ہم پتلونیں چوکوں میں لہرائیں گے تمھارا برگیڈ ہیڈ کوارٹر نہیں بچے گا ۔
گولی اگر چلی تو ادھر سے بھی گولی ماریں گے
ایکشن کمیٹی ان دھمکیوں کے ساتھ لانگ مارچ شروع کرنے جا رہی ، گولی ادھر سے بھی چلے گی مطلب اسلحہ سے لیس افراد لانگ مارچ میں شریک ہونگے، پتلونیں چوکوں میں لہرائیں گے یعنی یہ فورسز پر حملہ کریں گے؟؟
کیا یہ پر امن مارچ کرنے جا رہے ہیں؟
اگر انھوں نے انتشار کے لیے لانگ مارچ میں شریک افراد پر فائرنگ کرکے الزام سکیورٹی فورسز پر لگا دیا تو؟؟
#سیاست_نہیں_ریاست
@Hijab29392 کہنے لگا تھا کے جب یہ کام شروع ہوتے ہیں تب نظر کیوں نہیں رکھی جاتی پھر ایک پوائنٹ پڑھا کے صوبے کے انڈر تھا سب کچھ پھر سوچا اگر وفاق نے ہی سب کچھ کرنا ہے تو صوبائی حکومتیں بنانی ہی نہیں چاہیے
لیاری ایکسپریس وے آباد کاری منصوبہ سکینڈل...
قومی خزانے کو 16 ارب روپے سے زائد کا نقصان کیسے پہنچایا گیا؟؟
ہوشربا انکشافات
1960 اور 1970ء کی دہائیوں سے کراچی میں روزگار کی تلاش میں آنے والے لاکھوں غریب خاندانوں نے لیاری ندی کے دونوں اطراف (شمالی اور جنوبی کناروں پر) کچی آبادیاں قائم کر لیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں پکے مکانات، دکانیں، اسکول اور مساجد بھی بن گئیں، جنہیں حکومت کی جانب سے بجلی، گیس اور پانی کے کنکشن بھی فراہم کر دیے گئے تھے
سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کراچی میں بےہنگم ٹریفک اور اس کے نتیجے میں دباؤ کو کم کرنے کے لیے لیاری ایکسپریس وے بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اس منصوبے کا روٹ لیاری ندی کے عین اوپر اور اس کے کناروں کے ساتھ طے پایا۔
لیکن مسئلہ تھا اس جگہ غیر قانونی طور پر آباد ہونے والے 24,400 سے زائد خاندان جو کہ اڑھائی لاکھ افراد پر مشتمل تھے کہ یہ کہاں جائیں
چنانچہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ان کی داد رسی کرنے کی درخواست کی اور بھاری فنڈز کی یقین دہانی کرائی
2000ء کی دہائی کے آغاز میں وفاقی اور سندھ حکومت کے اشتراک (67% وفاقی اور 33% صوبائی فنڈنگ) سے ان بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے "لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پراجیکٹ" شروع کیا گیا،
جس کے تحت وعدہ کیا گیا تھا کہ:ہر متاثرہ خاندان کو متبادل کے طور پر تیسر ٹاؤن (تیسر ٹاؤن سکیم 45) یا ہاکس بے میں 80 گز کا پلاٹ دیا جائے گا۔گھر بنانے کے لیے 50 ہزار روپے نقد اور تعمیراتی سامان دیا جائے گا
اور یہاں سکول مارکیٹ مسجد بجلی گیس پانی فراہم کیا جائے گا
لیکن اب 26 سال گزرنے کے بعد وزیراعظم کی آڈٹ ٹیم نے جب اس منصوبے کا اڈٹ کیا تو لیاری کے بےگھر غریب اب بھی بےگھر تھے جبکہ کاغذات میں ہر غریب کو پلاٹ مل چکے تھے ، جس کے بعد مئی اور جون 2026ء میں نیب نے انکوائری کو باقاعدہ ایک بڑی تحقیقات (Formal Investigation) میں تبدیل کر دیا.
چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ نیب کے چھاپوں کے دوران ہزاروں ایسی فائلیں برآمد ہوئیں جن پر لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ایگزیکٹو انجینئرز کے جعلی دستخط اور بوگس الاٹمنٹ آرڈرز موجود تھے۔ برآمد شدہ فائلوں میں سے تقریباً 65 فیصد فائلیں جعلی پائیں گئیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ لینڈ ڈیپارٹمنٹ محکمے کے اندر کالی بھیڑیں اس پورے فراڈ میں برابر کی شریک تھیں۔
جب گراونڈ پر چیک کیا گیا تو
ان ویلفیئر پلاٹس پر ارب پتی افراد کے 20 پرتعیش بنگلے تعمیر تھے جو کئ کئ کنال پر محیط تھے
ایک بڑا کمرشل پروجیکٹ " درویش ٹاور پلازہ" بھی زیر تعمیر تھا جس میں اپارٹمنٹس/دکانوں کی دھڑادھڑ فروخت جاری تھی اور یہاں بھی سادہ لوح شہریوں کی لائف سیونگز (عمر بھر کی کمائی) کو جعلی فائلوں اور غیر قانونی دستاویزات کے ذریعے لوٹا جا رہا تھا چائنہ کٹنگ سے سینکڑوں پلاٹ بن چکے تھے اور فروخت ہو چکے تھے ان پر مکانات بھی بن چکے تھے
نیب کی جانب سے ان تمام جگہوں کو سرکاری مہر لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا نیب نے کارروائی کو مزید وسعت دیتے ہوئے دیہہ کوہستان میں واقع 25 ایکڑ کی وسیع و عریض اراضی کو بھی اپنی تحویل میں لیتے ہوئے سیل کر دیا جو اسی منصوبے کا حصہ تھی
اگرچہ یہ وفاق اور صوبے کا ایک مشترکہ منصوبہ تھا (جس میں وفاق کا 67 اور سندھ حکومت کا 33 فیصد حصہ تھا)، لیکن زمین کی فراہمی، ریکارڈ کی دیکھ بھال، اور الاٹمنٹ کے نظام کی نگرانی مکمل طور پر صوبائی انتظامیہ اور لوکل گورنمنٹ کی ذمہ داری تھی۔ مگر سندھ حکومت میں لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران کھل کر کھیلتے رہے سندھ کے امیر خاندان غربا کی زمین پر چڑھ بیٹھے تاہم سندھ حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا
لیاری ایکسپریس وے آباد کاری منصوبے میں تیسر ٹاؤن اور دیہہ کوہستان میں جو 25 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی اور 9,000 سے زائد پلاٹس چائنا کٹنگ کی نذر ہوئے، وہ ریاستِ پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھے جن کی کل مالیت کا تخمینہ تحقیقاتی اداروں (نیب) نے مارکیٹ ریٹ کے مطابق لگ بھگ 16 ارب روپے لگایا۔
یعنی لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن اور سندھ حکومت کی نااہلی نے حکومتی خزانے کو 16 ارب کا چونا لگایا
ڈی جی نیب کراچی کی ہدایت پر ملوث افسران اور مبینہ ڈیلرز کے خلاف کیس درج کر لیے گئے نیب نے ملوث مشتبہ افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL/PCL) میں شامل کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔
حجاب رندھاوا
میر پور :غیر معمولی ٹرن آؤٹ
لمبی لائنوں میں کھڑے سینکڑوں ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اس کے لیے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کی جانب سے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا
#سیاست_نہیں_ریاست
آزاد جموں و کشمیر کے ضلع بھمبر میں عام انتخابات 2026 کے لیے پولنگ پرامن ماحول میں جاری ہے۔
🗳️ 3 لاکھ 42 ہزار سے زائد ووٹرز آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے
#سیاست_نہیں_ریاست
کچھ لوگ عوام کے حقوق کا راگ الاپ کر اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں، لیکن ان کا اصل مقصد ریاست کو بلیک میل کر کے اپنی ذاتی آمریت اور تجوریاں بھرنا ہوتا ہے۔"
جیسے ایکشن کمیٹی نےحقوق کے نام پر کئیے گئے اپنے پچھلے احتجاجوں میں حکومت کو بلیک میل کرکے 25 ارب روپے حاصل کئیے
#سیاست_نہیں_ریاست
جو شخص دین کو دنیا (مال و اقتدار) کمانے کا ذریعہ بناتا ہے، وہ اس قصاب کی طرح ہے جو گائے کو چارہ محبت سے نہیں بلکہ ذبح کرنے کے لیے ڈالتا ہے۔"
فضل الرحمن نے دہائیوں تک معصوم طالب علموں اور مذہبی نعروں کو صرف اس لیے پال کر رکھا تاکہ بوقتِ ضرورت اسلام آباد پر چڑھائی کر کے اپنی وزارتیں پکی کر سکیں، یہ دین کی آڑ میں خالصتاً کاروبار ہے
#سیاست_نہیں_ریاست
اقتدار کے شکاری کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، جس کی حکومت ہو وہ اس کے ساتھ سودا کر لیتا ہے
( نکولو میکیاولی)
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ حکومت مشرف کی ہو، زرداری کی ہو، نواز شریف کی ہو یا پی ڈی ایم کی یا موجودہ حکومت —مولانا ہر دور میں وزارتیں لے کر حکومت کا حصہ بنے رہے۔ ان کا کوئی مستقل نظریہ نہیں، صرف اقتدار کی ہوس ہے
#سیاست_نہیں_ریاست
ابنِ خلدون کہتا ہے سیاستدان جب مذہب کو ڈھال بنا کر اقتدار کی سودے بازی کرتا ہے، تو وہ ریاست کا سب سے بڑا مجرم ہوتا ہے۔"
فضل الرحمن نے ہمیشہ اسلام اور مدارس کے بچوں کو اپنے سیاسی وزن کے لیےاستعمال کیا۔ جب اقتدار مل جائے تو سب ٹھیک، اور جب اقتدار نہ ہو تو اسلام خطرے میں
#سیاست_نہیں_ریاست
آزاد کشمیر عام علاقہ نہیں، سرحد پر بیٹھی ہماری فوج کے پیچھے کا دفاعی زون ہے۔ جب ایکشن کمیٹیاں یہاں انتشار پھیلاتی ہیں، تو سرحد پار بیٹھا دشمن اس کا انٹرنیشنل میڈیا پر تماشہ بناتا ہے۔ ریاست کی بقا اس میں ہے کہ داخلی انتشار کو فوری روکا جائے۔
#سیاست_نہیں_ریاست
ایکشن کمیٹی کے دھرنوں جلوسوں اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا مشیر کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ عام مزدور کی دیہاڑی ماری جاتی ہے اور ریاست کی معیشت ڈوبتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہے، ایسے میں انتشار کی سیاست ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ اگر گلہ حکمرانوں سے ہے تو الیکشن کے دن ووٹ کی طاقت سے حکمرانوں کو گھر بھیجیں،
اپنے ووٹ سے نظام بدلیں
اگر اپ ووٹ کی بجائے انتشار کو ترجیح دیں تو مطلب صاف ہے اپ مسائل کا حل نہیں اضافہ چاہتے ہیں اور یہ کسی اور کا ایجنڈا ہو سکتا ہے
#سیاست_نہیں_ریاست