میں انکا کوئ بھی جھوٹا ڈرامہ چلنے نہیں دینا جو کنٹینر پر نماز پڑھ رہا تھا وہ بھی مسلمان ہی تھا اسکو نیچے کیوں گرایا تھا نماز پڑھتے بتائو یہ ڈرامے اب ہم نہیں مانتے
میرے ننھے فرشتے عمر راٹھور کے لیے انصاف کی آخری پکار…! دنیا کے منصفو خدا راہ اپنے پیارے بچوں کو سامنے رکھ کر انصاف کرو اور مظلوم کی بددعا سے ڈرو۔
ایک باپ نے اپنے چار سالہ معصوم بیٹے عمر راٹھور کے انصاف کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں نظرِ ثانی کی درخواست (Review Petition) دائر کر دی ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ نے عمر کے درندے قاتلوں کو دی جانے والی دو دو بار سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ جو کہ انصاف کا سراسر قتل اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ میرا ججز صاحبان سے ایک مودبانہ سوال ہے کہ اگر میرے بچے کی جگہ آپکے بچوں کے ساتھ ایسا ظلم ہوا ہوتا تو پھر بھی آپ قاتلوں کی سزا کم کرتے کبھی بھی نہ کرتے بلکہ آپ کہتے کہ انکے سو سو ٹکڑے کر کے کتوں کے آگے ڈالو۔ یہ آپ کا فیصلہ ہوتا۔ تو عمر بھی تو کسی کی جان کا ٹکڑا اور اس ملک کا شہری تھا۔ اسے انصاف بہم پہنچانا ریاست کا کام ہے۔
چھ سال گزر گئے. لیکن ایک باپ کے دل پر لگے زخم آج بھی ویسے ہی تازہ ہیں۔ ہر صبح عمر کی یاد سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات اس کی معصوم مسکراہٹ آنکھوں میں آنسو بن کر اتر آتی ہے اور عمر پر بیتا ہوا ظلم یاد آتا ہے۔ کوئی عدالت، کوئی فیصلہ اور کوئی وقت ایک باپ کی گود واپس نہیں لا سکتا، مگر انصاف اس زخم پر مرہم ضرور رکھ سکتا ہے۔
میرے 5سالہ معصوم بچے کو اغوا برائے تاوان کے بعد انتہائی بے رحمی سے دسمبر 2019 کی شدید ٹھنڈی اور ٹھٹر تی ہوئی راتوں میں ٹیپوں میں جکڑ کر ہاتھ،منہ اور پاوں باندھ کر زندہ بچے کو ایک الماری میں بند کر کے قتل کیا گیا تھا۔ جس کی ٹیپوں میں جکڑی ہوئی نعش دیکھ کر پوری انسانیت کانپ اٹھی تھی۔ مقدمے کے ٹرایل کے دوران فنگر پرنٹس، ڈی این اے،ملزمان کے اعترافی بیانات اور دیگر مضبوط شواہد عدالتوں کے سامنے پیش ہوئے۔ معزز سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ اسلام آباد نے انہی ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو دو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی ۔ سزا یافتگی برقرار رہی، لیکن صد افسوس کہ انصاف کی سب سے بڑی عدالت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر کے انصاف کا قتل کیا اور درندوں کو مزید ظلم کرنے کا لاہسنس جاری کر دیا۔ جو سو بار اور سرعام پھانسی کے حقدار تھے جنہوں نے ایک ننھے پھول پر بلاوجہ قیامت ڈھائی تھی۔وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
میں نہایت ادب اور احترام کے ساتھ معزز جج صاحبانِ سپریم کورٹ آف پاکستان سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ میری نظرِ ثانی (Review petition) کی درخواست پر قانون، انصاف اور اس جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا جائے۔ معصوم بچوں کا اغوا اور قتل صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اور یہ فساد فی الارض اور معاشرتی جرم ہے۔
میں وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل ، چیف جسٹس آف پاکستان، حکومتِ پاکستان، وکلاء برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور میڈیا سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ایک مظلوم باپ کی آواز سنیں۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔ تاکہ مظلوم کی داد رسی ہو سکے۔
میں پاکستان کے ہر باپ، ہر ماں، ہر بہن، ہر بھائی اور ہر باشعور شہری سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آج ہم عمر راٹھور کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو کل کسی اور معصوم بچے کے والدین بھی اسی اذیت سے گزریں گے۔ جس سے ہم گزر رہے ہیں۔
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کمنٹ کریں اور اپنی آواز بلند کرکے متعلقین تک پہنچائیں کہ وہ ایسے ناسور درندوں کو عبرت ناک سزا دے کر معاشرے کے ہر بچے کو محفوظ بنا ہیں۔ تاکہ یہ پیغام پاکستان کے ہر کونے تک پہنچے اور انصاف کی یہ فریاد ہر ذمہ دار ادارے تک سنی جائے۔
یہ صرف میرے بیٹے عمر راٹھور کی جنگ نہیں، یہ پاکستان کے ہر معصوم بچے کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔
میں اپنے بیٹے کو واپس نہیں مانگتا… میں صرف انصاف مانگتا ہوں اور اسکے لئے میں آخری حد تک جاؤں گا۔ سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان درندوں کی سزائے موت بحال کر کے معاشرے کے لیے نشان عبرت بناۓ۔
عمر راٹھور کے لیے انصاف — پاکستان کے ہر معصوم فرشتے کے لیے انصاف۔
#JusticeForUmarRathore #انصاف_برائے_عمر_راٹھور #SaveOurChildren #JusticeForChildren #Pakistan
جب مراعات اور بلیو پاسپورٹ سے متعلق بل سینیٹ میں پیش ہوا تھا تو اس پر میرا موقف بہت واضح تھا۔ اور ان قائمہ کمیٹیوں کا ہم حصہ نہیں ورنہ وہاں بھی اس کی ایسے ہی مخالفت کرتے۔
اپنے بغض میں اندھے نہ ہوا کریں
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیفا ارجنٹینا کے خلاف مبینہ ناانصافی کی یہ ویڈیو بار بار ہٹا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مصر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کو فراموش نہ کیا جائے۔
محترم وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل افریدی صاحب، ابھی تک ائی ایس ایف کا یہ شہید نوجوان عبداللہ خانزادہ انصاف کا منتظر ہے،
اپنی حکومت میں بھی انصاف نہیں ملے گا تو کب ملے گا؟
@SohailAfridiISF
🚨 اہم پیغام: آئی ایل ایف (انصاف لائرز فورم)
تمام وکلاء سرفراز ڈوگر کی عدالت کے باہر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور قانونی دباؤ بڑھائیں۔ یہ شخص عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اگلے مرحلے (فیز) کی بھرپور تیاری کی جائے!
— علیمہ خان
مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا
ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.*
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے*
اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی
*لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے*
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
Copy
جو لوگ دن رات سوشل میڈیا پر شکوے کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے حق کے لیے نہیں نکلتے وہ جان لیں کہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکلے ہیں۔ دونوں جگہوں پر کئی دھرنے جاری ہیں مگر میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ سے خبر دبائی جا رہی ہے۔ اب آپکی ذمہ داری ہے کہ کھل کر انکی کوریج سوشل میڈیا پر کریں انکی آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ تاکہ مایوسی کی جگہ امید جنم لے۔۔۔
بلوچستان کے شہداء کے والدین
جوان بیٹے مارے گئے ہیں
کہیں سات بہنوں کا اکلوتا بھائی مارا گیا ہے
پاکستانی میڈیائی چکلوں پر لعنت جو اس بربریت پر بول نہیں سکتا
یہ کیسی ریاستی پالیسی ہے کہ خبر نہ نکلے
اُمِ رباب کے کزن کو جو اُمِ رباب کے دادا، والد اور چاچا کے قتل کیس کا مشیر تھا اُسے بھی کل رات قتل کردیا گیا اور قتل کرنے والے وہی ہیں جنہوں نے اُمِ رباب کے دادا، والد اور چاچا کو قتل کیا۔۔۔۔
قاتل سرِ عام قتل کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کے زور پر۔۔۔
بلوچستان میں راستہ بھولنے کی پاداش میں دہشت گردوں کا نشانہ بننے والی اس فیملی کی خاتون کی جرات کو سلام۔۔۔۔۔پانچ گولیاں میاں کو لگیں۔۔۔خود کو چار۔۔۔۔دو منٹ کے اندر سب کے نام بدل گیے۔۔۔۔میاں مرحوم ۔۔۔خود بیوہ ۔۔۔بچیاں یتیم ۔۔۔۔مگر آفرین ہے اس کی ہمت پر۔۔۔۔رات ایک بجے سے صبح سات تک۔۔۔۔خود بلیڈ کرتی رہی۔۔۔زخموں سے خون رستا رہا۔۔۔۔جاں بحق میاں کی باڈی کے ساتھ صرف بچیوں کو سنبھالتی رہی ۔۔۔۔کہ یہ بچ جائیں۔۔۔مسلسل پولیس اور فیملی کو فون۔۔۔۔مگر پولیس نے مدد نہ کی کہ شاید یہ کال ٹریپ کرنے کے لئے کی جا رہی ہے کہ پولیس والوں کو اس ویران علاقے میں بلا کر گھیر کر مارا جا سکے۔۔۔۔
گھر والے جگہ کو locate نہ کر سکے۔۔۔۔چھ گھنٹے بعد مسلسل بلیڈنگ سے غنودگی ہونے لگی۔۔۔تو چھوٹی بچی کو بس یہی کہہ سکی۔۔۔بیٹا اگر میں سو جاؤں تو فون کو پاور بینک سے چارج رکھنا اور پھپھو کو فون کرتی رہنا۔۔۔
اللہ اکبر۔۔۔۔ماں تیری عظمت کو سلام۔۔۔۔۔
خدا غارت کرے ان ظالموں کو جنہوں نے ہنستے بستے گھر کو اجاڑا ۔۔ اور اللہ اس آئرن لیڈی کو اس غم کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرات عطا فرمائے ۔۔۔امین