آپ مجبور ہیں، آپ اپنی ڈیوٹی ادا کریں… ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ۔”
گرفتاری سے قبل ریحانہ ڈار کے یہ الفاظ اس عزم کی گواہی ہیں کہ جبر، گرفتاریوں اور ریاستی طاقت سے اب ہمیں خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
بانی چیئرمین عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اگر اس حق کی پاداش میں گرفتاریاں ہی جواب ہیں تو ہم یہ قیمت بھی ادا کریں گے، مگر آئین، جمہوریت اور عوام کے مینڈیٹ کی جدوجہد سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ گرفتاریاں ہمارے حوصلے نہیں، صرف حکمرانوں کا خوف ظاہر کرتی ہیں۔ ان شاء اللہ، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔✌️🇵🇰
#KhanIllegallyJailed3Years
کوئی بھی احتجاج ہو کوئی بھی سیاسی ��عاملہ ہو اس میں سب سے گھٹیا کردار ہماری پنجاب پولیس ادا کرتی ہے
پنجاب پولیس کبھی ادارہ بن ہی نہیں سکی
اگر وہ ایک ادارہ ہوتی تو کبھی بھی مظلوموں پر ظلم نہ کرتی
کچھ دیر قبل ایوان عدل میں وکلا اور کارکنوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے باوجود عوام بڑی تعداد میں ایوان عدل کی جانب بڑھ رہی ہے موجودہ وقت کے مطابق تین بج چکے ہیں اور لاہور میں عوامی جوش و خروش اپنی انتہا کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے
Thank you Lahore for the massive support & the biggest jalsa in my 26 years in politics; and the most responsive and passionate audience. #امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
تحریک انصاف کے خلاف لاہور میں کریک ڈاؤن کے دورا�� پولیس نے آج ٹی وی کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کو بدترین تشدد کرتے گرفتار کرلیا۔۔۔ مریم صفدر جانتی ہے اسے عوام شدید ناپسند کرتے ہیں اور اسے لاہور یا پنجاب کے کسی شہر سے ووٹ نہیں ملے، تو بدلہ لینا تو بنتا ہے۔
PAKISTAN: More than 38 hours since Mahrang Baloch's unlawful detention, she is still being denied access to her lawyers and family. There are also worrying reports of continued arbitrary arrests and detentions across Balochistan province.
Pakistani authorities must immediately release Mahrang Baloch and all others being detained for exercising their right to peaceful protest, and refrain from implicating Baloch activists in frivolous cases to unlawfully prolong their detention.
زرداری کے قریبی دوست اور منی لانڈرنگ والے مشہور شریک مجرم انور مجید کو بھی "ہلال امتیاز" والا تمغہ دیا گیا-
عمر فاروق ظہور جس نے توشہ خانہ والے تحائف دوبئی میں بیٹھ کر اتنی رقم میں خریدنے کا دعویٰ کیا تھا تاکہ نیب کا کیس بن جائے- آج اسے بھی "ہلال امتیاز" کا ایوارڈ دے دیا گیا ہے-
ظالمو، ہر روز پاکستان کا بطور ریاست مذاق اُڑانا ضروری کیوں سمجھتے ہو؟
#PakistanDay
تم اتنے بے غیرت ہو عورتوں کو گرفتار کرتے ہو، لڑنا ہے تو مردوں سے لڑو۔ @BBhuttoZardari
یہ والا بلاول زرداری کہاں ملے گا ؟
دو صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے�� دونوں صوبوں میں پولیس نے خواتین کو احتجاج کرنے پر بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا۔
ماہ رنگ بلوچ ، کیسا انقلاب :
کیا دن آ گئے ہیں کے بلوچستان جیسے زبردست صوبے ، جہاں بلوچ سردار ، بگٹی ، مینگل ، ماری ، مگسی ، رئیسانی ، لاشاری ، رند ، گچکی ، جمالی ، کرد ، قمبرانی ، ڈومکی ، کھوسہ ، مزاری ، لغاری، بلیدی ، جاموٹ ، نوتیزئی ، لہری اور بے شمار ، سالوں سے حکومت کرتے تھے وہاں ایک لڑکی زمین سے اٹھی اور اپنی بہادری اور سچائی کی وجہ سے پورے بلوچستان کی لیڈر بن گئی جسے اب بڑے بڑے سردار سلام کرتے ہیں اور لیڈر مانتے ہیں -
یہ آزادی اور شعورعمران خان کی جدوجہد اور تحریک کا نتیجہ ہے جو اسنے جوان پاکستانی قوم میں پھیلا دی ہے -
اب یہ انقلاب واپس نہیں کیا جا سکتا -
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا ٹیم اور میڈیا سے گفتگو
“13 جنوری 2024 کو تحریک انصاف کو عملاً ختم کرنے کی نیت سے انتخابی نشان سے محروم کرنے والا قاضی فائز عیسیٰ آج تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو چکا ہے ��بکہ تحریک انصاف اور عمران خان اپنے نظریے کے ساتھ آج بھی پورے قد سے کھڑے ہیں۔ بلاشبہ جھوٹ اور بد دیانتی کی عمر ہمیشہ تھوڑی ہوتی ہے اور سچ ہمیشہ رہنے والا ہوتا ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس میں جج صریحا غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔ القادر کیس کا ٹرائل ہمیشہ 11:30 سے 12 بجے کے درمیان شروع ہوتا ہے۔ کل بھی اس کیس کی سماعت کے لیے 11 بجے کا وقت مقرر تھا لیکن میرے وکلاء کی آمد سے بھی قبل قریباً 9 بجے مجھے اطلاع دی گئی کہ جج صاحب آ گئے ہیں۔ میری نقل و حرکت جیل تک محدود ہوتی ہے اور میرا قانونی حق تھا کہ میں وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو سکتا جن کو عدالت کی جانب سے 11 بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ پہل�� دو مقدمات میں جج ابولحسنات اور محمد بشیر میری عدم موجودگی میں فیصلہ سنا چکے ہیں بالکل اسی طرح اس کیس کا فیصلہ بھی سنایا جا سکتا تھا مگر میری عدم موجودگی کا جواز بنا کر فیصلہ موخر کر دینا انتہائی مضحکہ خیز اور عدالتی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس کا آغاز تب ہوا تھا جب حسن نواز شریف نے 9 ارب روپے کی پراپرٹی 18 ارب روپے میں ملک ریاض فیملی کو بیچی اور این سی اے نے مشتبہ ٹرانزیکشن پر کاروائی کا آغاز کیا ۔ این سی اے نے ہی ان سے سوال کیا کہ یہ جائیداد دگنی قیمت پر کیوں فروخت کی گئی ۔ سب سے پہلے تو نواز شریف اپنے بیٹے کا جواب دے کہ یہ 9 ارب روپیہ اضافی کس طرح انکے بیٹے نے ملک ریاض سے حاصل کیا ؟
جہاں تک ہمارے دور میں کابینہ کی اس حوالے سے ذمہ داری کا تعلق ہے تو یہ رقم براہ راست این سی اے نے ملک ریاض فیملی کے ذریعے پاکستان منتقل کی تھی اور ہمارا فرض صرف مخفی رکھنے کے اس معاہدے کو برقرار رکھنا تھا اور ہم نے پاکستان کے فائدے کے لیے منظوری دی کیونکہ اس سے پہلے ایک ساتھ پاکستان میں اتنی رقم کبھی نہیں آئی تھی۔
القادر ٹرسٹ کا اس رقم سے کوئی تعلق ہی نہیں وہ ٹرسٹ تو اس رقم کی آمد سے ایک سال قبل ہی قائم ہو چکا تھا اور اسکا مقصد صرف اور صرف دور دراز کے طلبا کو سیرت النبی ﷺ کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم دے کر انکے لیے علم کی شمع روشن کرنا تھا ۔
القادر ٹرسٹ سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ہے ۔ یہ ٹرسٹ شوکت خانم اور نمل کی طرز پر ایک فلاحی ادارہ ہے ۔ اس کو اگر بند بھی کر دیا جاتا ہے تو یہ رقم ان افراد کو واپس جائے گی جو اسکے donors ہیں مجھے اس رقم سے کوئی فائدہ ہے نہ نقصان۔
میں واضح کر دوں کہ میں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا چاہے یہ جو بھی حربے استعمال کر لیں میں کوئی نواز شریف نہیں ہوں جس نے اپنے اربوں کے کرپشن کیسز معاف کروانے ہیں ۔ میرا جینا م��نا پاکستان میں ہی ہے اور میں اپنی قوم کے لیے ہمیشہ کھڑا رہوں گا ۔
پاکستان میں سیاسی قیدیوں سے بدترین سلوک جاری ہے ۔ ملٹری تحویل میں ہمارے کارکنان کو سخت ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا یے ۔ میرے ساتھ بھی بدترین سلوک کیا گیا ۔ سمیع وزیر سمیت دیگر کئی کارکنان پر بیہیمانہ تشدد کیا گیا ۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی اس قانون اور انسانی حقوق کی پامالی پر ایکشن لیں۔ ہم اس حوالے سے سپریم کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دے چکے ہیں مگر کہیں ہماری شنوائی نہیں ہوئی-
ہمارے پاس بین الاقوامی فورمز پر آواز بلند کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے ۔ اس حوالے سے میں عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو ایک خط بھی لکھوں گا تا کہ ان بے قصور شہریوں کی شنوائی ہو ۔ میرا اوورسیز پاکستانیوں سے بھی مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے اپنی آواز بلند کریں ۔ ملک میں تحریک انصاف کو کچلتے کچلتے پورے نظام کو ہی روند دیا گیا ہے ۔
ملک میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے ۔ ایس آئی ایف سی اور اڑان پروگرام بری طرح ناکام ہوئے ہیں ۔ گروتھ ریٹ نہ بڑھنے سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، شاندار دماغ اور سرمایہ ملک سے تیزی سے باہر جا رہا ہے کیونکہ کسی کو اس ملک کے استحکام پر یقی�� نہیں رہا ۔ پاکستانی کمپنیاں اپنا کاروبار دبئی منتقل کر رہی ہیں ۔ ایسے ملک میں کبھی معاشی استحکام آ ہی نہیں سکتا جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ پاکستان معاشی بحران میں دب چکا ہے اور جب تک عوامی اعتماد کی حامل حکومت نہ لائی گئی -اس مسئلے کا کوئی حل ممکن نہیں ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“فارم 47 کی حکومت تو صرف ایک کٹھ پتلی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی کے بغیر ناشتہ بھی نہیں کر سکتے- یہ حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ اس کے دل میں چور ہے۔ نو مئی اور 26 نومبر کے سانحات کا حساب لیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا، اغواء کیا گیا، زخمی کیا گیا اور بے جا مقدمات قائم کر کے ملٹری حراست میں دیا گیا۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں سیکیورٹی فورسز اپنے ہی شہریوں پر سیدھے فائر نہیں کھولتیں مگر ہمارے کارکنان کے ساتھ یہ ظلم بھی کیا گیا۔ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام نا گزیر ہے اور کمیشن نہ بنانا حکومت کے جھوٹا ہونے کی نشانی ہے۔ یہ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کرتے تھے کہ ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں مگر حقیقت یہ ہے کے جب ہم ملک کی خاطر مذاکرات کے لیے آئے تو یہ کمیشن کا مطالبہ سنتے ہی دم دبا کر بھاگ گئے کیونکہ انکی نیت میں کھوٹ ہے۔
میرے خلاف جھوٹے مقدمات چلانے کے لیے پراسیکیوشن کو 50 کروڑ کی رقم ادا کی گئی اس کے علاوہ بھی ججز اور وکلاء پر حکومت کا پیسہ لگتا ہے یہ وہ پیسہ ہے جو عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کی صورت میں بھرتی ہے جسے سیاسی انتقام لینے کے لیے ضائع کیا جا رہا ہے۔ اسی عدم استحکام کی بدولت 2 سالوں میں 18 لاکھ لوگ یہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ہمارا نوجوان بے روزگاری اور لا قانونیت سے مایوس ہو کر باہر جا رہا ہے مگر کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔
پاکستان کی تمام ایجنسیوں کو تحریک انصاف کو کچلنے کے کام پر لگایا گیا ہے تا کہ 8 فروری کو اس ملک کی عوام کے مینڈیٹ پر جو شب خون مارا گیا وہ سامنے نہ آسکے اگر ایجنسیوں کو سیاست کے بجائے اپنا کام کرنے پر لگا��ا جاتا تو آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر نہ اٹھا رہا ہوتا۔
یحیٰی خان پارٹ 2 اور کٹھ پتلی حکومت مجھ پر جھوٹے مقدمات کا جواز بنا کر مجھے جیل میں رکھے ہوئے ہے۔القادر کا مقدمہ بھی بھونڈا ہے اور توشہ خانہ کا مقدمہ بھی۔
میں موجودہ چئیرمین نیب اور جج ناصر جاوید جس کی کارکردگی سپریم کورٹ کے فیصلے میں سب کے سامنے ہے کے خلاف اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کروں گا۔ نیب کا مقصد پاکستانی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نکلوانا ہے نہ کہ سیاسی انتقام کی غرض سے اسٹیبلشمنٹ کا آلہء کار بننا۔
ہائی کورٹ کی نئی تقرری، جج راجہ منہاس کو توشہ خانہ 2 کی اپیل کا کیس تھما دیا گیا جس پر مجھے شدید تحفظات ہیں۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو ارشد منہاس کا سگا بھائی نو مئی کے مقدمات اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں میرے خلاف وکیل اور پراسیکیوٹر ہے۔ راجہ منہاس ایک ایسی ترمیم ( 26 ویں آئینی ترمیم ) کی بابت جج بنے ہیں جس ترمیم کو ہم سرے سے مانتے ہی نہیں۔ یہ کٹھ پتلی ، نا مکمل اور جعلی پارلیمان کی جانب سے منظور کی گئی ایک غیر آئینی اور غیر قانونی ترمیم ہے، اس ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر رکھا ہے لہذا ان کو ہمارا کوئی بھی کیس اصول کے مطابق سننا نہیں چاہیے۔ توشہ خانہ کے معاملے پر ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج صاحبان اپنا فیصلہ دے چکے ہیں جس میں 6 ایک دوسرے سے منسلک معاملات تھے۔ ان سینئر جج صاحبان کے فیصلے کے بعد سب سے جونئیر جج کا اس کیس کو سننا نہیں بنتا۔ راجہ منہاس کی تقرری ایڈہاک بنیادوں پر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہوئی ہے اور چونکہ ان صاحب کو مستقل نوکری اس حکومت کی مرضی سے ملے گی جسے ہر حال میں مجھے پابند سلاسل رکھنا ہے لہذا یہاں مفادات کے ٹکراؤ کا نقطہ بھی سامنے آ جاتا ہے جس کی بنیاد پر راجہ منہاس کو توشہ خانہ کیس سے اصولاً اور اخلاقاً الگ ہو جانا چاہیے۔
القادر کے معاملے میں لندن کی عدالت کا فیصلہ بھی سامنے آ چکا ہے جس سے واضح ہے کہ یہ رقم حکومت نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آنی تھی۔ اسی لندن کی عدالت کے فیصلے سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہ کوئی منی لانڈرنگ یا کسی جرم کا پیسہ ثابت نہیں ہوا تھا۔ 21 اپریل 2020 کو القادر کے معاملے پر نیب نے ایک انک��ائری کمیٹی تشکیل دی جو چئیرمین نیب، ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر نیب اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب پر مشتمل تھی۔ انھوں نے اس انکوائری کی تحقیقات کر کے اس مقدمے کو بند کر دیا کہ اس مقدمے میں کچھ بھی ایسا موجود نہیں کہ اسے چلایا جا سکے۔ القادر کی دوبارہ انکوائری کا آغاز بدنیتی پر کیا گیا۔ اس میں بھی یہ ثابت ہوا کہ مجھے یا میری اہلیہ کو اس رقم یا منصوبے سے ایک ٹکے کا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے موجودہ چئیرمین نیب نے اپنے عہدے سے بددیانتی کرتے ہوئے اس کیس کو جاری رکھا۔
1/2
”اب وقت آگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ادارے اپنی خود کی ایک سیاسی جماعت بنا لیں جس کا نام ہو عسکری جمہوری پارٹی“
عدیل افضل نے دھاندلی زدہ الیکشن پر بھی خوب کھل کر بولا تھاایسے لوگ جو فسطائیت کے سامنے حق گوئی سے باز نہیں آتے وہی ملک کی تاریخ بدلتے ہیں ۔۔۔
جب دہشت گرد ملک پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، اُس وقت ہماری انٹیلیجنس ایجنسیاں عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ختم کرنے کے لیے 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے اور پی ٹی آئی ممبران کی اسکرپٹڈ پریس کانفرنسز کروا کر تحریک انصاف کو توڑنے میں مصروف تھیں!
#اپنا_ادارہ_ٹھیک_کرو
#BalochistanAttack
ڈی جی آئی ایس پی آر کو اس افسوسناک سانحے کے موقعہ پر سیاست پر بات نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ یہ وقت اتحاد کا متقاضی ہے۔ کامران صاحب نے روکنے کی کوشش بھی کی مگر وہ کہتے ہی چلےگئے۔۔۔
پی ٹی آئی اور اس کی قیادت پاکستان پر ہر طرح کے دہشت گرد حملے کی مزمت کرتی ہے ۔
اگر آٹھ فروری کو ادارے ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں کے ساتھ مل کر مینڈیٹ چرانے کی بجائے سرحدوں کی حفاظت اور آئین کی پاسداری کرتے تو اس وقت ملک میں دہشت گردی کی یہ لہر نہ چلتی جس میں متعدد معصوم جانوں کا ضیاع ہو چکاہے ۔
#پاکستان_زندہ_باد
#Wearenotfool