی چھاونی سے ایک میجر جنرل صاحب پہنچے۔ وردی پوش کیمرہ مین ساتھ تھا۔ بس اتنی سی کہانی ہے۔
گریڈ 22 سے ریٹائر ہو کر نئے سرے سےگریڈ 20 کا کنٹریکٹ لے کر اپنے ہی ایک جونئیر فارن سیکرٹری کے نیچے پھر نئے سرے سے نوکری کرنے والوں کا بھی الگ اپنا لیول ہے اور یہ کام آمنہ بلوچ صاحبہ نے کیا ہے۔
سنا ہے بچے یورپ پڑھتے ہیں لہذا پاکستانی قوم خرچہ اٹھائے گی اس لیے چاہے جونئیر کے نیچے کام کرنا ہو یا بائیس گریڈ سے بیس گریڈ کا سہی لیکن کنٹریکٹ درکار تھا کہ سفیر کے ساتھ ڈالروں میں بھاری تنخواہ اور بھاری مراعات مفت ہیں۔
کیا پاکستانی سرکاری افسر ڈالروں میں تنخواہ کے لیے کچھ بھی کرے گا؟
کیا اب آمنہ بلوچ صاحبہ اپنی پنشن کے ساتھ ساتھ اس نئی کنٹریکٹ جاب کی تنخواہ بھی لیں گی؟ ایک پنشن اور ایک تنخواہ۔۔ ؟ وہ بھی ڈالروں میں۔۔
کیا چیرپرسن قائمہ کمیٹی برائے فارن آفس حنا ربانی کھر اور ان کے کمیٹی ممبران زرا ہمت دکھائیں گے اور ان سب کو اپنے اجلاس میں طلب کریں گے کہ یہ کیسے سب کچھ کیا گیا۔۔ بائیس گریڈ سے بیس گریڈ کا سفر کیسے طے کیا گیا۔ عہدوں کی بے توقیری کیسے کی جارہی ہے۔۔ فارن سیکرٹری کیسے دوبارہ کنٹریکٹ پر سفیر لگ گئی۔
مزے کی بات ہے جس دن حنا ربانی کھر اور نوید قمر نے آمنہ بلوچ کے ان کی قائمہ کمیٹیوں کے دو اجلاسوں میں شرکت نہیں کی اور وہ فارن سیکرٹری کے اس نان پروفیشنل رویے کے خلاف وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا، اس دن ہی شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے انہیں نیا کنٹریکٹ دے دیا۔
جہاں تک عزت کے ساتھ ریٹائر ہونے کی بات ہے تو ایک شعر عرض ہے۔۔
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے
@ForeignOfficePk@MIshaqDar50@CMShehbaz@HinaRKhar@AyazSadiq122@ShaziaAttaMarri@naveedqamarmna@PalwashaKhan18@amnabaloch4@JunaidAkbarMNA@SyedAliZafar1@AonAbbasPTI@NadeemAfzalChan@A_Qadir_Patel@PakinTurkiye@PakinSpain_@PakinFrance@PakistanPR_UN@Asimiahmad@PakinChina_@PakinUSA@PakinRussia@PakinRussia@PakinBangladesh@GovtofPakistan@PakinGermany_
پہلی اخباری خبر۔۔سانحہ پمز میں واحد زندہ بچ جانے والی بچی بھی 22 دنوں بعد انتقال کر گئی،جاں بحق بچوں کی تعداد 15 ہوگئی۔۔
دوسری اخباری خبر۔۔وزیراعظم شہبازشریف لندن پہنچ گئے،چیک اپ کرائیں گے۔۔
اب دونوں خبریں ملا کر پڑھیں،بس کہنا یہ کہ جب تک ہمارے وزیراعظموں کےذاتی چیک اپ لندن یا باہر ہوتے رہیں گےتب تک ہمارےسرکاری ہسپتالوں میں بچےجل جل کر مرتےرہیں گے۔۔