وُہ دے رہا ہے ”دِلاسے“ تو عُمر بَھر کے مُجھے
بچھڑ نہ جائے کہِیں‘ پھر اُداس کر کے مُجھے
جہاں نہ تُو‘ نہ تیری یاد کے قدم ہوں گے
ڈرا رہے ہیں وُہی مرحلے‘ سفر کے مُجھے
ہَوائے دشت،،، مُجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ !
کہ اب تو بُھول گئے راستے بھی گھر کے مُجھے
یہ چند اشک بھی تیرے ہیں شامِ غم‘ لیکن
اُجالنے ہیں ابھی خال و خد سَحر کے مُجھے
دلِ تباہ‘ تِرے غم کو ٹالنے کے لیے !
سُنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مُجھے
قبائے زخم ـــــــــ بدن پر سجا کے نِکلا ہُوں
وُہ اب مِلا بھی تو دیکھے گا آنکھ بھر کے مُجھے
کُچھ اِس لیے بھی مَیں اُس سے بچھڑ گیا محسنؔ
وُہ دُور دُور سے دیکھے،،، ٹھہر ٹھہر کے مُجھے
(شاعرِ درد)
"محسنؔ نقوی"
میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
دور و نزدیک سے اٹھتا نہیں شورِ زنجیر
اور صحرا میں کوئی نقشِ کفِ پا بھی نہیں
بے نیازی سے سبھی قریہء جاں سے گزرے
دیکھتا کوئی نہیں ہے کہ تماشا بھی نہیں
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
کس کو نیر گئی ایّام کی صورت دکھلائیں
رنگ اڑتا بھی نہیں، نقش ٹھہرتا بھی نہیں
ڈاکٹر اسلم انصاری
وکھو وکھرے منجیاں جُلّے ہو گۓ نیں
جنّے ویر ساں اونے چُلّھے ہو گۓ نیں
ہور تے کجھ نہی ہویا تیرے رسّن نال
ہاں پر میرے کپڑے کُھلّے ہو گۓ نیں
میں یاراں دی محفل وچ اضافی ساں
میرے اٹھیاں کُھلّے ڈُلّھے ہو گۓ نیں
گوہر وریاہ
#Punjabi#Poetry
اِک دُوجے تَوں اَکے لوک
کھاؤندے پھر دے دھکے لوک
اپنیاں نالوں اوبڑ چَنگے
کی کرنے نے سَکے لوک
جِنے مُنہ نے اونیاں گلاں
ہُن نی جاندے ڈَکے لوک
پہلے بَندیاں دا دل توڑن
فیر ٹُر پیندے مَکے لوک
#Punjab#Punjabi#Poetry
بانہواں پا کے بانہواں دے وچ
اُڈ دے پِھریے ہواواں دے وچ
راہواں ویکھن والے اکثر
رہ جاندے نے راہواں دے وچ
اوہدے ہتھ دی چُوری کھا کے
کاں نی بہندا کاواں دے وچ
نبیل نجم
#Punjabi#Poetry
#اردو_زبان
یہ کہنا چاند نکلتا ہے بام پر اب بھی
مگر نہیں ہے وہ راتوں کا اب مزا کہنا
یہ کہنا ہم نے ہی طوفاں میں ڈال دی کشتی
قصور اپنا ہے دریا کو کیا برا کہنا
یہ کہنا تم سے بچھڑ کے بکھر گئے محسن
کہ جیسے ہاتھ سے گر جائے انا کہنا..۔۔!!!
محسن نقوی