رات کے پہر ایک طرف یہ ہم پر ڈی چوک میں شیلنگ کرتے رہے
دوسری طرف ہم شیل کے ساتھ قیدی نمبر 804 کی سالگرہ جوش و جزبے کے ساتھ منا رہے تھے
ویڈیو میں شیل اور جشن ایک ��اتھ
آئی ایس ایف نے ملک میں طلباء تحریک چلانے کا اعلان کر دیا, بانی پی ٹی آئی اور اسیران کی رہائی سمیت آئین کی فوری بحالی پر مبنی 5 مطالبات پیش کر دیئے۔ ہم ملک بھر میں طلباء تحریک کا آغاز کرنے جا رہے ہیں تمام طلباء یونئینز کے پاس جائیں گے۔ ارسلان حفیظ صدر آئی ایس ایف
#StudentTehreek
خان صاحب کی رہائی کے لئے طلبا تنظیم کا حکومت کو 31 اگست کا الٹی میٹم ۔ اس کے بعد اڈیالہ جیل کی طرف احتجاج ہو گا انشاء اللہ۔ تمام کالج ، یونیورسٹی اور محب وطن تک اس پیغام کو پہنچا کر اس تحریک کا حصہ بنے۔
#Last_date_31_Aug_2024
آئی ایس ایف کے ان شاہینوں نے وطن عزیز کی خوشحالی اور خودمختاری کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ بے مثال ہیں اور قوموں کی تاریخ میں ایسے چہرے کم ہی میسر آتے ہیں جو اپنی ذات سے بڑھ کر ملک وقوم کا سوچیں،ان کی یہ قربانیاں انشاءاللہ رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک کو کرپٹ ٹولے سے نجات ملےگی
Dear Naeem Ul Haq, you will be always missed.
Today is 4rth Death Anniversary of a true and loyal friend to Chairman Imran Khan and voice of ISF & PTI workers.
All are requested to pray for his departured soul.
#RIPNaeemUlHaq
پاکستانی میڈیا آپ کو نہیں بتائے گا کہ مریم کو فارم 45 کے مطابق ہرانے والے شہزاد فاروق کو کس طرح جھوٹے دہشتگردی کے کیس میں پکڑ کر جیل بھیجا گیا، سنیے @SecKermani سے آنکھوں دیکھا حال
میرے پاکستانیو!
لامعنی بحثوں میں اُلجھ کر اپنے مقصد سے نظر نہیں ہٹائیں نہ کسی کو آپ کی توجہ بٹانے دیں۔ کون وزیر اعلی بنے گا، کون سپیکر۔ کس کو اپوزیشن لیڈر بنانا چاہئے، کون کونسی وزارت کیسے چلائیگا۔ ان پر بحث اور میمز ہم تب بنا لیں گے جب عمران خان انہیں دیکھ کر اور آپ کی رائے کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ فی الحال قوم نے مینڈیٹ عمران خان کو دیا ہے اور اس بھروسے دیا ہے کہ وہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی جو بھی فیصلہ کریگا ہماری بہتری کے لیے کریگا۔ اِس وقت افواہوں کا بازار گرم ہے، کئی ساتھی نیک نیتی میں ہی سہی، مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یاد رکھیں عمران خان کی ٹیم آپ ہیں۔ آپ کا فوکس آپ کے مینڈیٹ پر رہنا ضروری ہے۔ آپ کی دو دن کی بے توجہی کا فائدہ اٹھا کر جو ورداتیں ڈالی گئی ہیں اُن کی سنگینی کا اندازہ آپ کو آنے والے دنوں میں ہوگا۔
ہم ��ے ان انتخابات میں دیکھ لیا ہے کہ کیسے پاکستانی قوم نے ذات، زبان، برادری، طبقات سے بالاتر ہو کر عمران خان کے نام پر ووٹ دیاہے۔ کوئ ایک نشان نہ ہونے کے باوجود شہروں سے لے کر دیہاتوں تک ہر بچے، بوڑھے، جوان نے سینکڑوں نشان ازبر کر کے ان کو کامیاب کرایا ہے۔ ہم کہتے تھے کہ عمران خان پاکستان کی بقا کاضامن ہے قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی پاکستانیت کا علمبردار ہے۔ آج اسی خوف سے وہ تمام قوتیں جنہوں نے پاکستان کو تقسیم کرکے اپنی سیاست چمکائ۔ جنہوں نے پاکستان کی عوام کو اُن کے حقوق سے محروم رکھ کر اپنی دولتیں بڑھائیں۔ جنہوں نے پاکستانی قوم کی زندگیوں کا سودا کرکے اپنی ناجائز طاقت کو دوام دیا وہ سب مل کر اگر ایک عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حد تک جا رہی ہیں تو کسی کو کوئ گمان نہیں رہ جانا چاہئیے کہ عمران خان پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ استقامات سے، تحمل سے اپنی نظر منزل پر رکھیں۔ اپنا مینڈیٹ واپس ��ینا۔ اپنے لیڈر کو آزاد کرانا اِس وقت ہماری بقا کے لیے لازم ہے۔ آر او دفاتر کے باہر اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں۔ دنیا کے توجہ اِس وقت پاکستان پر مرکوز ہے سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو آگاہ کریں کہ آپ کے مستقبل کے ساتھ کس قدر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ کے پی اور پنجاب کی عوام جیسے ڈٹ کر اپنی لیڈرشپ کے ساتھ کھڑی ہے، میں سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی مقبولیت خود دیکھ کر آیا ہوں۔ وہاں کے لوگوں کی اگرچہ مین سٹریم میڈیا تک اس قدر رسائ نہیں ہے تو ہماری لیڈرشپ اور شہری علاقوں کے عوام پر دُگنا ذمہ داری ہے کہ جو ڈاکہ اُن کے مینڈیٹ پر ڈالا گیا ہے وہ اُس کا حساب لیں۔ بیرون ��لک پاکستانی ہزاروں کی تعداد میں اپنے خرچ پر پاکستان ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ آپ مہذب معاشروں کا نظام دیکھ چکے ہیں آپ جانتے ہیں اس وقت آپ کے ملک کے ساتھ جو کیا جارہا ہے دنیا کا کوئ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس بدترین دھاندلی اور ڈاکہ زنی کے خلاف متحرک ہوں یہ ملک آپ کی پہچان ہے آپ کی جڑیں گڑی ہیں یہاں۔
یاد رکھیں آج جس مقام پر ہم کھڑے ہیں یہاں تک دوبارہ پہنچنے میں ہمیں اگلی بار ۷۵ سال نہیں لگیں گے۔ ایک مرتبہ ہم نے غلامی تسلیم کرلی تو کوئ گمان نہ رکھیں اگلی بار یہ سفرہمیں ۱۹۴۷ سے دو سو سال پیچھے جاکر شروع کرنا پڑے گا۔
دو سال کا عرصہ تحریک انصاف اور میرے لئے مشکل ترین وقت تھا اور گزشتہ ایک سال میں جیل میں قید و بند کی صوبعتیں بھی برداشت کیں لیکن چوروں کے ہاتھ پر بیت نہیں کی اور ایک کٹھن راستے سے گزرنا پڑا ۔
مشکلات کے باوجود میں کل بھی تحریک انصاف کا حصہ تھی اور آج بھی ہوں میں اپنی قیادت ، کارکنان اور تمام ان لوگوں کی شکر گزار ہوں جنھوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا اور حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا ۔
تحریک انصاف میرا گھر ہے ، نظریہ ہے ، شناخت اور جدوجہد ہے میں کل بھی تحریک انصاف کا حصہ تھی اور ہمیشہ رہوں گی
میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں کل بھی اس پاک سر زمین کی خدمت کا جذبہ تھا آج بھی ہے کل بھی - کل بھی لیڈر ایک ہی عمران خان تھا آج بھی وہی ایک ۔
سب عہد وفا کے نام کیا ۔
پاکستان زندہ باد
میرا ابو وزیراعظم بن جائے،میری بیٹی وزیراعلی بن جائے
میرا ابو صدر بن جائے میرا بیٹا وزیراعظم بن جائے
ہمیں اقتدار دے دیں کابینہ ارکان دے دین
ہمیں صدر ،چئیرمین سینیٹ،گورنرز دے دیں
ہمیں پنجاب دے دیں ہمیں سندھ دے دیں
ہمیں پنجاب میں نہ چھیڑیں ہمیں سندھ میں نہ چھیڑیں
بس یہ چاہیےانکو