انڈین سٹوڈنٹ نے مست قسم ک�� لاٹھی چارج پر گانا رلیز کر دیا ہے بہت ہی عمدہ ہے
احتجاج کے لیے توڑ پھوڑ لازمی نہی ہے بس اپنے حق پر ڈٹ جانا اہم ہے احتجاج جمہوری حق اسے انجوائے کرنا ہے
��ودی کی بینڈ ٹھیک بجا رہے ہیں اور ڈٹے بھی ہوئے دنیا کی توجہ بھی لے پی ہے
عطاء اللہ عیسی خیلوی کی گائی ہوئی پہلی پہلی غزل جس نے انہیں شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا تھا۔
امید ہے اس غزل کے توسط بہت سے دوستوں کو پرانی یادیں تازہ کرنے کا موقع ملے گا۔
انڈین حکومت کا الزام ہے کہ طلبہ احتجاج کے پیچھے پاکستان ہے ۔ بنگلہ دیش میں بھی رضاکار لفظ کو گالی بنایا گیا تو وہاں گلی کوچوں میں ہم کون تم کون رضاکار رضاکار کے نعرے لگے ۔ لگ تو یہی رہا ہے ��ہ یہ طلبہ مجبوراً ہم پاکستانی ہیں کے نعرے لگائیں گے ۔
یہ لامین یمال کی دادی فاطمہ ہے جو مراکو سے ڈنکی مار کر ایک کشتی میں سپین پہنچی ساتھ اس کا سگا باپ جو ابھی صرف 38 سال کا ہے اس کی دادی حجاب لیتی ہے یہ عربی بولتے اور یمال مسلم ہے اور فٹ بال میچ میں بھی روزے رکھتا فلسطین اور اسلاموفوبیا پر بات کرتا ہے