غربت اور بے روزگاری میں اضافہ
سرمایہ کاری میں کمی
لگاتار برین ڈرین
تجارتی خسارے کے نئے ریکارڈ
قرضوں کی تاریخی بھرمار
مہنگائی کا شدید بوجھ
لیوی اور اضافی ٹیکسز کے نام پر ڈکیتی
اور بھی کئی ترجیحی کمالات ہیں آپکے
سٹریٹ موومنٹ سہیل آفریدی اپنی مرضی سے روک لیں
گلگت الیکشن میں اپنی مرضی سے نہ جاہیں
محسن نقوی سے خفیہ ملاقاتیں اپنی مرضی سے کریں
صوبائی بجٹ سرپلس، شہباز، احسن اقبال ، مولانا سے مرضی سے ملیں
لیکن خان رہائی تحریک ، قیادت کرے یا خان کا حکم آئے۔۔۔۔۔واہ
جب جی ایچ کیو کے جرنیلوں کی اندھی تقلید اس نہج پر پہنچ جائے کہ وہ وطنِ عزیز کے محبوب ترین لیڈر کے انسانی حقوق کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو شہید کریں پھر ان شہداء کی شہادت پر خوشیاں بھی منائیں اور غلاظت بکیں، تو یہ اخلاقی دیوالیہ پن کی آخری حد ہے۔ فوج اپنی جگہ، لیکن جو جتھہ دھرتی کے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی حفاظت اور انکا احترام بھول جائے، وہ کبھی اس ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔
اخے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم ریاست ہیں
مخے تم امریکہ کے پالتو کتے اور اسرائیل کے پالتو سؤر ہو
@KlasraRauf کتے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ غریب روٹی چھوڑ کر بجلی کے بل دے رہا ہے۔ اور بے غیرت تیری بکواس ایک ہی چیز پر شروع ہو کر اس پر ہی ختم ہو جاتی ہے ۔ لعنت تیری شکل ہر اور بدعائیں تیری اولاد کے لئے۔ جیسے مظلوم پاکستانی ماں باپ جوان اولاد کے جنازے پڑھ رہے ہیں ویسے ہی تیرا نمبر بھی آئے
راولاکوٹ غزہ کا منظر پیش کر رہا ہے- پاکستانی فورسز کس کی ایما ء پر قتل و غارت کر رہی ہیں- ریاستی دہشتگردی کسی صورت قبول نہیں- اندھیری رات میں بجلی بند کر کے شرکائے پُرامن احتجاجی دھرنا پر اسٹریٹ فائرنگ 7 افراد کی شہادت اور درجنوں زخمیوں کی اطلاعات ہیں-
پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے مقامی پولیس کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں-
ہم حکمرانوں کو متنبی کرتے ہیں کہ خون کی ندیاں بہانا بند کرتے ہوئے فی الفور ہمارے تسلیم شدہ جائز حقوق پر عملدرآمد کرو، پاکستانی فورسز کو فی الفور واپس کرو-
ہم اپنے جائز بنیادی حقوق سے کسی قیمت پر دستبردار نہیں ہو سکتے-عمر نذیر کشمیری
مولانا فضل الرحمان کی سیاست عموماً موقع پرستانہ اور مفادات کے گرد گھومنے والی ہے اور وہ اپنے سیاسی مقاصد اور اقتدار کے حصول کے لیے مذہب کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مولانا کی سیاست میں نظریے کے بجائے اقتدار کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے، وہ ماضی میں ہر حکومت چاہے وہ پیپلز پارٹی کی ہو، مسلم لیگ (ن) کی ہو یا فوجی ڈکٹیٹروں کا دور، ہر ایک کا حصہ بن کر اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات حاصل کرتے رہے ہیں، مولانا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ ہیں، لیکن ان کی زیادہ تر سیاست مدارس اور عوام کے مذہبی جذبات کو استعمال کرکے حکومتوں پر دباؤ ڈالنے تک محدود رہتی ہے، مولانا کے بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد ہوتا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ (فوج) پر تنقید بھی کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہی سے خفیہ مذاکرات بھی کرتے ہیں، اسی طرح اپوزیشن میں رہ کر حکومتوں کو گرانے کے دعوے کرنا، لیکن خود حکومت میں شامل ہوکر تمام تر مراعات سمیٹنا ان کی منافقانہ سیاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے، مولانا فضل الرحمان ان کی سیاست کا مقصد صرف اور صرف ملک میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ اور مراعات برقرار رکھنا ہے۔
#مینڈیٹ_چوروں_کی_سرکار
رجیم چینج سازش کے بعد آنے والی تبدیلیاں۔
1) لوگوں نے نیوز چینل دیکھنا چھوڑ دیا
2) کرکٹ دیکھنا ختم کر دی
3) اخبارات بند کروا دئیے
4) لوگوں نے ملی نغمے سننا چھوڑ دیے
5) فوج اور ایجنسیوں سے اعتبار اٹھ گیا
6) سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نفرت ہوگئی
7) کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں سے گھن آنے لگی
8) مذہبی جماعتوں کی منافقت مذید عیاں ہو گئی
9) فتویٰ ساز ملاں ننگے ہو گئے
10) عمران خان کی عزت و احترام دل میں اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔
میں وہ نواز شریف ہوں جس کے 21 اکتوبر، 2023 کو کبوتر اڑاتے ہوئے پاکستان پہنچتے ہی مجھ پر تنقید کرنے والی ہر آواز کو آف ایئر کر دیا گیا۔
میں وہ نواز شریف ہوں جو ڈاکٹر یاسمین راشد سے 8 فروری، 2024 کو فارم 45 کے مطابق بری طرح سے ہار کر فارم 47 پر اگلے دن جیت گیا۔
میں وہ نواز شریف ہوں جو عمران خان کو بےگناہ ہونے کے باوجود ناحق جیل میں قید کروا کر بھی خان سے ہار گیا۔
میں وہ نواز شریف ہوں جس نے "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگا کر عوام سے ان کا ووٹ چوری کر کے اقتدار جھپٹ لیا۔