خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انتظامیہ نے تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی لگائی گئی تختیاں اور بورڈ اکھاڑ دیے، 'خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نہیں، پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے لگائی گئی ہے۔'، سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
لاہور سے سوشل ایکٹیوِسٹ ارم زہرہ کو والدہ سمیت گرفتار کر کے غائب کر دیا گیا ہے۔ عجیب کوئی بےشرمی ہے، کسی بہن بیٹی ماں کی زندگی محفوظ نہیں۔ یہ نظام آخر کس سے لڑ رہا ہے؟ اس نظام نے آخر کتنا نیچے گِرنا ہے؟ کیا پورے ملک میں تمام اداروں میں کوئی غیرتمند باقی نہیں جو یہ بول سکے کہ عورتوں پر طاقت دکھانا بند کرنی چاہئیے؟
ہو کیا گیا ہے آخر ملک کو۔!؟کوئی تو ذمہداری لے اس ملک کی۔ بس کریں خدارا بس کریں۔
کراچی میں آج ایک گھر میں پانچ افراد کی خودکشی۔پچھلے ہفتے ایک ڈاکٹر کی خاندان سمیت خودکشی۔ ملک میں اجتماعی خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ۔ افسوس، جن حکمرانوں نے اس کا تدارک کرنا ہے وہ خود عوام کی جانیں لینے میں پیش پیش ہیں۔
پرامن مظاہرین پر ریاستی غنڈہ گردی جاری، سیدھی گولیوں سے متعدد زخمی ۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خلاف عوام کا بھرپور احتجاج جاری ہے۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
3 Reasons for imposing Governor's Rule and an Emergency in KPK (Terrorism is only a cover story):
1. 70% of Pakistan's Hydel electricity is generated in KPK.
2. KPK produces 49% of Pakistan's crude oil (Kohat, Karak and Hangu) and 15% of Pakistan's natural gas (Karak, Kohat, Hangu, Bannu and Lakki Marwat).
3. Rare Earth Metals (Cerium, Lanthanum, Neodymium, Praseodymium, Samarium) deposits in Loe Shilman, (Khyber District), Sillai Patti, (Malakand), Swat–Dir belt, Koga, Jambil, (Warsak).
@PTIofficial
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
11 اکتوبر سے پہلے خیبرپختونخواہ کے علاوہ پورے پاکستان پر CEO محسن نقوی کا قبضہ تھا، عدالتیں انہوں نے احسن بھون، اعظم تارڑ اور منصور اعوان کے زریعے قبضہ کروائے۔ قومی اسمبلی پر شہباز شریف اور آصف زرداری کو فارم 47 پکڑوا کر ان دونوں سے نشر مکرر قبضہ کروایا۔
جہاں ان کی مرضی کی حکومت نہیں تھی، ان کی بات نہیں مانی جارہی تھی، ربڑ سٹیمپ کی طرح کوئی استعمال نہیں ہورہا تھا، خیبرپختونخواہ کے وسائل سرنڈر نہیں ہورہے تھے، مزاحمت دکھائی دے رہی تھی وہاں پر بدمعاشی سے 2 مہروں سے دستخط کروا کر 92 منتخب ممبران اور 4 کروڑ کی ابادی والے صوبے کے عوام کے ووٹوں کو چلتا کیا۔۔۔
یہ جبر وظلم آپ کے چہروں کا کلنک ہے، اس کو دھونے کیلئے آب زم زم بھی کافی نہیں ہوگی۔
انشاءالله بہت جلد آپ کی ریت سے بنی ہوئی دیوار کو گرائیں گے۔
مجبوراً ہمیں یہ کرنا پڑا ۰۰۰۰ ویر داخلہ محسن نقوی
مجبوری؟
جی ہاں مجبوری تھی کہ ہم عمران خان سے ایک ملاقات نہیں کرا
سکتے تھے اور اس لئیے صوبے کے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا پڑا
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔
میں 9 نمبر چونگی کے ساتھ ہی ہوں، جب یہاں سے نکلوں گا، میری بیٹی آمنہ ہاشمی میری گاڑی چلائے گی۔ میں کسی اور کو نہیں کہتا۔ مجھے یا اُسے گرفتار کریں، مجھے پروا نہیں۔
میں تو پوری رات مخدوم رشید میں نہیں تھا۔ لیکن ہماری نمبر ون ایجنسی کی عقلِ کُل کو داد دیں۔ ISI نے پورے شہر کو ہراساں کیا ہے۔ میرے اور میرے رشتہ داروں کے گھروں کے دروازے توڑے ہیں۔ چھتوں پر چڑھے ہیں۔ اسی دانش کے ساتھ یہ ملک چلا رہے ہیں!
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
Sohail Afridi has proved himself a tougher nut to crack,looking at the scenarios ultimately he will win the round and his stature as young leader of Pakistan will be solidified .. #Goodluck@SohailAfridiISF
Congratulations @BhagwantMann on taking Punjab's government schools from 27th out of 28 states to number one in four years. Real hard work, and it shows. With love, respect and appreciation from Pakistan. Your example will inspire not just India, but the whole region. Phattay Chak Tay
ایک صوبے میں ایک وزیر کو اٹھایا جا سکتا ہے، ایک دوسرے وزیر کو اٹھانے پر جب سیلف ڈیفنس میں گولی چلائی جاتی ہے تو اس پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور اس کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی۔ منتخب ایم این ایز کو گھروں اور سڑکوں سے اٹھایا جا سکتا ہے، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گھروں میں جا کر توڑ پھوڑ کی جا سکتی ہے۔
ڈی پی او کی تبدیلی صرف اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ آپ نے چیف منسٹر کو پروٹوکول کیوں دیا۔ جہاں چیف منسٹر کی مرضی کا ڈی پی او نہیں لگ سکتا، جہاں ڈپٹی کمشنر کسی کی مرضی کے تبادلے پر چارج نہیں لے سکتا، وہاں کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بھائی جان! ہمارے گھروں میں گھسنے پر ہم نہ آپ کو روک سکے اور نہ آپ نے ہم سے اجازت لی، تو باقی بھی خود کریں۔ ہماری اجازت کی کیا ضرورت ہے؟
اصل کہانی تو آج کھلی ہے۔ حکومت مذاکرات میں بڑی بڑی باتوں پر لچک دکھانے کو تیار تھی، مگر عمران خان تک رسائی کے معاملے پر ایسی دیوار کھڑی کر دی گئی کہ ذاتی معالج تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔اور سوال یہی ہے کہ آخر کیوں؟اب اطلاعات آئی ہیں کہ گزشتہ دنوں عمران خان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا اور لندن سے معالج بلانا پڑا۔
اگر حکومت ایک بیمار قیدی تک اس کے ذاتی ڈاکٹر کی رسائی بھی روک رہی ہے تو پھر شک تو پیدا ہوگا ہی کہ آخر پردے کے پیچھے کیا ہے؟ حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے؟