مرض بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔
غاصب عاصم منیر کے حکم پر نہتے اور پُرامن پاکستانیوں کے قتلِ عام کے پانچ ہولناک واقعات:
1. لاہور، 9 مئی 2023
2. اسلام آباد ڈی چوک، 26 نومبر 2024
3. آزاد کشمیر، 1 اکتوبر 2025
4. مریدکے، 13 اکتوبر 2025
5. راولاکوٹ، 8 جون 2026
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔”
- عمران خان
#ذہنی_مریض
پرویزمشرف اگر ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس میں کیپٹن حماد کو نہ بچاتا اور اس پر احتجاج کرنے والے نواب اکبر بگٹی کو آپریشن میں قتل نہ کیا جاتا تو آج بلوچستان کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ بی بی سی رپورٹ
قانون وآئین کی پامالیاں کرنے والا آمر، نہتے پاکستانیوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والا ظالم ملک وقوم کا دشمن اور صیہونیوں کا آلہ کار ہے۔ شیر نہیں بلکہ ٹرمپ کا پالتو ہے۔
حسان نیازی کے جیل میں ایک ہزار دن مکمل۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کی قید کو آج ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں۔ حسان خان کو 13 اور 14 اگست 2023 کی درمیانی شب ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا سے ملٹری تحویل میں لیا گیا۔ چند دن بعد لاہور ہائی کورٹ میں فوج کی EME برانچ کے کمانڈنٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر جھوٹ پر مبنی کاغذی کارروائی کی اور مملکت کی اعلیٰ عدالت میں رعونت تکبر سے بھرا ایک خط SHO تھانہ سرور روڈ لاہور کے نام تھا جس میں غیر قانونی کارروائی کا برملا اعتراف تھا۔ میں SHO کو حسان خان کو فوج کے سپرد کرنے کا کہا گیا تھا، جبکہ حسان خان پہلے ہی ایبٹ آباد سے گرفتار ہو کر فوجی تحویل میں جا چکا تھا۔ ازراہِ تفنن اور اطمینانِ قلب کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ ایک طاقتور ادارہ، ایک عام شہری کی طرح جھوٹ، بزدلی اور آئین و قانون سے انحراف کا مرتکب پایا گیا اور اس معاملے میں عام شہری سے بھی زیادہ مستعد نظر آیا۔ حیف! آج اگر ریاست پچیس کروڑ عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ سے قاصر ہے تو اس کی بنیادی وجہ مقتدرہ کی بداعمالیاں، لاقانونیت اور طاقت کے بے جا استعمال کی روایت ہے۔ چنانچہ حسان خان کے خلاف غصے، انتقام اور لاقانونیت کا یہ طرزِ عمل سمجھ میں آتا ہے۔ جس انداز سے طاقتور حلقوں نے آئین، قانون اور عدالتی نظام کو روندتے ہوئے حسان خان کو لاقانونیت کی بھینٹ چڑھایا، مجھے ایسے لوگوں کی بے بسی اور اخلاقی زوال پر ترس ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت محض ایک مہرۂ ناچیز ہے، لیکن جب موجودہ اقتدار کی شیلف لائف مکمل ہو جائے گی تو جن ہاتھوں نے انہیں اقتدار بخشا، انہی ہاتھوں کے ذریعے انہیں جیلوں کا راستہ بھی دکھایا جائے گا کہ پاکستان میں سات دہائیوں سے اقتدار اور جیل کی چھپن چھپائی جاری ہے، مگر ہمارے سیاستدان اس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔
مجھے اس موقع پر نہ کوئی ذاتی شکوہ بیان کرنی ہے، نہ سیاسی نعرہ بازی اور نہ نفرت کی کوئی داستان سنانی ہے۔ مجھے صرف ریاست کی حالتِ زار، اس کی کسمپرسی اور اس بدنصیب ملک کی تقدیر پر افسوس کا اظہار کرنی ہے، جہاں بے پناہ طاقت رکھنے والے اداروں کو بھی جھوٹ اور لاقانونیت کے سہارے مقصد براری کرنی ہوتی ہے۔ دہائیوں سے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کا نام دے کر پارلیمان، آئین، قانون اور عدالتی نظام کو مفاداتی ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے، تمام آئینی اداروں کو بزورِ طاقت گھر کی لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ بدنصیب مملکت سات دہائیوں سے یہ سب بھگت رہی ہے اور سیاسی ابتری میں نام پیدا کر چکی ہے اور ہر دس سال بعد زیرو پوائنٹ سے کچھ پیچھے اپنے سفر کا نئے سرے سے آغاز کرتی ہے۔
آج جہاں میں اپنے بیٹے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں کہ اس نے ایک ہزار دن غیر قانونی اور غیر انسانی قید و بند کو صبر، استقامت، حوصلے، جرأت اور ذہنی مضبوطی کے ساتھ برداشت کیا، جو میرے لیے باعثِ فخر ہے، وہاں مجھے اس بات پر بھی مکمل اطمینان ہے کہ وہ ظلم، غیر قانونی حراست اور ریاستی جبر کے باوجود نہ ٹوٹا، نہ جھکا اور نہ ہی مایوس ہوا۔ اصل المیہ صرف حسان خان یا فرد واحد کی قید نہیں بلکہ اصل سانحہ آئینی، قانونی اور عدالتی نظام کا انہدام ہے کہ قانون اور عدالتی نظام کو پامال کر کے میرے بیٹے حسان خان کو غیر قانونی فوجی تحویل میں لیا گیا اور فوجی عدالتوں سے دس سال قیدِ بامشقت کی سزا دلوائی گئی۔ اس عمل میں آئین اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے اور عدالتی نظام کو عملاً بے اختیار بنا دیا گیا۔ 14 اگست، یومِ آزادی کے دن گرفتار کیا گیا، دو سے ڈھائی ماہ تک نہ اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا، نہ خاندان کو رسائی دی گئی اور نہ قانون کے تقاضے پورے کیے گئے، گویا ریاست خود اپنے آئین اور قوانین سے ماورا ہو چکی تھی۔ دسمبر 2024 میں فوجی عدالت نے میرے بیٹے کو دس سال قید کی سزا سنائی، مگر آج 10 مئی 2026 تک نہ فیصلے کی مصدقہ نقل فراہم کی گئی، نہ قانونی جواز بتایا گیا اور نہ شفاف عدالتی کارروائی کے بنیادی اصول پورے کیے گئے۔ یہ صرف انصاف کا قتل نہیں بلکہ آئین، عدلیہ اور شہری آزادیوں پر ایک سنگین حملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے خود قرار دیا تھا کہ ایسے متاثرین کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، سپریم کورٹ کے حُکم کے باوجود،دس ماہ سے حسان کی دائرُ درخواست ضمانت سماعت کے لئیے ایک عدد بینچ کی تلاش میں ہے، پانچ بنچوں سننے معذرت کر چکے ہیں عدالتی تاریخ کا پہلا واقع کہ سال ہونے کو ہے یہ فیصلہ نہیں ہو پارہا کہ درخواست سماعت کے لئیے ہائی کورٹ بینچ کی متلاشی ہےصورتحال واضح کرتی ہے کہ ملک میں قانون کی نہیں طاقت کی حکمرانی ہے۔ریاستی طاقت نے آئین، قانون اور انصاف کو پامال کر رکھاہے۔ اقتدارکا گھمنڈ اگرچہ یقین دلاتاہے کہ عروج دائمی ہے، مگر زوال ہمیشہ خاموشی سے اتا ہے اور انجام عبرتناک بنتا ہے
نورین خانم !
#imrankhan
ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرا گر، عاصم منیر کی قائم کردہ بادشاہت یہ ثابت کر رہی ہے کہ عمران خان کی عوام دوست حکومت ہٹا کر اور پھر جعلی مینڈیٹ کے ذریعے صرف کچھ لوگوں کے اقتدار اور ذاتی مفادات کو تحفظ دیا گیا ہے ۔۔!!
عمران خان کے لیے دعا کرو،اس نے ہمیں بہترین لیڈر دیا،، عمران خان جیسا درویش سچا، کھرا اور دین کا درد رکھنے والاحمکران میں نے نہیں دیکھا ہے،
مولانا طارق جمیل....❤️
نظام کے سبھی چہرے بےنقاب ہو چکے ہیں اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے!
اصل یہودی ایجنٹ کون ہے؟ وہ جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت پر سیاہی انڈیل کر فخر سے فوٹو شوٹ کر رہے ہیں یا وہ جو لا الٰہ الا اللہ کا نعرہ لگانے کی پاداش میں زندان میں قید ہے۔
#AllowAccessToImranKhan
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
رپورٹس کے مطابق عمران خان (central retinal vein occlusion) سے متاثر ہیں۔ اگرچہ ہم اس کی خود آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن ہم شدید تشویش کا شکار ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کی ایک ٹیم کو فوری طور پر ان کے علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔
#SKMCH
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
“Asim Munir is a mentally unstable person whose moral degradation has led to the complete collapse of the Constitution and the rule of law in Pakistan, leaving the fundamental human rights of every Pakistani unprotected.
My wife and I have been imprisoned on fabricated charges at his command, and we are being subjected to severe psychological torment. I have been completely isolated in a cell, placed in solitary confinement. For four weeks I was not permitted to see a single human being, and I was kept entirely cut off from the outside world. Even the basic necessities guaranteed under the jail manual have been denied to us.
Despite the orders of the High Court, first my meetings with my political colleagues were prohibited, and now even my meetings with my lawyers and family have been stopped. Any human rights charter will show that psychological torture is classified as 'torture', and it is regarded as even more severe than physical abuse.
My sister Noreen Niazi was dragged on the road simply because she demanded her rightful meeting with me. Only a man like Asim Munir could sanction such conduct. He has imprisoned Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, purely out of political vengeance. My wife, Bushra Begum, has been imprisoned only to exert pressure on me. Even her children are not allowed to meet her, and she has been deprived of all facilities. These examples reveal the character and mental disposition of this man.
Enduring solitary confinement is extremely painful, but I am bearing it only for the sake of my nation. Until the nation itself breaks the chains of slavery, the mafias imposed on Pakistan will continue to exploit it. The extension mafia, land mafia, sugar mafia, and mandate-thief mafia will keep this nation enslaved until the people themselves rise. Today you are their slaves; your future generations will be slaves to their generations. If you want to break this cycle, the nation must break the chains of enslavement itself and stand up for Haqeeqi Azadi (genuine freedom).
There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.
I have always stated that drone attacks and military operations on our own people only fuels terrorism. Asim Munir’s policies are disastrous for this country. It is because of his policies that the scourge of terrorism has spiraled out of control, which deeply grieves me. He has no regard for the interests of his own nation. Whatever he is doing is merely to please the Western world. He deliberately ignited tensions with Afghanistan seeking to portray himself internationally as a ‘mujahid’ (warrior). He first threatened Afghans, then expelled refugees by force, and conducted drone strikes on them; the consequences of which came in the form of rising terrorism inside Pakistan. This man has sacrificed the country to terrorism for his own personal interests.
Sohail Afridi is commendable because he chose resistance over reconciliation during repressive times. My message to Sohail Afridi is to continue playing on the front foot. There is no law or constitution in this country. The law is invoked only against Pakistan Tehreek-e-Insaf; everyone else remains exempt. Whatever Sohail Afridi is doing, he should continue. He has my full support.
As for those issuing threats of Governor’s Rule: impose it right away instead of waiting, and then see consequences for themselves!
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 1/2
آج یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد بس دعا ای ہے کہ اللّٰہ اس ملک کی عوام کے لئیے آسانیاں کرے، اللّٰہ اس ملک کی عوام کو غیرت اور شعور عطا کرے۔
اللّٰہ ہی اس اندھیرے سے اس عوام کو نجات دلائے آمین۔