یقین مانیے! عمران خان کے پاس بہت موقع تھا کہ وہ اس ملک کے لیے کچھ کرتے۔ ان کے پاس تمام تر اختیارات تھے، تمام ادارے ان سے کارکردگی کے خواہاں تھے۔ میڈیا پر مثبت رپورٹنگ کا چلن تھا ۔ کسی کی جرات نہ تھی کہ تنقید کا ایک حرف بھی زبان سے ادا ہو، عدالتیں مطیع تھیں، ادارے شکر گزار تھے، غنیم سارے پس زنداں تھے، سوشل میڈیا پر گرفت مضبوط تھی۔ الیکٹرانک میڈیا مجبور تھا۔ ایسا موقع اور محل تو کبھی کسی ڈکٹیٹر کو بھی میسر نہیں ہوا۔ اتنی رعایت تو اس نطام میں آمروں کو بھی نہیں ملی لیکن خان صاحب نے اس موقع کو نفرت کی ترویج میں برباد کیا۔ انتقام کی تقلید میں ضائع کیا۔ اختلاف کو اپنا شعار بنایا۔ گالم گلوچ کو ہر سطح پر مروج کیا۔ اپنے احباب کی غلطیوں سے پردہ پوشی کی۔ عثمان بزدار کو اپنا ہیرو قرار دیا۔ توشہ خانہ میں ہاتھ مارے۔ نااہلوں کی فوج اپنے گرد جمع کی، یوں بے شمار لوگوں کے خواب مسمار کیے۔
اگر عمران خان اپنی کوئی کارکردگی دکھاتے تو اس ملک پر تاحیات حکمرانی کر سکتے تھے۔ اگر ان منشور عوام کی فلاح ہوتا تو وہ بہت کچھ کر سکتے تھے مگر انہوں نے یہ وقت صرف انتقامی کاروائیوں میں برباد کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب آپ ہر وقت نفرت پھیلانے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ خود اس نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہٹلر سے لیکر عمران خان کی ایک ہی کہانی ہے۔ اس داستان میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ کرداروں کے نام بدلتے رہے مگر تاریخ نے کہانی ایک ہی لکھی ہے۔ جو خود کو اہم سمجھتے ہیں تاریخ ان کا یہ وہم رفع کر کے ہی رہتی ہے۔
عمار مسعود
محسن نقوی خود تو کونسلر بھی نہیں بن سکتا تھا اپنے مائی باپ کی وجہ سے دو دو عہدے لے کر بیٹھا ہے: اہل پٹوار
یہ سن کر مریم نواز اور مریم اورنگزیب ہنستے ہنستے پشاں ڈگ گئیں
فواد صاحب، آپ کو اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہیے کیونکہ تمام دستاویزات ایشیائی ترقیاتی بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، تمام ڈیٹا شیٹس وہاں موجود ہیں، اس حکومت نے کوئی تاخیر نہیں کی آپ دستاویزات پڑھیں تو معلوم ہو جائے گا۔
آپ جس حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں، اسی جماعت نے دو ہزار سترہ میں اس منصوبے کی منظوری لی تھی (دوسری تصویر دیکھیں)، حتی کہ ٹینڈر بھی انہی کے دور میں ہوئے (تیسری تصویر دیکھیں)، کانٹریکٹ ایوارڈ بھی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئے (پانچویں تصویر دیکھیں) کانٹریکٹ ایوارڈ بھی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئے (چوتھی تصویر دیکھیں)۔ اس وجہ سے حکومت پر مدعا نہ ڈالیں کیونکہ اس نہر کے لئے پیسا ایشیائی ترقیاتی بینک نے جاری کرنے تھے اور وہ پیسا انہوں نے آڈٹ کے بعد کرنا تھا۔
جس منصوبے کا کریڈٹ آپ لے رہے ہیں، اس کی ابتدا اور تکمیل میں آپ کے مخالفین کا بھی ہاتھ ہے، ہماری قوم کی بدقسمتی یہی ہے کہ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کے اچھے کاموں کا کریڈٹ نہیں دیتے اور پھر روتے پھرتے ہیں کہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
''اس ملاقات میں جنرل مشرف تھے‘ میرے عزیز دوست اور اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد اور میں تھا ۔صدر دیمرل(ترک صدر) نے انتہائی تحمل اور بردباری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
۔
''جنرل! مجھے عملی سیاست میں پچاس برس سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس طویل عرصے میں جس عمل نے میرے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘
وہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہے۔ ہمارے جرنیلوں کے دماغ میں بھی یہ خنّاس تھا کہ وہ ملک کو سدھار سکتے ہیں لیکن ہر بار وہ جب اپنا تماشا دکھا کے واپس بیرکوں میں گئے تو حالات پہلے کی بہ نسبت اور خراب کر گئے۔
۔
جنرل! دنیا کی کوئی فوج کسی ملک کی تقدیر نہیں سنوارسکتی۔ یہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے اور تمہیں میں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں‘ لہٰذا بڑا بھائی ہونے کے ناطے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنی جلد ہو سکے‘ اقتدار سیاستدانوں کو واپس کرو اور اپنی بیرکوں کو لوٹ جائو‘‘۔
۔
''میں دیکھ رہا تھا کہ جنرل مشرف کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور دوسرا جا رہا تھا۔ وہ کیا سوچ کر آئے تھے اور ماجرا کیا ہوا۔ دیمرل صاحب نے تو ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
شاباشی دینے کے بجائے کان مروڑ دیے۔
۔
ملاقات ختم ہونے پر باہر نکلے تو مجھ سے اور شمشاد سے فرمایا:''یہ صدر دیمرل کچھ زیادہ ہی نہیں کہہ گئے؟‘‘۔
.
وہاں سے اگلی ملاقات کے لیے وزیر اعظم بلند ایجوت کے دفتر پہنچے تو ایجوت صاحب الگ چھریاں تیز کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سلیمان دیمرل کے مقابلے میں فوج کے بہت زیادہ ڈسے ہوئے تھے۔ -
۔
''ایجوت صاحب نے تو ایک مرحلے پر تفریح لینے کے لیے جنرل مشرف سے کہا: جنرل ! ہمارے دونوں ملکوں میں بہت سی اقدار مشترک ہیں اور اب تو ہم اس اسکور میں بھی برابر ہو گئے کہ دونوں جگہ جرنیلوں نے چار بار سیاسی عمل میں رخنہ ڈالا ہے۔ایجوت کے اس سنگین مذاق پر جنرل مشرف کا منہ لٹک گیا لیکن کیا کرتے بات بالکل درست تھی‘ لہٰذا کڑوی کسیلی گولی نگلنی پڑی۔ یہ تو کہہ نہیں سکتے تھے کہ ترک انہیں گھر بلا کر جھاڑ پھٹکار رہے تھے۔ اس لیے کہ موصوف تو خود ہی ترکی دوڑے آئے تھے‘‘۔
۔
سفیر کرامت غوری کی کتاب سے ۔۔
ایک خبر میں بتایا گیا اسلام آباد میں سال میں ایک لاکھ طلاق اور خلع کی درخواستیں ا رہی ہیں ، اس پر ردعمل یوں ہے ، " خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے"
یہ پرانا فرسودہ ' خاندانی نظام ' تباہ ہی ہونا چاہئے ، اور ہو کر رہے گا۔۔۔ قبائلی اور فیوڈل معاشرے کا خاندانی نظام پدرسری پر مبنی تھا، کمائی کا ذریعہ سورس ایک ہوتا تھا ، باقی سب اس کا کھاتے تھے، شادیاں ہوتی جاتی سب ایک ہی جگہ رہتے ، ایک بزرگ کی حکمرانی ہوتی تھی، بزرگ عورتیں خوب جذباتی بلیک میل کرتی تھی،
مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے ، لڑکیاں لڑکے تعلیم یافتہ ہیں، ان کے اپنے اپنے کیرئیر ہیں۔۔ سب کا مل کر رہنا ناممکن ہو چکا ہے ،
طلاق یا خلع کی شرح میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ خاص طور پر خواتین میں اپنی ذات کی اہمیت اور ازادی کا تصور بڑھ رہا ہے ، اب وہ ہر قیمت پر کسی برے یا غیر مطابق شخص سے مجبوری کی زندگی گزارنے کی بجائے۔۔ وہ اپنی ازادی کو زیادہ اہم سمجھتی ہے ، خواہ اسے سنگل ہی کیوں نہ رہنا پڑے ۔
ساتھی کے چناو میں غلطی ہو سکتی ہے ۔۔ غلطی کو درست کیا جاتا ہے اس کے ساتھ زندگی برباد نہیں کی جا سکتی ، جو ون ٹائم ایونٹ ہے ۔۔
طلاق اور خلع بالکل taboo نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ غلطی کی درستگی ہے اور اپنی زندگی اور اپنی خوشی کو قیمتی سمجھنا ہے ۔
سر ارشد محمود
I have said and written it repeatedly that the current wave of militancy is far more dangerous on multiple fronts than the one existed between 2005 and 2016.