کبل، دیر، وزیرستان، ہنگو میں شہادتیں، بلوچستان میں شہادتیں۔ کسی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم، تو کہیں فصل تیاری سے قبل کاٹنے کا حکم!!!
جو ڈرون،لڑاکہ طیاروں، دھماکوں، میڈ اپ دہشت گردی کی پہنچ سے دور ہیں ان کے لیے ریاست ہر پر امن اجتماع کو نشانہ باندھ کر مقتل گاہ بنانے کے لیے تیارہے۔
میرے پاکستانیو!
روزانہ بنیادوں پر آئی ایس آئی پی آر کی پریس ریلیزز آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ ”کامیاب“ آپریشن کیا، پریس کانفرنسز میں ڈھائی دہشت گردوں کے مدمقابل ایک شہادت کو کارکردگی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ روز ہماری پولیس کے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں چلتی ہیں اور یوں سیکورٹی سٹیٹ کے نام پر جرنیلوں کی طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنی والی قوم، ہم واقعات کو حادثات اور پھر سانحات کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھی قوم بس اسی دن اسی ایشو پر ریکشن مانگتے ہیں پھر ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور آپریشن ایک اور بم دھماکہ، ایک اور ڈی چوک، ایک اور مرید کے، ایک اور راولا کوٹ۔ اور اگر کوئی ایک واقعے، ایک پالیسی کی نشاندہی کرے، دہرائے، بارہا بتائے، تاریخ کا سبق یاد دلائے تو جرنیل تو غدار قرار دیتے ہی ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن کو روز نیا مواد چاہیے وہ کہتے ہیں پرانا چھوڑو اب بتاؤ۔
ڈرون پر ٹویٹ کرو، شہید پر بات کرو۔
بیماری کی جڑ پر کیوں بات نہ کروں؟
اصل وجہ پر کیوں بات نہ کروں؟
میں اگر کہوں کہ دو دفعہ تو قوم کے ساتھ مل کر ان کو نکالا یہی جرنیلی اکاونٹس کہیں گے کہ وہ چھوڑو جو آج حالات خراب ہیں اس کا بتاو، اُس کا کیا؟
کیا ہماری اجتماعی یاداشت اتنی کمزور ہے یا تیز تر خبروں کی دوڑ میں ہم کل کی بات بھی بھولتے جا رہے ہیں؟
چند عسکری ٹاوٹس کے ذریعے اتنا کہا جاتا ہے کہ لمبی بات نہیں، پرانی بات نہیں ابھی کا بتاو، ہمارے نادان دوست بھی اسے بیانیے کا نشانہ بن کر ایشوز پر ریکٹ کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اسی بیانیے کی آڑ لے کر جرنیل اپنی ڈالری جنگ کی خواہش اور میڈ اپ دہشت گردی سے لے کر نہتے لوگوں پر گولی چلانے تک کے سوال سے بچ نکلتے ہیں۔
میرے پیارے پاکستانیو!
یہ لاشوں کی گنتی آپریشن کے اعداد و شمار اور ہر جنازے پر کندھا دینے والوں کے سوال کے بجائے ان کی ہر پریس ریلیز اور ہر ٹی وی ٹِکر پر سوال اٹھائیں کہ کیوں ہماری زندگیوں کا سودا کرنے کی پالیسی بنائ؟
دہشت گردی آئی نہیں لائی گئی۔
دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے اور لا کر بسائے گئے۔
یہ دعوی نہیں گزشتہ چار ساڑھے چار سال کا میرا ہر بیان، ہر ٹویٹ اور بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے یہ آگ جو آج گھر گھر تک آ گئی ہے اسی کی نشاندہی میں کر رہا تھا۔ پاکستان کے ہر چوک، چوراہے میں چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ لگے گی آگ تو آئینگے گھر سبھی زد میں۔ آپ کو بتایا کہ اپنی زندگی داو پر لگا کر مالاکنڈ کا امن اپنی قوم کے ساتھ بحال تو کر لیا لیکن یہ جرنیل فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ پھر وار کریں گے۔ مئی/جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنتے ہی اس کا ساماں کرلیا گیا تھا۔ دوبارہ پھر ان کو لایا گیا۔ سوال پوچھا کہ نکالنے کے بعد کیا آپ بارڈر محفوظ نہیں کر سکتے تھے؟بارڈر پر لگی باڑ کے باوجود پھر کیسے آئے؟ لیکن خاموشی سے اسی پالیسی کا تسلسل جاری رہا۔ میں ہی غدار۔ میں ریاست کا مجرم۔ میرے پوسٹر لگا کر اس پر غداری کا نعرہ چسپاں کروایا۔ مقدمے ایسے کہ سزا موت۔ سر کی قیمت الگ۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے لائے ہوں کو واپس بھیجنے پر مجبور کیا تو وہ ریاست جو دہشت گردوں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی ان کو واپس لوٹا کر، ان کے جانے پر پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینے لگی کہ بس تھوڑے سے تھے، بروقت کاروائی سے نکال دیے حالانکہ حقیقت میں جب قوم اٹھ کھڑی ہوئ اور پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا تو ان کا فقط اتنا کردار تھا کہ گاڑیاں لا کر انہیں سیف ایگزیکٹ مہیا کیا۔
پھر جب نو مئی کا بہانہ کرکے پی ٹی آئی اور ہم سب کو کرش کیا جا رہا تھا اس وقت جنوبی اضلاع میں انہیں دوبارہ داخلہ مہیا کیا گیا اور یوں ہر سمت آگ پھیلائ گئی۔ ڈرون، لڑاکا طیارے، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے۔۔ کب تک بند کمروں کے فیصلوں سے عام شہری سے لے کر فوج اور پولیس کے جوان تک شہید ہوتے رہیں گے؟ ہاں وطن پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا ہے مگر تم پہ مرنے کے لیے تو نہیں جنے گئے تھے یہ بیٹے۔
1/2
اے آئی سے کوڈنگ کیسے کی جاتی ہے
اے آئی سے کوڈنگ کرنے کے دو مقبول ذرائع ہیں۔ ایک کرسر اور دوسرا کلاڈ ۔ جنہیں پروگرامنگ آتی ہے وہ کرسر اے آئی cursur ai استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ vs studio کی طرح کا IDE مہیا کرتا ہے جہاں آپ کوڈنگ کرتے ہیں اور ساتھ اے آئی آپکی رہنمائی کرتا رہتا ہے مشورے دیتا ہے۔ کوڈنگ کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور غلطیوں کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔
دوسرا طریقہ کلاڈ ہے۔ اس میں اگر آپ مستند پروگرامر نا بھی ہو تو آپ ایپس ڈیویلپ کرسکتے ہیں۔ لیکن آپ کو اچھے سے پتہ ہونا چاہئے کہ آپ بنانا کیا چاہتے ہیں۔ آپ جو ایپ بنانا چاہتے ہوں اس کی تفصیل پرامپٹ کے ذریعے کلاڈ کو دیجئے اور کلاڈ پروگرامنگ کرکے وہ ایپ یا پراڈکٹ بنا دیگا۔ جو کمی بیشی ہو اسے کلاڈ کو مزید پرامپٹ دیکر بہتر بنا لیں۔ کلاڈ CLI ٹرمینل استعمال کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ آپ کو کمانڈ دیتا ہے کہ ٹرمینل میں چلادیں۔
کرسر استعمال کرنا کلاڈ کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہے۔ ویسے اگر کلاڈ کو احتیاط سے استعمال نا کریں تو وہ بھی کافی مہنگا پڑ سکتا ہے۔ میں آئندہ کسی ٹویٹ میں بتاؤنگا کہ کیسے کلاڈ کو کفایت سے استعمال کیا جا سکتا ہے
کرسر وہی ایپ ہے جسے ایلن مسک کی کمپنی نے حال ہی میں ساٹھ بلین ڈالر کا خریدا ہے اور ہو سکتا ہے جلد ہی کرسر گروک کے ساتھ دستیاب ہو۔ ویسے حال ہی میں گروک نے اپنا کوڈنگ ٹول لانچ کیا ہے جس کا نام grok 4.5 ہے۔ ابھی میں نے یہ استعمال نہیں کیا ہے۔ جب یہ استعمال کرونگا تو اس بارے میں بھی بتاؤنگا
کیا آپ کوڈنگ کیلئے AI استعمال کرتے ہیں؟
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
پاکستان کے خلاف کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی اشتعال انگیزی یا جارحیت ہوتی ہے تو بغیر کسی خوف اور ڈر کے ہم پاکستان کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائینگے۔ یہ صرف حکومت خیبر پختونخوا نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہے۔ اندرونی اختلاف اور غلط پالیسیوں پر تنقید کے باوجود بیرونی سازشوں یا جارحیت میں ہم اپنے ملک اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
وفاقی نمائندوں سے میں نے اپنی آخری ملاقات میں عمران خان صاحب کی دی گئی ہدایات کو آن ریکارڈ لایا تھا۔
”اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ “عمران خان
”تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔ “عمران خان
عمران خان صاحب کے ان ہدایات کے تناظر میں، میں نے وفاقی نمائندوں کو نیشنل جرگہ بنانے کا مشورہ دیا جس میں صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے، قبائلی مشران اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مشران شامل ہو۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے مسائل بہترین انداز میں حل ہونگے۔ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ جنگ سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
We categorically REJECT all the medical reports circulating in the media regarding Imran Khan. Our doctor, Dr. Asim Yousif spoke to the doctors last night, who explained the procedure and treatment carried out, but as Dr. Asim Yousuf stated in his video, there is NO way for us to verify any of this.
Now we are even more concerned and worried and our demand remains unchanged: Imran Khan must be urgently transferred to a proper medical facility (Shifa International Hospital Islamabad) where he shall be examined by qualified specialists under Dr. Asim Yousuf’s supervision and in the presence of his family.
Tomorrow, we will be at Adiala Jail at 1:30pm, and we expect the authorities to allow us to meet Imran Khan as this is his legal right. The family will also hold a press conference outside Adiala at 4pm after our meeting with Imran Khan.
Our demand has been clear from the beginning: Imran Khan has to be examined and treated by specialist doctors in the presence of his personal doctor (Dr. Asim Yousaf) along with a family member present at Shifa International in Islamabad.
The Govt rejected the specialist recommended by our doctors, so they were provided with alternative names. We had given Dr. Uzma Khan’s name to represent our family. We were told that Imran Khan’s sisters will not be permitted and we must provide an alternative name to represent the family. We then gave them our cousin Dr. Nausherwan Burki’s name to represent the family. We are very disturbed when they rejected his name as well.
This is unacceptable! Our concerns are growing as to WHY are they rejecting our family member to be present? Are both names (Dr. Uzma and Dr. Nausherwan) being rejected because they are highly qualified doctors?
The last 3 months I’ve been raising funds in USA for Imran Khan’s Shaukat Khanum Cancer Hospital.
I’m deeply saddened to hear the news of him losing vision in his eye. I hope he gets the best treatment and I’m wishing him a speedy recovery.
The Chief Justice of Pakistan had directed that Imran Khan be allowed to speak with his sons. We can confirm that he was able to speak with them for approximately 20 minutes. His sons shared that he was extremely happy to hear their voices after such a long time.
We are now awaiting his urgent medical treatment at Shifa International Hospital Islamabad under the supervision of his personal doctors, where specialist doctors must make every possible effort to restore his eyesight. The intentional delay in providing him timely treatment has already caused damage to his eyesight. We cannot and will not tolerate any further delay, and immediate specialist care is essential to prevent any permanent loss of vision.
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
“To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.
At this moment, Pakistan is being governed solely under “Asim Law”. Here, verdicts are pre-written and merely announced aloud. Like the baseless decisions and sentences of the past three years, the Toshakhana 2 verdict is nothing new for me. This ruling, too, was delivered in haste, without any evidence and without fulfilling legal requirements. Neither we nor our lawyers were even given opportunity to present our case.
The sustained solitary confinement imposed on me and my wife constitutes severe mental torture. We are barred from books, television, and meetings. Although television access is granted to every other prisoner, even this fundamental facility has been withheld from me and Bushra Bibi. The books sent by my family are confiscated by jail authorities, and we are kept in solitary confinement for weeks at a time. This treatment is inhumane, yet all this oppression and brutality cannot weaken my resolve.
It is not our tradition to target women and children. Our religion mandates mercy toward women even during warfare, yet here they are being persecuted purely out of political vendetta. I am deeply saddened and distressed by the mistreatment and brutality faced by my sisters and other women outside Adiala Jail. The treatment meted out to Bushra Bibi, Dr. Yasmin, Mahrang Baloch, and other women stands in clear violation of Islamic traditions and moral values. Bushra Bibi, my wife, has been subjected to solitary confinement purely because of personal hostility towards me, even though she has no political role and is a homemaker.
The army is mine and belongs to the people of Pakistan. When I criticize Asim Munir, it is criticism of an individual, just as past dictators were criticized. Asim Munir did not come into power through a public referendum or popular vote. Whatever is happening to me in jail is being carried out on the instructions of a colonel acting under Asim Munir’s orders.
The rule of law in Pakistan has been severely undermined. Just as in 2007, PCO judges who sided with a dictator and tarnished the sanctity of the judiciary earned no respect, while those who resisted were hailed as national heroes. Similarly, today, the judges who are resisting this system are our heroes, while those acting as puppets, obediently following orders, lack conscience and are no different from the PCO judges of the Musharraf era.
For the struggle to restore the rule of law and uphold the Constitution, it is essential for the Insaf Lawyers Forum and legal fraternity to step forward decisively. Only a just legal system can safeguard the people; without it, neither economic progress nor moral development is possible.
I have full confidence in Salman Safdar and his team and have instructed them to file an appeal against these bogus decisions in the Islamabad High Court.
My message for Sohail Afridi is to prepare for a street movement. The entire nation must rise for their rights!!
To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his lawyers after the verdict of a military-style trial in Adiala Jail - (20 December, 2025)
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
Mehmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas are extremely respectable to me. They are pro-democracy and principled individuals. I am surprised that their notification has not yet been issued. I direct Pakistan Tehreek-e-Insaf’s parliamentary group to protest this matter before the Speaker and Chairman Senate so that their notification as Leader of the Opposition may be issued. Moreover, for any movement against the existing system, PTI must fully comply with any call issued by Tehreek Tahaffuz-e-Ayeen Pakistan.
I hereby dissolve the PTI Political Committee. The party’s Secretary-General, Salman Akram Raja, has full authority to constitute a new, concise committee that will devise political strategy and ensure its implementation.
I nominate Shahid Khattak as Pakistan Tehreek-e-Insaf’s Parliamentary Leader in the National Assembly.
In the Pakistan Bar elections, PTI must unite to fully support those candidates nominated by Salman Akram Raja and Hamid Khan. In Khyber Pakhtunkhwa, the matters of the lawyers, the bars and the ILF shall be reviewed personally by Sohail Afridi, who will take whatever decisions are necessary for improvement.
Agriculture is the backbone of our economy, and its current state is alarming. The way the rights of farmers are being plundered is extremely regrettable.”
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 2/2
“Asim Munir is a mentally unstable person whose moral degradation has led to the complete collapse of the Constitution and the rule of law in Pakistan, leaving the fundamental human rights of every Pakistani unprotected.
My wife and I have been imprisoned on fabricated charges at his command, and we are being subjected to severe psychological torment. I have been completely isolated in a cell, placed in solitary confinement. For four weeks I was not permitted to see a single human being, and I was kept entirely cut off from the outside world. Even the basic necessities guaranteed under the jail manual have been denied to us.
Despite the orders of the High Court, first my meetings with my political colleagues were prohibited, and now even my meetings with my lawyers and family have been stopped. Any human rights charter will show that psychological torture is classified as 'torture', and it is regarded as even more severe than physical abuse.
My sister Noreen Niazi was dragged on the road simply because she demanded her rightful meeting with me. Only a man like Asim Munir could sanction such conduct. He has imprisoned Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, purely out of political vengeance. My wife, Bushra Begum, has been imprisoned only to exert pressure on me. Even her children are not allowed to meet her, and she has been deprived of all facilities. These examples reveal the character and mental disposition of this man.
Enduring solitary confinement is extremely painful, but I am bearing it only for the sake of my nation. Until the nation itself breaks the chains of slavery, the mafias imposed on Pakistan will continue to exploit it. The extension mafia, land mafia, sugar mafia, and mandate-thief mafia will keep this nation enslaved until the people themselves rise. Today you are their slaves; your future generations will be slaves to their generations. If you want to break this cycle, the nation must break the chains of enslavement itself and stand up for Haqeeqi Azadi (genuine freedom).
There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.
I have always stated that drone attacks and military operations on our own people only fuels terrorism. Asim Munir’s policies are disastrous for this country. It is because of his policies that the scourge of terrorism has spiraled out of control, which deeply grieves me. He has no regard for the interests of his own nation. Whatever he is doing is merely to please the Western world. He deliberately ignited tensions with Afghanistan seeking to portray himself internationally as a ‘mujahid’ (warrior). He first threatened Afghans, then expelled refugees by force, and conducted drone strikes on them; the consequences of which came in the form of rising terrorism inside Pakistan. This man has sacrificed the country to terrorism for his own personal interests.
Sohail Afridi is commendable because he chose resistance over reconciliation during repressive times. My message to Sohail Afridi is to continue playing on the front foot. There is no law or constitution in this country. The law is invoked only against Pakistan Tehreek-e-Insaf; everyone else remains exempt. Whatever Sohail Afridi is doing, he should continue. He has my full support.
As for those issuing threats of Governor’s Rule: impose it right away instead of waiting, and then see consequences for themselves!
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 1/2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2