کیا مولانا فضل الرحمن کا بیٹا میجر عدنان شہید جتنی تنخواہ کی خاطر مادر وطن حفاظت کرتے ہوئے اپنے سینہ پر گولی کھائے گا ؟ جواب کا انتظار رہے گا
یہاں مورخ لکھے گا کہ اسد محمود میجر عدنان کی مونچھ کے وال برابر نہیں ہے
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
تاریخ ہمیشہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا نام سنہری حروف میں لکھے گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں واحد جج اور واحد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ہی آئے ہیں جنہوں نے سیاسی اور غیر سیاسی دبائو کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دلیری کے ساتھ 100 فیصد آئین و قانون کے مطابق فیصلے دی��ے، ایسی بزدلی بھی نہیں دکھائی کہ اہم مقدمات کو التواء میں ڈال کر فائلیں دبا دیں اور ثاقب نثار اور کھوسہ وغیرہ کی طرح بطور ٹائوٹ جج کام کرنے سے انکار کیا۔
دلیری اور آئین و قانون کی بالادستی ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کا فخر ہے۔
Five poor labourers were mercilessly murdered by BLA terrorists in Mashkhel area of Balochistan. The only reason behind this heinous crimes was the poor souls were punjabis are have Punjab domiciles.
Unfortunately, there has been no condemnation from many political leaders - specially those from Balochistan and are influential tribal khans or sardars. The human rights organisations are also silent.
Such barbaric acts are a black spot on face of humanity. They must be unequivocally condemned and rejected by every person of conscience, regardless of caste, colour, creed, ethnicity, or political affiliation.
بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان نے بتیس لاکھ کی لسی پینے کے علاؤہ کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں مولانا کے بیٹے بغیر ہاتھ پیر ہلائے ارب پتی بن گئے ایمبسی روڈ پر اربوں روپے کے دو بنگلے کیسے بن گئے تنقید کرنا آسان ہے لیکن شیشے کے گھر میں بیٹھ کر مولانا کو سوچنا چاہیے کہ ریاست ہے تو ان کی سیاست ہے
مولوی فضل الرحمان صاحب کا یہ کہنا کہ فوجی تنخواہ لیتا ہے، اس لیے اسی کی کام ہے کہ وہ جان قربان کرے، ایک شرمناک اور بے حس دلیل ہے۔ تنخواہ جان کی قیمت نہیں ہوتی۔ اگر پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے موت کا معاوضہ ہیں تو یہ دلیل دینے والے اپنے بیٹوں کو اسی رقم کے بدلے بارودی سرنگوں، دہشت گردوں اور دشمن کی گولیوں کے سامنے بھیج کر دکھائیں۔
سپاہی پیسے کے لیے نہیں مرتا، وہ اپنے حلف، غیرت اور قوم کی حفاظت کے لیے جان دیتا ہے۔
شاید مولوی فضل الرحمان کے لئے مشکل ہو لیکن ہر باوقار شہری وطن کے دفاع کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ سپاہی ہر وقت تربیت یافتہ، مسلح اور موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسے جان دینے کی نہیں، اس مستقل تیاری کی تنخواہ ملتی ہے۔ اپنے سیاسی جلدے اور دہشت گردوں کے حمایتیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر شہید کی قربانی کو تنخواہ سے تولنا دلیل نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے اور انتہائی بے شرمی ہے۔
چیمہ صاحب آپ معاشی وسائل شئیر کرنے کا ذکر کر رہے ھیں ۔ وجہ کشمیر کے ساتھ پاکستان کا لازوال رشتہ ھے۔ پاکستان نے اس رشتے کی آبیاری اپنے خون سے کی ھزاروں جانیں قربان ھوئ ھیں۔ ایک نہیں بھارت سے ساری جنگیں ایک اس ایشو پہ ھوئی ھیں ۔ جو ننگی زبان راولاکوٹ میں یا کسی اور جگہ استعمال ھو رہی ھے وہ تو پاکستان کے بد ترین دشمن بھی استعمال نہیں کرتے۔
This same Maulana Fazl ur Rehman calls Afghans his brothers and the brothers of all Pakistanis.
The same Afghans who carry out terrorism in Pakistan and celebrate when Pakistanis are martyred.
Shamelessness at its peak.
حافظ حمد اللہ کا اپنا بیٹا بھی پاک فوج میں ہے،،،اگر وہ خوارج ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو جائے تو کیا تب بھی مولانا فضل الرحمان اسے تنخواہ کا طعنہ دے گا کہ شہید ہوا تو کیا ہوا تنخواہ بھی تو لیتا تھا؟
پانچ مزید جنازے پنجاب آ رہے ہیں اس سے پہلے دس لاشیں آٹھ لاشیں سات لاشیں پندرہ لاشیں اور یوں ہی گنتی چلتی رہے گی
پیپلزپارٹی کے وزیراعلی کے معاون نے مذمت کر دی ہے نوٹس لے لیا ہے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے
پہلے والی تحقیقات کہاں تک پہنچی ؟
مولانا فضل الرحمن فرماتے ہیں کہ فوجی شہید ہونے کی تنخواہ لیتے ہیں۔
مولانا صاحب تو کیا سیاست دان تنخواہ اور مراعات صرف انتشار اور لوٹ کھسوٹ کے لئے لیتے ہیں؟
پاکستان میں 2900 روپے میں 20 کلو آٹا مل رہا ہے آزاد کشمیر میں 2100 روپے میں 40 کلو مل رہا ہے پاکستان میں بجلی فی یونٹ 55 روپے اور آزاد کشمیر میں 3 روپے فی یونٹ ہے یہ دونوں فیصلے “سیاسی حل” کے طور پر کئے گئے تھے لیکن آزاد کشمیر میں غصہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا https://t.co/QFMGuEuPsU