کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ دیا جائے۔
آوازیں، چہروں کی بھیڑ، لفظوں کی دنیا، سب کچھ۔
ایسا لگتا ہے جیسے ہر دن ایک سا ہے اور ہر رشتہ صرف رسم بن چکا ہے۔
اندر ایک خالی پن ہے، جسے نہ کوئی محسوس کرتا ہے، نہ سمجھتا ہے
کیا بتاؤں کہ جو ہنگامہ برپا ہے مجھ میں
ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں
اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں..
وہ درجن بھر مہینوں سے
سدا ممتاز لگتاہے
نومبر کس لئےآخر
ہمیشہ خاص لگتاہے
بہت سہمی ہوئ صبحیں
اداسی سے بھری شامیں
دوپہریں روئ روئ سی
وہ راتیں کھوئ کھوئ سی
گرم دبیز ہواؤں کا
وہ کم روشن اجالوں کا
کبھی گزرے حوالوں کا
کبھی مشکل سوالوں کا
بچھڑ جانے کی مایوسی
ملن کی آس لگتاہے۔
اے روحِ من
محبت تم سے ہے اتنی
بیاں ہم کر نہیں سکتے
نا ہونگے جب تو یادوں کا
خزانہ چھوڑ جائیں گے
پڑھے گا جو بھی مجھ کو
اسکی آنکھیں بھیگ جائیں گی
زمانے کے لئے ایسا فسانہ چھوڑ جائیں گے