السلام علیکم
لوگوں کے لئے ایک کھلی کتاب نہ بنیں ہر کسی کو اپنا سمجھ کر اپنے راز نہ بتائیں دوسروں کے لئے اپنی ذات کے پردے نہ کھولیں کیونکہ لوگ آپ کو جاننے کے بعد آپ کی عزت اور احترام کرنا کم کر دیتے ہیں لوگوں کی کیا بات ہے لوگ آپ کو اتنا ہی سمجھتے ہیں جتنی انکی اوقات ہوتی ہے
السلام علیکم؛
زندگی کے جس مقام پر بھی روشنی نظر آئے اسے تھام لینا چائیے یہ سوچے بنا کہ اس پر ہمارا حق ہے کہ نہیں
کیونکہ روشنی صرف انہی کو دکھائی دیتی ہے جن کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں اس کی تلاش جاری ہوتی ہے۔
زندگی صرف میرے شناختی کارڈ پر گزر رہی ھے اور میرا جسم بغیر کچھ تخليق کیے ہی ناکارہ ہو رہا ھے جسم کے ساتھ پڑی میری روح یہاں وزنی ہو رہی ھے یادوں ، تلخیوں اور پچھتاو ؤں کے بوجھ سے ____
مجھے معلوم ھے وقت گزر رہا ھے کیوں کہ میرے فون کے کلینڈر آدھی رات کے وقت ہندسے تبدیل ہوتے جاتے ہیں اپنی نئی اور پرانی موسیقی کا موازنہ کیا تو پتہ چلا کہ میں اب بھی وہی پرانے سالوں والا لڑکا ہوں ____
وہ لمحہ جب میں نے کال پر آخری بار اس کی سانسیں محسوس کی ۔۔۔اس کے بعد ہمارے درمیان کچھ نہیں رہنا تھا۔۔۔۔
وہ لمحہ____
وہ پیار کا آخری لمس اور لمحہ تھا جو ہم نے کچھ منٹ ایک دوسرے سے گلے کیے اور ہمیشہ کی طرح اس کی وہ ہی پرانی باتیں جن سے منع کیا کرتا تھا___
وہ مجھ پہ اتنے بھید کھول گئی کہ سینکڑوں کتابیں بھی پڑھ لیتا توسمجھ نہ آتی۔
سب سے بڑا بھید تو یہی ھے کہ___
”زندگی بہت بڑا بھید ھے مگر موت سے بڑا نہیں“
صبرشاید آ جاتا ہو مگر جدائی کا کرب ہمیشہ ڈستا رہتا ھے
۔ یہ خلا کبھی نہیں بھرتا
زمین اور آسمان ایک دوسرے کے روبرو ہیــــــــں پر فاصلہ ایک حکم کا ھے جب #رب چاہیے گا مل جائیں گے ___
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ہم میں بھی یہ ہی فاصلہ ھے جو #رب کے حکم کا انتظار کر رہے ہیـں ___
یا شاید ____ہمیں بھی ملن کے لیے حشر کا انتظار کرنا پڑے گا