یہ اس صدی کا سب سے بڑا سکینڈل ہے فیس بک انسٹا وغیرہ والی کمپنی میٹا پر امریکی ریاستوں نے مقدمہ کیا میٹا سولہ ارب ڈالر جرمانہ دے گا ان پر الزام تھا ایسے ایلگورتھم استعمال ہوئے جس سے بچے سوشل میڈیا addiction کا شکار ہو گے یعنی ان کو عادی بنایا گیا ہے
بندہ مرتا مر جائے، کوئی پوچھنے والا نہیں — انگلینڈ کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی سسٹم کا آج ایک تلخ تجربہ ہوا۔
آج میرے ایک دوست کو اچانک سانس لینے میں شدید دشواری محسوس ہونے لگی۔ ہم نے فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کی۔ تقریباً آدھا گھنٹہ سوال جواب میں گزر گیا۔ ایسی حالت میں مریض اور اس کے ساتھ موجود لوگوں کے لیے ایک ایک منٹ بہت بھاری ہوتا ہے، اور آپ سے مسلسل سوالات کیے جا رہے ہوں تو دل میں یہی خیال آتا ہے کہ خدا نخواستہ اتنی دیر میں مریض کی حالت مزید خراب نہ ہو جائے۔
آخرکار ہمیں بتایا گیا کہ تمام ایمبولینسز 🚑 مصروف ہیں اور ایمبولینس آنے میں تقریباً 5 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ کہا گیا کہ اگر ممکن ہو تو کسی دوست یا ٹیکسی کے ذریعے ہسپتال پہنچ جائیں۔ ہم نے کہا کہ معاملہ ایمرجنسی کا ہے، اسی لیے ایمبولینس مانگ رہے ہیں، لیکن جواب یہی تھا کہ یا پانچ گھنٹے انتظار کریں یا خود ہسپتال پہنچیں۔
خیر، ہم ٹیکسی لے کر ہسپتال پہنچ گئے۔ ایمرجنسی سروس والوں نے کہا تھا کہ انہوں نے مریض کی تفصیلات ہسپتال کو بھیج دی ہیں اور وہاں جلدی دیکھ لیا جائے گا۔
ہسپتال پہنچ کر ریسیپشن پر موجود خاتون کو پوری صورتحال بتائی کہ مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے اور ایمرجنسی سروس نے ہمیں یہاں بھیجا ہے۔ جواب ملا:
"آرام سے بیٹھ جائیں، پانچ گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں، سینکڑوں مریض انتظار کر رہے ہیں۔"
ہم نے دوبارہ کہا کہ یہ عام مسئلہ نہیں، سانس کا معاملہ ہے اور مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، لیکن جواب پھر یہی تھا کہ "ارجنٹ ہو یا کوئی اور، بیٹھ جائیں اور انتظار کریں۔"
میں واقعی سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر کسی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریض کو ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے تو پھر لفظ "ایمرجنسی" کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟
ہم اکثر پاکستان کے ہسپتالوں اور وہاں کے نظام پر تنقید کرتے ہیں، لیکن اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہوں تو پاکستان میں بہت سے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں کم از کم مریض کو ابتدائی طور پر 10 سے 15 منٹ میں دیکھ لیا جاتا ہے، خاص طور پر جب مسئلہ سانس یا سینے سے متعلق ہو۔
پردیس میں بیماری انسان کو ویسے ہی توڑ دیتی ہے، اور جب مشکل وقت میں بروقت طبی مدد بھی نہ ملے تو بے بسی اور بڑھ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ پردیس میں کسی کو بیمار نہ کرے، اور دنیا کے ہر مریض کو بروقت علاج اور مدد نصیب فرمائے۔ آمین۔
ان سے ملئیے۔۔ یہ ہیں خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیم کے انقلابی وزیر صاحب
عمران نیازی نے انکے بارے میں کہا تھا کہ ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہی کرتے۔ انگریزی سر کے اوپر گزر گئ تو طالبہ کو اپنی بات سمجھانے کیلئے پشتو میں بولنا پڑا
دنیا کا سب سے بڑا معجزہ: نوبل پرائز بنگلہ دیش کو ملا، لیکن اصل حقدار پاکستان کا بیٹا نکلا!
کیا آپ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے محمد یونس اور ان کے گرامین بینک کو غریبوں کو چھوٹے قرضے دینے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا؟ بظاہر یہ بہت بڑا فلاحی کام تھا، لیکن پردے کے پیچھے کی حقیقت آپ کو حیران کر دے گی۔
نوبل پرائز اور سود کا چکر!بنگلہ دیش کا گرامین بینک غریبوں کو قرض تو دیتا تھا، لیکن اس پر 20% سے 28% تک بھاری سود (Interest) وصول کیا جاتا تھا۔ غریب قرض کی اصل رقم سے زیادہ سود کے چنگل میں پھنس جاتا تھا۔ لیکن دنیا نے اس سود پر مبنی نظام کو سراہا اور نوبل پرائز دے دیا۔
اب دیکھیے پاکستان کا اصل معجزہ: ڈاکٹر امجد ثاقب اور "اخوت"پاکستان کے سابق سی ایس ایس افسر ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرمائے دارانہ نظام کے اس شکنجے کو چیلنج کیا۔ انہوں نے 2001 میں صرف 10 ہزار روپے سے "اخوت فاؤنڈیشن" کی بنیاد رکھی۔ ان کا طریقہ کار بینکوں جیسا نہیں بلکہ "مواخاتِ مدینہ" (مدینہ کے بھائی چارے) پر مبنی ہے۔
200 ارب روپے سے زائد کی تقسیم: صرف 10 ہزار روپے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 220 ارب روپے سے زائد کے بلا سود قرضے تقسیم کر چکا ہے، جس سے پاکستان کے کروڑوں غریب خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔
0% سود (Zero Interest): اخوت غریبوں کو کاروبار، شادی اور گھر کے لیے بالکل مفت اور بلا سود قرضے دیتا ہے۔
سو فیصد (100%) واپسی کی شرح: دنیا کے بڑے بڑے بینک جن کے قرضے ڈوب جاتے ہیں، وہاں اخوت کا لون ریکوری ریٹ 99.9% (تقریباً 100 فیصد) ہے! غریب خود عزتِ نفس کے ساتھ پائی پائی واپس کرتا ہے۔
کوئی عدالت نہیں، کوئی پولیس نہیں: اخوت کسی غریب کو قرض واپسی کے لیے ہراساں نہیں کرتا، بلکہ مساجد اور گرجا گھروں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر شخصی ضمانت پر قرضے دیے جاتے ہیں۔
صرف قرض ہی نہیں، مفت یونیورسٹی بھی!ڈاکٹر امجد ثاقب کا سفر صرف قرضوں تک نہیں رکا۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی فیس سے پاک یونیورسٹی "اخوت کالج یونیورسٹی" قائم کی۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان بھر کے غریب اور مستحق طلبہ کو نہ صرف بین الاقوامی معیار کی تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے، بلکہ ان کے رہنے، کھانے اور ہاسٹل کے تمام اخراجات بھی اخوت خود اٹھاتا ہے۔
سوچنے کی بات!سود پر قرض دینے والے کو دنیا نے نوبل پرائز دیا، لیکن اللہ کے نظام (بلا سود قرضِ حسنہ) پر چل کر کروڑوں خاندانوں کو غربت سے نکالنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کا کام اس سے ہزار گنا بڑا ہے۔ اگرچہ انہیں ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ مل چکا ہے، لیکن ہمارا اصل فخر ان کا یہ بے لوث نظام ہے۔آئیں پاکستان کے اس سچے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ کمنٹس میں "ماشاءاللہ" لکھیں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت اور مثبت چہرہ دکھائیں!
#DrAmjadSaqib #AkhuwatFoundation #PakistanPride #InterestFreeLoans #HumanityFirst
ایک سعودی تاجر کا بیان ہے کہ میں اور میرا دوست سعود شہر بریدہ میں تجارت کرتے تھے ۔ ایک دن میں جمعے کی نماز کے لیے بریدہ کی مسجد الکبیر میں گیا، نماز جمعہ کے بعد جنازے کا علان ہوا ، نماز جنازہ ادا کی گئی ، لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ جنازہ کس کا ہے، پتہ چلا کہ یہ میرے دوست سعود کا ہی جنازہ ہے جو گزشتہ رات ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا۔
یہ سن کر مجھے انتہائی صدمہ پہنچا۔ سن 1998 کی بات ہے چند مہینے گزرنے کے بعد وہاں کے ایک دوکان دار نے مجھ سے بات کی کہ مرحوم سعود کے ذمہ میرے تین لاکھ ریال ہیں تو آپ میرے ساتھ چلیں اور اُ ن کے بیٹوں سے بات کریں ۔ یہ بات پہلے سے میرے علم میں تھی کہ سعود کے ذمے قرض ہے ۔ ہم مرحوم کے بیٹوں سے گھر جا کر ملے، بات چیت ہوئی تو انھوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے رقم دینے سے انکار کر دیا ۔ اور کہا کہ ہمارے باپ نے صرف 6 لاکھ ریال چھوڑے ہیں اگر ہم 3 لاکھ ریال دے دیں گے تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا ۔ اس دور میں بہت سا لین دین اعتماد پر ہوتا تھا۔ ہم واپس آگئے اور یوں بہت وقت گزرتا گیا لیکن ہر وقت مجھے سعود کی یاد ستاتی ، یہی سوچتا رہتا کہ ناجانے قرض نہ چکانے پر قبر میں اس پر کیا بیت رہی ہوگی ۔
ایک دن میں نے اپنے پیارے دوست کا قرض اتارنے کا عزم کر لیا اس ارادے کے بعد پھر مجھے دو دن تک نیند نہیں آئی ۔ جب بھی میں سونے کے لیے آنکھیں بند کرتا تو سعود کا مسکراتا چہرا میرے سامنے آجاتا ، گویا وہ میرے مدد کا منتظر ہو ۔ تیسرے دن میں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئےاپنی دوکان کا سارا سامان فروخت کیا اور جمع پونجی اکھٹی کی تو 4 لاکھ پچاس ہزار ریال جمع ہوگئے ۔
فوراً 3 لاکھ ریال سے دوست کا قرض اتار کر آیا جس سے مجھے بہت دلی سکون ملا اس ادائیگی کے دو ہفتے بعد وہی شخص جس کو میں نے 3 لاکھ ادا کیے تھے ، میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اپنا سب کچھ بیچ کر یہ رقم دی ہے لہذا میں ایکا لاکھ ریال سے دستبردار ہوتا ہوں ، اس نے مجھے ایک لاکھ ریال واپس کر دیا اور مارکیٹ میں دوسرے تاجروں سے بھی اس کا تذکرہ کیا ۔
چند دن گزرے کے ایک تاجر کا فون آیا اس نے پیشکش کی کہ میرے پاس دو دوکانوں پر مشتمل ایک اسٹور ہے جو میں آپ کو بلا معاوضہ دینا چاہتا ہوں ، میں نے اُس کی پیشکش کو قبول کر لیا ۔
مزدور لگا کر دوکانوں کی صفائی کی اسی دوران سامان سے بھرا ہوا ایک ٹرک دوکان کے سامنے آ کر رُکا اور ایک نوجوان اتر کر آیا کہنے لگا میں فلا ں تاجر کا بیٹا ہو ۔ یہ سامان بابا نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سامان بیچ کر نصف قیمت آپ ہمیں لوٹا دیں اور باقی ہماری طرف سے تحفہ ہے ۔ اور آئندہ جتنے مال کی ضرورت ہو ہم سے اُدھا پر لے کر فروخت کے بعد پیمنٹ کر دیا کریں ۔
یہ وہ لوگ تھے جنھیں میں جانتا بھی نہیں تھا ۔ چاروں طرف سے میرے ساتھ تعاون کے لیے کھڑے ہو گئے اور تھوڑے ہی عرصے میں میرا بزنس دگنا ہو گیا ۔
2014 کے رمضان میں 3 ملین ریال میں نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی ۔ یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے ۔سیدِکائنات رحمتہ اللعالمین کا فرمان کس قدر سچا ہے کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالی بھی اس کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ایسی خیر و برکت عطا فرمائے.
🏑💔 بھارتی ہاکی کے کھلاڑی سندیپ سنگھ نے اپنے کیریئر میں تقریباً 110 گول کیے۔ 2006 میں ایک المناک حادثے کا شکار ہوا، موت کے منہ سے واپس آیا اور دوبارہ میدان میں اترا۔ اس کی جدوجہد کو سراہنے کے لیے بھارت نے 2018 میں اس کی زندگی پر فلم "سورما" بنا دی، جسے کروڑوں لوگوں نے دیکھا اور آج بھی سندیپ سنگھ کو قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 🇮🇳🎬
مگر ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے...
پاکستان کے پاس سہیل عباس جیسا عظیم کھلاڑی تھا، ہے اور رہے گا۔ وہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہاکی تاریخ کا سب سے بڑا پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔
🔥 348 بین الاقوامی گول!
جی ہاں، 348 گول... ایک ایسا عالمی ریکارڈ جو آج بھی قائم ہے اور جس تک پہنچنا دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے لیے خواب ہے۔
2001 میں اس نے ایک ہی سال میں 100 سے زائد گول کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ جب سہیل عباس پینلٹی کارنر لینے آتا تو مخالف گول کیپر کے چہروں پر خوف صاف نظر آتا تھا۔ اس کی ڈریگ فلک بجلی کی طرح گول پوسٹ میں جا لگتی تھی۔
2002 ایشین گیمز کے طلائی تمغے سے لے کر چیمپئنز ٹرافی اور اولمپکس تک، پاکستان کی کامیابیوں کے پیچھے ایک نام بار بار سامنے آتا تھا: سہیل عباس۔
لیکن افسوس...
نہ اس پر کوئی فلم بنی۔
نہ کوئی بڑا ڈرامہ۔
نہ کوئی یادگار۔
نہ کوئی مجسمہ۔
آج کی نسل کے بہت سے نوجوان شاید اس عظیم نام سے بھی واقف نہیں۔
یہ صرف ایک کھلاڑی کو بھولنا نہیں...
یہ اپنی تاریخ کو بھولنا ہے۔
یہ اپنے اصل ہیروز کو فراموش کرنا ہے۔
ہم فلمی کرداروں اور وقتی شہرت رکھنے والوں کو تو یاد رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں بلند کرتے رہے، خاموشی سے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
سہیل عباس صرف ایک کھلاڑی نہیں...
وہ پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی آخری روشن یادوں میں سے ایک ہے۔
🏑🇵🇰 سہیل عباس ہمارا فخر ہے، ہمارا ہیرو ہے، ہماری تاریخ ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے اصل ہیروز کو وہ مقام دینا چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں، تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ نئی نسل جان سکے کہ دنیا کی ہاکی کا سب سے بڑا گول اسکورر پاکستانی تھا!
سہیل عباس زندہ باد!
پاکستان ہاکی زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰❤️
منقول
ظلم کی انتہا دیکھئے
صبح سویرے قریباً 4 ماہ کا بچہ اسپتال کے مین گیٹ پر بنا کسی وارث کے ایک فروٹ کی ٹوکری میں پایا گیا۔
اسپتال میں موجود اسٹاف نے کسی بچی سے کپڑے ادھار لے کر اس بچے کو پہنائے۔
خیر بچہ اس وقت اسپتال انتظامیہ کی تحویل میں ہے ایک ہفتہ کسی وارث کا انتظار کیا جائے گا اور اسکے بعد بچے کو لاہور میں کسی ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں اس بچے کیلئے اچھے والدین کی تلاش کی جائے گی۔
بچے کی حرکات بتاتی ہیں کہ ماں کا دودھ بھی پیتا تھا اور ماں کی تلاش میں ہے۔
کافی حد تک امکانات ہیں کہ اغواء یا جائیداد کا معاملہ ہو گا کیونکہ اتنا خوبصورت بچہ کوئی کیسے یوں اسپتال کے دروازے پر چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ میری تو بڑی خواہش ہیں کہ بچے کے والدین مل جائیں۔
اگر اس بچے کی تصویر وائرل ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے بچے کے حقیقی والدین مل جائیں۔ (اِن شاء اللّٰه)
اس پوسٹ کا مقصد بچے کی لواحقین کی تلاش ہے۔
سو اس پوسٹ کو دل کھول کر شیئر کریں
شکریہ ۔
پاپردہ، حیادار اور حلال کمانے والی یتیم بیٹیاں
ان ٹک ٹاکرز کے منہ پر زوردار تمانچہ ہیں جو جسم دکھا کر ٹک ٹاک سے پیسے کما کر کہتی ہیں کہ ہمارا گزارہ نہیں ہوتا۔
دراصل ان کے شوق ہوتے ہیں، مجبوری نہیں۔
میں ان جیسی بیٹیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور واقعی معاشرے کے لیے یہ ویڈیو ایک سبق ہے۔
ٹرانسفارمر گرنے سے والدہ کی ڈیتھ ھوئی تھی واپڈا والوں نے کہا تھا کہ مرنے والوں کے لواحقین کو نوکری دیں گے چار سال سے ذلیل کر رہے ہیں نا نوکری دے رہے نا بات سنتے ہیں
سنا تھا گورے کے وقت میں کراچی کی سڑکیں دھلتی تھیں ہم نے شہبازشریف اور محترمہ مریم نوازشریف کے دور میں لاہور کی سڑکیں دھلتی دیکھی ہیں
وہ سنا تھا یہ دیکھا ہے
سردیوں میں گلے کی خراش اور کھانسی کو جھٹ پٹ ختم کرنے والا واحد گھریلو علاج —
کیا آپ جانتے ہیں؟
سردیوں میں ایک خاموش دشمن آپ کے گلے پر حملہ کرتا ہے —
گلے کی خراش، خشک کھانسی، سینے کا بھاری پن…
اور کئی لوگ دنوں تک بول نہیں پاتے۔
لیکن حیرت کی بات؟
گھروں میں موجود ایک بیج ایسا ہے جو گلے کو صرف ایک کپ میں نرم اور آرام دہ بنا دیتا ہے۔
❗ اصل مسئلہ
سرد ہوا گلے کی نمی کھینچ لیتی ہے، مٹی اور وائرس گلے کی نالی کو سوجا دیتے ہیں
اور نتیجہ:
کھانسی
جلن
کھٹاس
اور آواز بیٹھ جانا۔
قدرت نے ایک ایسا بیج رکھا ہے
جو گلے پر بالکل قدرتی کوٹنگ بنا دیتا ہے…
آواز صاف، کھانسی کم، خراش ختم!
اور یہ بیج ہے:
⭐ تخم ملنگا والا گرم مشروب (Basil Seeds Soothing Drink)
سردیوں میں — سب کو فائدہ دینے والا واحد آسان نسخہ
بنانے کا طریقہ
ایک چمچ تخم ملنگا لیں
آدھا کپ نیم گرم پانی میں 10 منٹ بھگو دیں
اب ایک کپ پانی گرم کریں
1 چمچ شہد
ایک چٹکی پسی دارچینی
بھیگا ہوا تخم ملنگا
شامل کریں
ہلکا سا گرم کر کے پی لیں
طریقہ استعمال
صبح خالی پیٹ 1 کپ
یا
رات سونے سے پہلے 1 کپ
حیرت انگیز فوائد
✔ گلے کی خراش اور جلن ختم
✔ کھانسی میں فوری آرام
✔ آواز صاف اور نرم
✔ سینے کی خشکی کم
✔ جسم کو اندر سے گرم رکھتا ہے
✔ قوتِ مدافعت بہتر کرتا ہے
تخم ملنگا ٹھنڈا، دارچینی گرم —
یہ مشروب متوازن رہتا ہے، سردیوں میں بہترین۔
کن لوگوں کو احتیاط
• جنہیں نزلہ بہت زیادہ رہتا ہو (مقدار کم رکھیں)
• بہت زیادہ بلغم والے افراد
• شوگر کے مریض شہد کم رکھیں
استعمال کی بہترین مدت
5 سے 7 دن — واضح فرق نظر آئے گا۔
اجاگر کرنیکا شکریہ رضی بھائ ۔۔ سلمان رفیق ایک ھفتے سے گھر نہیں آۓ ، صحت کے مسائل بھی ساتھ ھیں لیکن یہ اللّٰہ کا بندہ مسلسل فیلڈ میں ھے ،
ھر جگہ پہنچ رھا ھے لیکن میڈیا منجمنٹ اور نمائش سے بہت دور ۔ فون پر ایک ھی بات کہتے ھیں کہ تباھی بہت بڑی ھے، ھر طرف پانی ھے ، لوگوں کو ھماری ضرورت ھے ،جب بھی کام ختم ھوا لوٹ آؤنگا ۔۔ سلمان درحقیقت philinthiropist ھے۔ الحمد للّٰہ رب العالمین
جی اوئے ججا۔۔👏😁
شہری گاڑی میں نور جہاں کا گانا
"جھانجر دی پاوآں چھنکار"
اونچی آواز میں سن رہا تھا۔
پولیس نے"ساونڈ ایکٹ"کے تحت FIR کر دی۔
جج کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو جج نے یہ کہہ کر FIR ختم کر دی کہ
"نور جہاں کا گانا سننے کا مزا اونچی آواز میں ہی آتا ہے"🤣